ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: عمران خان غلطی کی گنجائش نہیں ۔۔۔!!
کالمکار:جاوید صدیقی
پاکستان اسلام کا قلعہ ھے ہر پاکستانی کنجر سے بھی بدتر حکمران کو بردشت کرسکتا ھے مگر کبھی بھی کسی بھی صورت گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرتد ملحد قادیانیت کو قبول نہیں کرسکتا۔ ہر پاکستانی میں یہ ایمان ھے کہ وہ ہر سختی ہر مصائب ہر آزمائش کو قبول کرسکتا ھے مگر کبھی بھی کسی بھی صورت گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرتد ملحد قادیانیت کو قبول نہیں کرسکتا۔ آصف علی زرداری کی سیاسی جماعت پاکستان پپلز پارٹی ھو یا نوزشریف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون یا پھر مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی جماعت جمیعت علماء اسلام ان تینوں اور انکی دیگر اتحادی سیاسی جماعتوں کی زرا سی بھی یہودیت و قادیانیت پرستی کا راہ اگر نظر آئی تو وہ ہر گز معافی کے قابل نہیں ھوگی۔ عمران خان اپنے اطراف آنکھیں کھلی رکھو اگر قوم کازرا بھی شائبہ ہوگیا کہ آپ کی آستین میں سانپولے چھپے بیٹھے ہیں اور آپ مسلسل ان سنپولوں سے غفلت برت رہے ہیں تو قوم آپ کو مجرم تصور کریگی۔ جان لیجئے کہ آپ کے ذریعے وہ کون سی قوتیں ہیں جو بیرونِ ملک رہائشی قادیانیت پرستوں کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ عمران خان نوازشریف آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن تو جان لیجئے کہ بھارت کے تین کروڑ سے زائد بھارتی سمندر پار مقیم ہیں لیکن وہ اپنا ووٹ آن لائن رجسٹر تو کروا سکتے ہیں مگر ووٹ ڈالنے کیلئے انہیں بھارت واپس آنا ہوتا ہے۔ ووٹ بھی اس صورت میں رجسٹر ہوتا ہے اگر وہ شخص دہری شہریت نارکھتا ہو یہاں آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ بیرون ملک بھارتی, بیرون ملک پاکستانیوں سے کئی گنا زیادہ زر مبادلہ بھارت بھیجتے ہیں تو سوال ہے عمران خان اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق کیوں دینا چاہتا ہے؟ جواب صرف ایک ہے وہ یہ کہ احمدیہ جماعت پاکستان میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کی وجہ سے ووٹ نہیں کرسکتی کیونکہ پھر انہیں عیسائیوں سکھوں کی طرح اقلیتی نشست پر الیکشن لڑنا ہوگا جو کہ انہیں قبول نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اقلیتی نشست پر الیکشن لڑیں تو گویا ہم مان رہے ہیں کہ ہم غیر مسلم اور اقلیت ہیں لیکن اگر انہیں آن لائن ووٹنگ کا حق مل گیا تو یہ گویا اپنی پسند کے اور اپنی جماعت کی طرف جھکاؤ یا نرم گوشہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو ووٹ دے سکیں گے کیونکہ بیرون ملک یہ مسلمان ہی شمار ہوتے ہیں, عمران کی چیخیں انہیں کیلئے ہیں سارے اورسیز کیلئے نہیں, عمران خان تمہیں اپنا اقتدار اور وزیراعظم کی کرسی اس قدر عزیز ھے کہ تم دانستگی و غیر دانستگی میں ایسا قدم اٹھانے جارھے ھو جو تمہارے ایمان کو خاک کردی گی یاد رکھو تمہاری ان سابقہ ساڑھے تین سال میں تدرسی کورس میں جو چھیڑ چھاڑ ہوئی تھی اس پر کیا تم نے شفقت محمود سے جواب طلبی کی یاد رکھو پاکستان کا کوئی بھی سربراہ اگر قادیانیت اور قادیانیت جیسے کسی بھی ملحد زندیق کا سہولت بنے گا تو اس کی سزا سرے عام پھانسی ھے یقیناً یہ ذمہداری عدالتِ عظمیٰ کو سرانجام دینا ھے۔ ستر سالوں سے ملک کو لوٹا گیا برباد کیا گیا لیکن عوام اور ملک کھڑا رہا ھے اور انشاءالله کھڑا رہیگا مگر گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے سے نہ یہ ملک رہیگا اور نہ ہی قوم اسی لیئے ملک و قوم کی بقاء و سلامتی ہی اسی میں ھے کہ اس ملک کو عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھردیں۔ پاکستانی قوم کا عدالتِ عظمیٰ اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ ھے کہ ایسا کوئی راستہ اختیار ہرگز مت کیجئے گا جس سے قادیانیت ملحد زندیق کافروں کو سہولت ملے کیونکہ ایسا عمل غیر آئینی بھی ھے۔ آئینِ پاکستان قادیانیت ملحد زندیقوں کو کافر قرار دے چکا ھے۔ الله ھم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین۔
اسلام زندہ باد, پاکستان زندہ باد, قائداعظم پائندہ باد۔۔۔۔!!
