ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: ظالم فنا ھوجائیں گے۔۔۔۔ !!
کالمکار : جاوید صدیقی
ھم مسلمان قوم ھیں، ھم میں ایمان کی دولت بھی ھے اور انسانیت بھی کیونکہ ھم اللہ کے پسندیدہ دین، دین محمدی ﷺ کے امتی ھیں۔ اس عظیم معتبر امام الانبیاء، ختم الرسول جنھیں اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنا محبوب ترین بندہ و رسول و پیغمبر بنایا۔ اس ارض پر دین محمدی ﷺ کو فروغ اور پھیلانے کیلئے باقاعدہ اسلامی ریاست کا وجود خود پیغمبر خدا ﷺ نے مدینة المنورہ کی صورت میں امت کو پیش کیا۔ وہ ریاست جو مکمل اللہ کے حکم کے مطابق وجود میں لائی گئی، جسمیں اسلام کی خوبصورتی اور طرز حکومت کا سلیقہ و کرینہ موجود تھا تاکہ بعد امت اسی طرز پر ریاستیں قائم کریں۔ دنیا میں رہنے والے ہر انسان نے دیکھا کہ ریاست مدینہ نے زندگی اور جینے کا حسن دیا۔ جس میں امن و امان، عدل و انصاف، ترقی و خوشحالی، تحفظ، بھائی چارگی، اخوت و اتحاد، ایثار و قربانی، ادب و احترام، شرم و حیا، محنت و مشقت، عبادت و ریاضت گوکہ ایسا نظام جو عملی حیات کی بہترین ترجمانی کرتا ھو اور جو انسانی ضروریات اور قدرت کی مرضی و رضا کے مطابق ھو جس کی کوئی نہ مثال ملتی ھے اور نہ ہی کوئی نظیر۔ یوں تو آپ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ اجمعین کرام، تابعین و تبع تابعین اور ملوکیت، بادشاہت اور سلطنت میں بھی ایسے حکمران آئے جنھوں نے ریاست مدینہ کی تقلید اور تعمیل کرتے ھوئے اپنے نظام حکومت کو ڈھالا اور کامیاب و کامرانی کیساتھ تاریخ اسلام میں باعزت با وقار رھے اور جنھوں نے منہ موڑا وہ تاریخ میں بدنما داغ اور سیاہ باب کہلائے۔۔۔ معزز قارئین!! دین محمدی ﷺ کے ازلی دشمن کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ نے ہر دور میں فتنہ و فساد اور سازشیں کرکے اپنے ایجنڈوں، سہولتکاروں، غداروں کے ذریعے اسلامی ریاستوں اور اسلامی مملکتوں کو نقصان سے دوچار کیا۔ تاریخ اسلام ھو یا تاریخ عالم سب میں اس بات کے وافر ثبوت موجود ھیں خاص طور پر منافقین کی منافقت سے مسلمانوں کو شدید ناتلافی نقصان سے دوچار کیا جس سے مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا رھا ھے۔ یہ منافقین مکہ کے ہوں یا مدینہ المنورہ یا پھر کربلا کے مقام پر سب نے سوائے دھوکہ، دغا بازی اور جھوٹ کے سوا کچھ نہ دیا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اللہ کے حکم سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نظریہ اسلام کے تحت ریاست کی بنیاد ڈالی جو ریاست مدینہ کہلائی۔ چودہ سو سال بعد اللہ تبارک تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے امت مسلمہ کو ایک بار پھر نظریہ اسلام کے تحت خطہ ہند سے ایک الگ ریاست معروض وجود میں آئی جسے پاکستان کہتے ھیں یہ ریاست ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیوں کے بعد معروض وجود میں آئی۔ یاد رھے کہ نیکوکاروں، ایمانداروں، دیانتداروں اور پرہیزگاروں نے ابتدائی دنوں میں اس ریاست کو کھڑا کرنے، قائم رکھنے، ترقی کرنے اور خوشحالی کیلئے ایک قوم ایک امت بنکر محبت، پیار و اخوت کیساتھ کام کیا۔ یہ کیونکر اور کیسے برداشت تھا کہ پاکستان پھولے پھلے۔ مخالفین پاکستان اور اسلام نے سازشیں کرنا شروع کردیں۔ پاکستان سے قبل ہی انگریزوں نے اپنے غلاموں کی نسلوں، لالچیوں، خودغرضوں، منافقین، غداروں اور سہولتکاروں کو تلاش کرکے پاکستان کی ریاست میں دراڑیں ڈالنے اور کمزور کرنے کیلئے انہیں اعلیٰ منصبوں تک پہنچایا پھر آپ سب ہی نے دیکھا اور اچھی طرح جانتے ھیں کہ قائداعظم محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ کے انتہائی قریبی اور مخلص، دوست و رفیق خاص کو راولپنڈی کے جلسہ میں فائرنگ کرکے شہید کروادیا تاکہ راستہ کا کانٹا ہٹ جائے۔ کون کون شریک تھا، سہولتکار تھا اور کون قاتل تھا، قتل کے کیس کا حاصل نتیجہ کیا بنا؟ یہ سب جانتے ھیں کہ قاتل اور سہولتکاروں کی گرفتاری کا عمل صفر رھا۔ یہیں سے پاکستان کو کمزور کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی پھر عوام کے درمیان زبان و نسل پر، قبیلہ و نصب پر اور لسانیت و تعصب کی آگ میں جھونک دیا اور اس طرح قوم کو مسلسل تقسیم در تقسیم کرنے کا عمل جاری رھا۔ اس نفاق و نفرت میں کوٹہ سسٹم اہلیت و قابلیت کا خوب جنازہ نکالا گیا۔ قوم کو اس قدر ناہل سست کاہل اور ناکارہ کردیا کہ وہ مجرموں کے احتساب کرنے سے قاصر رہیں۔ انہیں منشیات، چوری ڈکیتی لوٹ مار رہزنی اور قتل و غارت جیسے مکروہ کام میں لگائے رکھا تو دوسری جانب لینڈ گریبنگ قبضہ گیری اور بھتہ خوری میں جھونک دیا، ہر وہ منفی اعمال کا عادی بنادیا جس سے ریاست اور ادارے کمزور ھوجائیں۔ ان پلاننگ اور ایجنڈے کو سب سے زیادہ تقویت اور سہولتکاری ھماری اشرفیہ، سیاستدانوں، بیوروکریٹس عدالتوں، سول انتظامیہ، میڈیا اور درباری ملاؤں نے دیں۔ ان غداروں، سہولتکاروں اور پاکستان کے مخالفین نے پاکستان کا ایک بازو کٹوا ہی دیا۔ سازشیں ابھی تھمی نہیں اس دوران عسکری قوتوں کا بار ہا بار سیاست میں کودناقارئین اور اقتدار پر قابض ھونا یہ عمل بھی کوئی اچھی علامت نہیں رھی بحرکیف وہ کہتے ھیں نا کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے یقیناً قوم کیلئے ریاست اور ملک ہی گھر ھوتا ھے۔ اس آگ کو لگانے میں بہتوں کا ہاتھ ھے یہ میرے معزز قارئین بہت بہتر انداز سے جانتے ھیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان موجودہ حالت میں جس تکلیف و اذیت سے گزر رھا ھے دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی کھلی آنکھ سے دیکھ رھے ھیں وہ سب جان چکے ھیں کہ پاکستانی عوام اب کی خواب خرگوش کے مزے لے رھی ھے اس وقم کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ سب کے سب سیاستدان حکمران بیوروکریٹس ججز میڈیا اور درباری مذہبی لوگ ایک ہی حمام میں ننگے اور بدکردار حالت میں ھیں۔ کوئی اس حقیقت کو مانے یا نہ مانے اس نازک حالت میں افواج پاکستان ایک جانب چاق و چوبند ھے تو دوسری جانب روزانہ کی بنیاد پر دشمنانان پاکستان سے نبردآزما بھی ھورہی ھے اس جنگی صورتحال کے نتیجہ میں آئے روز خبر ملتی ھے کہ ھمارے جانباز ھمارے محافظ ھمارے ملک کے جانثار اپنی جان نچھاور کرتے ھوئے جام شہادت نوش کررھے ھیں تمام شہداء کو قوم کا سرخ سلام ، یاد رکھئے اس وقت قوم کو متحد ایک پاکستانی بننا ھوگا تاکہ اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کو نکال باہر کرسکیں۔ یہ ظاہری و باطنی دشمن اور ان کے سہولتکار ھمارے اتحاد و اتفاق اور بھائی چارگی سے عیاں ھوجائیں گے اور نفاق پھیلانے والے ننگے بھانگیں گے قوم انہیں مار مار کر ادھمورا کردے گی اور انشاءاللہ اس ملک سے ظالمین فنا ھوجائیں گے۔ یہ اسی وقت ممکن ھوگا کہ جب ھم اپنی افواج کی قدر وقار عزت اور مقام بڑھائیں تاکہ دشمن کو خوب مرچیں لگیں اور وہ بلک بلک کر چلائے۔ اللہ ھمارے ملک پاکستان کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب اللعالمین۔۔باد۔۔۔۔۔ قائداعظم زندہ، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!
