ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: عظیم لیڈر کا عظیم کردار ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
دنیا کی تاریخ بھری پڑی ھے سیاسی لیڈروں سے مگر جو میرے لیڈر کی شان بان آن عزت و وقار بردباری حکمت دانائی سیاسی فہمی دیانتداری ایمانداری سچائی نیک نیتی خلوص ہمدردی احساس کمال درجہ بلند تھی میرے لیڈر کا کوئی مدمقابل نہیں تھا۔ میرے لیڈر نے یہ تمام خواص و عادات رسولِ خدا کی احادیٹ اور قرآن فہمی سے سیکھی۔ میرے لیڈر انتہائی بااخلاق خوش گفتار ذہین قابل حاضر دماغ تھا۔ میرا لیڈر میں بیشمار خوبیاں تھیں جو رب العزت نے عطا کیں۔ جب انتخابِ خدمت مسلماں ھوا تو بے پناہ دولت کے باوجود سب کچھ کارواں پر لگا دیا اسی طرح میرے لیڈر کے رفقائے کار بھی تھے جو جذبہ ایثار و قربانی میں بڑا مقام رکھتے تھے میرے لیڈر کے خاص راست نواب لیاقت علی خان تھے جنکی شرافت دیانت اور ایمانداری کے چرچے آج بھی تاریخ کے خوبصورت اوراق میں موجود ہیں جنکی رفقائے کار مشیران اس قدر عظیم ہوں تو ان کے لیڈر کی کیا بات یقیناً میرے لیڈر سب سے بڑا قائد تھا وہ آج بھی دنیا بھر میں قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ کے نام سے با ادب پکارا جاتا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! قائد ھو تو صرف ایسا جو قوم کی امانت کا امین بھی ھو اور بیان و خطاب میں صادق بھی آج میں اپنے قارئین کو اپنے قائد کا صرف ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتا ھوں کہ شائد موجودہ قائدین اپنی اصلاح کرلیں اور میرے قائد کے نقشِ قدم پر چل پڑیں کہ کس طرح میرے قائد نے سیاست کی حکمرانی کی طرز ریاست بنائی اور خود کو کس قدر قومی دولت سے دور رکھا ۔۔۔۔ معزز قارئین!!قاٸد اعظم مُحَمَّد علی جناحؒ کے زیارت کے قیام کے زمانے کی بات ہے کہ ڈاکٹر کرنل الہٰی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح سے پوچھا: ’آپ کے بھائی کو کچھ کھانے پر کیسے آمادہ کیا جائے، ان کی خاص پسند کا کوئی کھانا بتائیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے بتایا کہ بمبئی میں ان کے ہاں ایک باورچی ہوا کرتا تھا جو چند ایسے کھانے تیار کرتا تھا کہ بھائی ان کو بڑی رغبت سے کھاتے تھے، لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ باورچی کہیں چلا گیا۔ انھیں یاد تھا کہ وہ لائل پور موجودہ فیصل آباد کا رہنے والا تھا اور کہا کہ شائد وہاں سے اس کا کچھ اتا پتا مل سکے, یہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے حکومتِ پنجاب سے درخواست کی کہ اس باورچی کو تلاش کرکے فوراً زیارت بھجوایا جائے۔ کسی نہ کسی طرح وہ باورچی مل گیا اور اسے فوراً ہی زیارت بھجوا دیا گیا تاہم قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ کھانے کی میز پر انھوں نے اپنے مرغوب کھانے دیکھتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا اور خوش ہو کر خاصا کھانا کھا لیا۔ قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ نے استفسار کیا کہ آج یہ کھانے کس نے بنائے ہیں تو ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے ہمارے بمبئی والے باورچی کو تلاش کر کے یہاں بھجوایا ہے اور اس نے آپ کی پسند کا کھانا بنایا ہے۔ قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ نے بہن سے پوچھا کہ اس باورچی کو تلاش کرنے اور یہاں بھجوانے کا خرچ کس نے اٹھایا ہے عرض کیا کہ یہ کارنامہ حکومتِ پنجاب نے انجام دیا ہے، کسی غیر نے تو خرچ نہیں کیا پھر قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ نے باورچی سے متعلق فائل منگوائی اور اس پر لکھا کہ گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں ہے۔ خرچ کی تفصیل تیار کی جائے تاکہ میں اسے اپنی جیب سے ادا کرسکوں اور پھر ایسا ہی ہوا۔۔۔۔ معزز قارئین!! قائد بننا یا لیڈر کہلوانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ مسلمانوں کا قائد لیڈر رہنما سپہ سالار میرا ایمان ھے الله خود منتخب کرتا ھے جسے اللہ منتخب کرے ظاہر ھے نہ وہ لٹیرا ھوگا نہ ڈکیت نہ تو وہ عیاش ھوگا اور نہ ہی جھوٹا بددیانت و خیانت باز اور نہ ہی منافق و ظالم و جابر کیونکہ اللہ بڑا غفور الرحیم ھے بڑا کریم ھے عدل و انصاف اور مساوات پیدا کرنے والا ھے اللہ پاک و شفاف اور عظیموں کا عظیم ھے تو جو اللہ کے احکامات اور اصولِ حیات سے ہٹے ھوتے ہیں وہ جبراً قوم پر عائد کردیئے جاتے ہیں۔ سر زمینِ پاکستان انتہائی پاک ھے اسی لیئے اللہ نے ایسے قائد کے ذریعے بنوایا جس کا ضمیر و کردار بے داغ ہمیشہ سے رھا اب عوام خود سوچے سمجھے غور کرے کہ اس ملک کو کس طرح کے حاکم ھونے چائیں یقیناً قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ کی طرح بے باک نڈر سچا ایماندار دیانتدار اصول و قائد کا پکا اور ملک و قوم کا حقیقی خادم۔۔۔ دعا ھے کہ اللہ کے پچھہتر ویں سال میں اس قوم کو قاٸداعظم مُحَمَّد علی جناحؒ کا جانشین عطا فرمادے آمین یا رب العالمین۔
قاٸداعظم زندہ باد , پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!!
