ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: شہباز گل کا کرونا میں اربوں روپے کا ٹیکا
سنہ دو ہزار بیس سال کی جنوری سے پوری دنیا میں کرونا وائرس نے جان لیوا حملے کرنے شروع کردیئے تھےجو تا حال جاری ہیں اور ابتک 23 مارچ 2021 کو 124,396,555کرونا وائرس کے کیس اندراج ھوچکے ہیں جبکہ اموات کی شرح 2,737,751 کی ھوچکی ھے اورصحتیاب کیجانب 100,370,590 سامنے آئے ھیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو تا حال صورت حال اس طرح سے ھے 633,741 کرونا وائرس کے کیس اندراج ھوئے ہیں جبکہ اموات 13,935 کی تعداد ھوچکی ھے اور صحتیاب کی تعداد 585,271 سامنے آئی ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان کے پڑوسی ملک چین نے پاکستان کو ایک نہیں بلکہ کئی بار لاکھوں کی تعداد میں کرونا ویکسین مفت میں پاکستانی عوام کیلئے بھیجیں اور یہی نہیں بلکہ یونائٹیڈ نیشن کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی کرونا ویکسین مفت بھجوائیں یاد رہے وفاق اور سندھ حکومت کے علاوہ افواج پاکستان کیلئے بھی چین نے ویکسین بھجوائی تھیں جس سے آرمی چیف نے بڑے پن اور بڑے ظرف کا ثبوت دیتے ھوئے عوام کیلئے فراہم کردی تھیں۔ کرونا وائرس کیا آیا حکومتی حلقے ہوں یا تجارت کے حلقوں میں مافیا اپنی منفی کاروائی میں متحرک ھوگئے اور عوام کو حیلے بہانے دھوکے اور جھوٹ کےسہارے کمائی کے راستے بنائے گئے سب سے پہلے تو انھوں نے چند پیسے والے ماس کو سو روپے میں فروخت کرنا شروع کیا اس مد میں حکومتی رٹ نظر نہ آئی کیونکہ وہ بھی پارٹنر اور کمیشن ایجنٹ رہے۔ وقت گزرنے کیساتھ جیسے ہی ویکسین دنیا کے مختلف ممالک نے تیار کی تو پاکستانی دوا ساز کمپنیوں نے حکومت کیساتھ خفیہ معاملات کرلیئے۔ ذرائع کا کہنا ھے کہ دوا ساز کمپنی کے بیشتر حکومت اور ایوان میں بیٹھے ہیں اور وہ منافع کیلئے ہر راہ اختیار کریں گے بس عوام کو لوٹنا ھے پہلی حکومتوں میں عوام لوٹتی پستی رہی اور اب بھی بس انداز جدا ھے۔۔۔ معزز قارئین!!حکومت پاکستان نے روسی ویکسین اسپٹنک وی کی پاکستان میں کمرشل امپورٹ اور قیمت کی منظوری دیدی ھے۔ روسی ویکسین کی قیمت آٹھ ہزار پانچ سو روپے مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان وہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے پرائیویٹ سیکٹر کو ویکسین کی امپورٹ کی اجازت دی ہے۔حکومت پاکستان نے آج تک ایک روپہ بھی کروناویکسین کیلئے مختص نہیں کیا۔ پہلے چین نے پانچ لاکھ سے زائد ویکسین تحفے میں دی۔عالمی ادارہ صحت بھی پانچ لاکھ خوراکیں مفت میں مزید دے رہا ہے۔ اب پاکستان کی حکومت نے حکومتی ترجمان شہباز گل کی کمپنی کو روسی ویکسین منگوانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی ہر خوراک پر سات ہزار روپے کا منافع پہلے ہی اپنے حکومتی وزیر کی جیب میں ڈال دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے حلال کرپشن اور ٹیکنیکل ڈاکہ۔شہباز گل کی کمپنی اسپٹنک وی فی خوراک صرف دس ڈالر میں امپورٹ کررہی ہے۔ جسکی پاکستانی روپے میں قیمت پندرہ سو پچاس روپے بنتی ہے۔ یہی پندرہ سو پچاس کی ویکسین اب حکومت کی اجازت سے آٹھ ہزار پانچ سو روپے میں بیچی جائیگی۔ شہباز گل کی کمپنی نے پہلی کنسائیمنٹ میں دو لاکھ ویکسین کاآرڈر دیا ہے یعنی ایک ہی کنسائیمنٹ میں ایک ارب چالیس کروڑ کا خالص منافع میسر ہوگاوہ بھی سرکار کی اجازت اور مرضی کیساتھ۔ ایک طرف تحریک انصاف عدل و انصاف حق و سچ گاتے تھکتی نہیں دوسری جانب آج تک چینی اور آٹا مافیا کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں۔اب دیکھنا یہ ھے کہ اپوزشن اس بابت اپنا کیا رول اداکرتےہیں آیا حکومتی مافیا کی طرح یہ بھی مافیا کا کردار ادا کریں گے یامثبت انداز میں حکومت سےجواب طلب کریں گے مجھے نہیں لگتا کہ سیاستدان عوام کا بھلا سوچیں گے بہتر یہی ہیکہ سپریم کورٹ اس بابت از خود نوٹس لے بصورت عوام اس مہنگی دوائی نہ خریدنے سے موت کا شکار ھوتی چلی جائے گی پھر میڈیا عدلیہ بھی سیاستدانوں کے برابر مجرم ھوگی۔ الله پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناظر رھے آمین ثما آمین ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
