BBC Urdu TV

*عنوان: طلاق یافتہ خاتون کی سبق آموز کہانی۔۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: طلاق یافتہ خاتون کی سبق آموز کہانی۔۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

شوشل میڈیا میں کبھی کبھی ایسی تحریریں نظر سے گزرتی ہیں جن پر قلم کاری ناگزیر ھوجاتی ھے اور جو ہمارے معاشرے کی بہتری و سدھار کا باعث بھی بنتی ھے اس وقت جس قدر شوشل میڈیا موبائل فوبیا بڑھ چکا ھے کہ یوں لگتا ھے کہ بناء موبائل کے زندگی ادھوری ہو، دنیا بھر کے انسان اب موبائل سے جڑ چکے ہیں اسے راہداری سے اچھی بری بھی باتیں جانتے سمجھتے اور پہچان رکھتے ہیں گویا موبائل ایک خفیہ راز دار دوست ساتھی ھو۔ آجکا کالم بھی ایسی ہی ایک تحریر کا شاخسانہ ھے جو موجودہ زمانے کیلئے اکثیر ھے اور آج ہماری بچیوں اور بہنوں کو اس بابت آگاہی معلومات اور درست سمت علم ہونا ضروری ھے۔۔۔ معزز قارئین!! وہ شوشل میڈیا کی تحریر یہ ھے ۔۔ ایک طلاق یافتہ خاتون لکھتی ہیں کہ میں آپ کو یہ بات سمجھانے کیلئے لکھ رہی ہوں کہ اپنے شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کرنا ضروری ہے، چاہے ان میں خامیاں ہوں۔ میری عمر بتیس سال ہے۔ میرے سابق شوہر اور میں نے چھ سال تک ڈیٹ کی۔ ہم بہترین دوست تھے۔ میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے کالج مکمل کرلیا اور کام شروع کردیا پھر میرے خاندان اور اسکے خاندان نے ملاقات کی۔ ہماری شادی ہوئی اور ہمارا ایک بیٹا ہوا۔ اب وہ سات سال کا ہے۔ میرا شوہر کبھی کبھار غصے میں آجاتا تھا لیکن ہمارے مسائل تب شروع ہوئے جب میں نے اسے یہ محسوس کرانا چاہا کہ وہ مجھے کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جب بھی ہم جھگڑتے، میں اپنا سامان باندھ کر اپنے خاندان کے پاس چلی جاتی اور انہیں صورتحال سمجھاتی۔ میری بہنیں میرے شوہر کو فون کرتیں اور اس پر چیختیں، اگر وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو میں ہمیشہ اسے کہتی کہ اگر وہ چاہے تو مجھے طلاق دے سکتا ہے۔ میں کبھی طلاق نہیں چاہتی تھی۔ مجھے صرف اپنی عزت کا خیال تھا اور میں کبھی بھی اسکی نظروں میں ایک کمزور عورت نہیں بننا چاہتی تھی۔
ایک دن میں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ پہلی بار اس نے مجھے مارا اور گھر سے باہر نکال دیا۔
میں اپنے خاندان کے پاس چلی گئی، میرے خاندان نے اسے پولیس میں رپورٹ کردیا، ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں ہی مظلوم ہوں!
لیکن حقیقت میں، میں اپنے شوہر کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچاتی تھی۔ اسے گرفتار کرلیا گیا اور حراست میں رکھا گیا، اسکے خاندان نے مجھ سے کیس واپس لینے کو کہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں غلط کررہی ہوں۔ میرا شوہر کبھی بھی پرتشدد انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا وہ اس لئے کیا کیونکہ میں نے اسے مجبور کیا اور اس نے کھلے دل سے معافی مانگی۔ میں نے کیس واپس لے لیا، اور ہم دوبارہ مل گئے۔ تین ماہ بعد، ایک چھوٹے مسئلے پر میں نے پھر سے اپنا سامان باندھ لیا اور وہ اکیلا رہ گیا۔ دو دن بعد، مجھے کال آئی کہ وہ اسپتال میں ہے۔ میرے خاندان نے مجھے کہا کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ایسا لگے گا جیسے میں اسے منانے جارہی ہوں اور میری بہنیں مانتی تھیں کہ وہ بیماری کا ڈرامہ کررہا ہے۔ اس دوران، لوگ مجھے مظلوم سمجھتے رہے جیسے میں ہی ظلم کا شکار ہوں۔ وہ ایک ہفتہ اسپتال میں رہا، جب وہ واپس آیا، مجھے صرف طلاق کا نوٹس ملا۔ میں طلاق کو رد کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے غرور کیوجہ سے، میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدلے اور مجھ سے معافی مانگے۔ میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ اسے طلاق مل جائیگی کیونکہ میں جہنم میں جی رہی تھی۔ جب ہم عدالت گئے، میں چاہتی تھی کہ وہ قیمت چکائے، اس لئے میں نے عدالت سے کہا کہ اس کی جائیداد تقسیم کی جائے۔ میری حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کھلے عام عدالت کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہم نے اکٹھا حاصل کیا ہے وہ مجھے دیا جائے، اسے صرف طلاق چاہئے۔ ہم دھوکہ نہ کھائیں، اپنے خاندان کی مداخلت کو اپنی شادی میں نہ آنے دیں یہاں تک کہ میری چھوٹی بہنیں بھی مجھ سے زیادہ عزت پاتی ہیں۔ جن لوگوں نے مجھے طلاق لینے کی ترغیب دی، وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں۔ براہ کرم خواتین، اپنی شادی میں چوکسی سے کام لیں۔ سوچا کہ اپنی کہانی شیئر کروں تاکہ آپ کی شادی بچ سکے۔ غرور میں کوئی فائدہ نہیں۔ کبھی کبھی یہ مرد کا قصور نہیں ہوتا، یہ آپ کا غرور ہوتا ہے اور وہ لوگ جو آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس لئے اپنی شادی میں ہوشیار اور چوکنا رہیں۔ اللہ ہمیں برائی سے، برے لوگوں سے، ان سے جو برائی کرتے ہیں اور دوسروں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، محفوظ رکھے یا کریم۔ آمین جزاک اللہ خیرا آپکے وقت کیلئے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان میں طلاق کی شرح بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہمارے والدین اور اولادوں کی دین سے دوری ھے چاہے اس میں دلہن اور دلہا دونوں خاندان شامل ہیں۔ اب تو حد ہوگئی کہ نکاح کو چند دعاؤں کے بعد جو طوفان بدتمیزی اور شیاطینی حرکات ہوتی ہیں تو کیونکر اللہ کی رحمت برکت فضل و کرم کی زنجیر میں یہ رشتے محفوظ ہوسکتے ہیں نکاح کو سادگی سے کیجئے اور زندگی بھر رشتے کو نبھانا سیکھئے یاد رکھئے کہ دین محمدی ﷺ میں اللہ اور اسکے حبیب کو جائز عمل طاق یہی انتہائی ناپسند ھے۔ دعا ھے کہ اللہ امت محمدی ﷺ کو عقل و شعور صبر و شکر کے ساتھ نکاح کے بندھن میں اس طرح باندھے کہ موت بھی یہ رشتہ ختم نہ کرسکے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version