BBC Urdu TV

عنوان: شیلا آئرن پینٹ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: شیلا آئرن پینٹ ۔!!

برٹش انڈین آرمی کے میجر جنرل ہیکٹر پینٹ کی بیٹی شیلا آئرن پینٹ، ایک برطانوی خاتون جنہوں نے لکھنو یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا۔ انکی والدہ برہمن فیملی سے تھیں جنہوں نے کرسچن مذہب اختیار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹیچر گوکھلے میموریل اسکول کلکتہ سے کیا۔ سنہ انیس سو اکتیس میں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اندر پرستھا کالج دہلی میں بطور اکنامک پروفیسر تعینات ھوئیں. آپ جانتے ہیں یہ پاکستانی تاریخ کی کون سی مشہور ترین شخصیت تھیں؟ شیلہ آئرن پینٹ نے سنہ انیس سو بتیس میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان کے ساتھ شادی کی. مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے اپنا نام بیگم رعنا لیاقت علی رکھ لیا. یوں تو وہ بہت ہی عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی کی مالک تھیں لیکن ایک ایسا سچ جو بہت کم لوگوں کو شاید معلوم ہو وہ یہ کہ جب وہ پاکستان کی سفیر بن کر ہالینڈ گئیں تو ہالینڈ کی ملکہ انکی بہت گہری دوست بن گئیں. ان دونوں کی شامیں اکثر شطرنج کھیلتے ہوئے گزرتیں. ایک دن ہالینڈ کی ملکہ نے ان سے کہا کہ اگر آج کی بازی تم جیت گئی تو میں اپنا ذاتی شاہی قلعہ تمہارے نام کر دوں گی. بیگم صاحبہ نے اس کی اس بات کو منظور کر لیا اور کچھ دیر بعد بیگم رعنا لیاقت علی شطرنج کی بازی جیت گئیں. ملکہ نے وعدے کے مطابق شاہی قلعہ ان کے نام کردیا۔ ماضی کے اس سچے واقعے کا ایک حیرت انگیز اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ بطور سفیر انکی وہاں ملازمت ختم ہوئی تو اپنے اس ذاتی قلعے کو انہوں نے پاکستانی سفارت خانے کو ہدیہ کردیا.آج بھی پاکستانی سفارتخانہ اسی شاہی قلعے میں واقع ہے۔ میں نے جب یہ پورا واقعہ پڑھا تو بیگم صاحبہ کے کردار کا موازنہ عصر حاضر کے مشہور و معروف سیاستدانوں سے کیا تو یہ جھوٹے مکار لٹیرے تو مجھے کسی قطار میں کھڑے نظر نہیں آئے۔ الله تعالٰی نے ماضی میں اس ملک کو ایسے زرخیز لوگ دیئے تھے لیکن افسوس کہ آج پاکستانیوں نے انکی قدر نہیں کی. الله انکے درجات بلند فرمائے آمین۔۔۔۔معزز قارئین!! آج کے دور میں جہاں جابجا نفس پرست ملک فروش ضمیر فروش عزت فروش ظاہر و باظن گروہ و گروپ کی شکل میں موجود ہیں وہیں ایسے بھی وطن عزیز کے جانثار موجود ہیں جو اپنے اپنے حصے کا کام بڑی ایماندری اور سچائی کیساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ جہاں محافظ ہیں وہیں طالب علم معلم صحافی قلم کار ادیب مفکر دانشور شاعر بھی گمنام سپاہیوں کی صف میں کھڑے ھوکر جذبہ جہاد کیساتھ وطن عزیز کی سلامتی و بقاء کیلئے ہر وقت چاق و چوبند ہیں لیکن مافیا جس قدر چالاک لومڑی اور زہریلے سانپ کی طرح ڈسنے کاٹنے اور توڑنے کی کوششیں جاری رکھے ھوئے ہیں

لیکن انشاءالله پاکستانی قوم جلد ان کے مکروہ چہروں سے آگاہ ھوجائیگی۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version