BBC Urdu TV

عنوان: شہرِ کراچی دو سمندروں پے واقع

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: شہرِ کراچی دو سمندروں پے واقع

پاکستان کا دل اور سندھ کا مرکز شہرِ کراچی دو سمندروں پر واقع ھے ایک سمندر پانی پر ھے تو دوسرا سمندر کرپشن لوٹ مار اور لاقانونیت پر محیط ھے۔ پانی کے سمندر میں لوگ کبھی کبھار نہاتے ھوئے ڈوب کر ہلاک ہوجاتے ہیں مگر کرپشن لوٹ مار اور لاقانونیت کے سمندر کی موجیں روزانہ بلکہ ہر وقت ایسی اذیت ناک موت مارتی ہے کہ مر کے بھی مر نہیں پاتے درد و الم کی تکلیف اور ذہنی اذیت صبح سے رات تک حملہ کرتی رہتی ہیں جس ملک میں جس صوبے میں اور جس شہر میں نظام اور نظم و ضبط نہ ھو وہاں جنگلی بھیڑیوں کتوں سوروں کا بسیرا اور راج ہوجاتا ھے ضروری نہی کہ شکلیں جانور کی ہی ھوں بس عادات اور افعال جانوروں والے اور اشکال انسانوں کیں۔۔۔ معزز قارئین!! عنوان کے مطابق تحریر کروں تو اس قدر مواد ہیں کہ اخبار کے اخبار اور کتاب در کتاب کی اشاعت ہوسکتی ہیں۔ میں اکثر سوچتا ھوں ہمارے عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح اور انکے رفقائے کاروں اور تحریک پاکستان کی قربانیوں کے بارے میں کہ انھوں نے جس عظیم جذبے سچائی مخلصی نیک نیتی اور جہادی قربانیوں کیساتھ سب کچھ لٹا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان نظریہ اسلام پر بنایا آج کہاں کھڑا ھے اسلام کی جھلک سے محروم ہیں۔ نہ عدالتوں میں عدل و انصاف۔ نہ تھانوں میں سنوائی۔ نہ درسگاھوں میں تعلیم و علم۔ نہ سیاست میں سچائی۔ نہ عہد و وفائی۔ نہ مساجد میں دین الہیٰ صرف مسلکی رغبتیں۔ نہ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ نہ حرمت اصحاب کرام۔ نہ رشتوں میں احترام۔ نہ ادب و شائستگی۔ نہ انسانیت اور نہ ہی عدم برداشت اگر ھے تو حرص و متاع۔ دین سے دوری۔ قتل و غارت گری۔ شراب نوشی اور زناکاری۔ بچوں اور بچیوں کی عصمت دری۔ معصوم بچوں اور بچیوں کا قتل عام۔ تعصب لسانیت اقربہ پروری شفارش اور رشوت خوری سرِ عام برہنہ ہوکر دندناتی ہے۔ بس کیا کیا لکھوں اس شہرِ کراچی کےکرپشن لوٹ مار اور لاقانونیت پر لیکن جب قلم اٹھایا ھے تو کچھ گندے غلیظ ذرات پیشِ خدمت ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!!
ایڈمنسٹریٹر کراچی کی کے ایم ڈی سی میں اقرباء پروری عروج پر ھونے سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ھے۔ سندھ حکومت کو پہلے ہی جعلی بھرتیوں گھوسٹ ملازمین اور غیر قانونی تقرریوں کیوجہ سے اداروں کی تباہی کا ذمہدار قرار دیا جاتا ہے۔ رہی سہی کسر ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے اقرباء پروری کی مثال قائم کرکے *کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج* کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کیجانب سے اپنی خالہ زاد بہن شازیہ علی کے شوہر پروفیسر فرحت جعفری پر غیر قانونی نوازشات کا سلسلہ جاری و ساری ہے جسکی وجہ سے نہ صرف کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا ماحول خراب ہورہا ہے بلکہ پانچ سو سے زائد ایم بی بی ایس طلباء کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔ پروفیسر فرحت جعفری کو پاکستان میڈیکل کمیشن کے رولز کیخلاف غیر قانونی طور پر ڈپلومہ ڈگری پر سنہ انیس سو اٹھانوے میں بطور ڈائریکٹ پروفیسر اپوائنٹ کیا گیا جبکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کیمطابق پروفیسر کی تقرری کیلئے تجرباتی سرٹیفیکٹ کیساتھ ایسوسی ایٹ پروفیسر کا ہونا بھی لازمی ہے جس پر موصوف پورا نہیں اترتے۔ اسی طریقے سے پروفیسر فرحت جعفری نے سنہ انیس سو ننانوے میں بقائی انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنس سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ پاس کیا اور موصوف کی یہ ڈگری بھی پاکستان میڈیکل کمیشن کونسل کیمطابق تقرری کیلئے اہلیت کی حامل نہیں ہے جبکہ موصوف پروفیسر فرحت جعفری کو غیر قانونی طور پر پچیس اپریل سال دو ہزار میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی پروموٹ کیا گیا۔ موصوف پروفیسر فرحت جعفری کی بنیادی تقرری اور ایم پی ایچ سرٹیفیکیٹ کیساتھ اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے پروموشن بھی غیر قانونی ہے جو کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کونسل کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور ڈی پی سی نے پہلے ہی موصوف کے پروموشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی کمیٹی کے قوانین کیمطابق خلافِ قانون لکھا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کی خالہ زاد بہن پروفیسر شازیہ پہلے فارما میں تھیں۔ اسکے بعد محترمہ نے غیرقانونی طور پر اپنا ٹرانسفر فزیو میں کرایا اور اب کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں تعینات ہیں اور ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کی خالہ زاد بہن ہونے اور پروفیسر فرحت جعفری کی اہلیہ ہونے کیوجہ سے گزشتہ ایک سال سےگھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرکے قومی خزانے کونقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی طریقے سے موصوف پروفیسر فرحت جعفری غیر قانونی طور پر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ڈبل سیلری بھی وصول کرتے رہے ہیں جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے اور موصوف ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کے رشتہ دار ہونے کیوجہ سے دو لیڈیز پروفیسر ڈاکٹر (ف) اور پروفیسر (ف،ا) کو جنسی طور پر ہراساں بھی کرچکے ہیں جنکی شکایات کونسل کمیٹی کے سامنے بھی آچکی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے اقرباء پروری دکھاتے ہوئے پہلے بھی غیر قانونی طور پر موصوف پروفیسر فرحت جعفری کو کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کا ایک دن کا پرنسپل کا بذریعہ لیٹر پروانہ جاری کیا تھا جو کہ اسی دن ہی ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد صاحب کو وہ نوٹیفیکیشن واپس لینا پڑا تھا۔ دوسری جانب پروفیسر فرحت جعفری نےغیر قانونی طور پر کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج میں فنڈز کی خردبرد اور کرپشن کیلئے ایک کمیٹی بھی بنا رکھی ہے جسکا بنیادی مقصد کالج کے ماحول کو خراب کرنا اور تعلیمی ماحول پر اثر انداز ہونا ہے۔ اس سے پہلے بھی غیر قانونی طور پر موصوف فرحت جعفری ٹیچنگ اسٹاف کے ہوتے ہوئے بھی چئرمین ٹرانسپورٹ کی پوسٹ پر کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج میں تعینات رہ چکے ہیں اور کرونا وائرس کے سبب ٹرانسپورٹ اورکالج بند ہونے کے باوجود بھی ماہانہ سات لاکھ روپے پٹرول اور ڈیزل کی مد میں آٹھ ماہ مسلسل قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا رہا ہےاور کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کیطرف سے ستمبر سنہ دو ہزار انیس میں واقع ہونے والی مینٹل ہیلتھ کانفرنس سوات میں شرکت کیلئے جانے والے طلبا و طالبات کیساتھ پروفیسر فرحت جعفری نے تین دن میں ہی کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کو دس لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا جس پر جواب دینے سے موصوف فرحت جعفری تاحال قاصر ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج ایک قومی اثاثہ ہے جس میں سالانہ سینکڑوں ایم بی بی ایس طلباء و طالبات تعلیم حاصل کرتے ہیں اور کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج مئیر کراچی کے ایم سی اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کے ماتحت ہے جسکا سالانہ فنڈ چھتیس کروڑ روپے سے زائد ہے اور سالانہ فی طالب علم سے چھ لاکھ روپے سے زائد فیس کی مد میں بھی وصول کئے جاتے ہیں اور والدین کو فیس کے علاوہ مزید آٹھ لاکھ روپے بطور شورٹی رکھوانے کیلئے بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، چئیرمین نیب کو کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کیخلاف کارروائی کرنی چاہیئے اور پروفیسر فرحت جعفری کیخلاف غیر قانونی تقرری و غیر قانونی پروموشن اور فنڈز میں خردبرد کرنے کیخلاف کارروائی کرکے کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کو تباہی سے بچایا جائے۔معزز قارئین!! کراچی کا یہ وہ سمندر ھے جو بڑے آب و تاب اور طاقتور مضبوط مافیا کی بڑی بڑی اونچی لہروں سے حملہ بھی کرتی ہیں۔ شہرِ کراچی کے اس کرپشن لوٹ مار اور لاقانونیت سے بھرے سمندر کو نہ مٹایا گیا تو یہ شہر تو شہر صوبے تو صوبے ملک کو بھی لے ڈوبے گا۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version