BBC Urdu TV

عنوان : شلوار ، پاجامہ اور نجاست

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان : شلوار ، پاجامہ اور نجاست ۔۔۔!!*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

کبھی کبھی عام سادہ سا انسان بھی بڑی گہری بات کر جاتا ھے ، میری رہائش کے سامنے ڈرائی کلین ھے وہیں سے کپڑے دھواتا ھوں پہلی رمضان کو میں ڈرائی کلین پہنچا اور ڈرائی کلینر سے کہا کہ ھمارا نماز کا یہ رومال استری کردو ، رومال وہ تھا جو اکثر موذن و مولانا اور علماء کرام بھی اپنے کندھے پر رکھتے ھیں اور نماز و تلاوت کے وقت میں عمامہ بنا لیتے ھیں خیر بات کررھا تھا کہ میں نے ڈرائی کلینر اپنے رومال کی استری کیلئے کہا تو اس نے کہا کہ اس شلوار کے بعد کردونگا، شلوار تھی کہ چادر۔ میں نے ازراہ مزاق کہا کہ اس شلوار کو سنبھالنا کس قدر مشکل ھوگا، مجھ سے تو یہ چھوٹی سی شلوار بھی استنجاء خانہ میں سنبھالی نہیں جاتی تو میرے جواب میں اس نے کہا کہ وہ پاکستانی جو بڑی بڑی شلواریں پہنتے ھیں چاہے اپنی خاندانی رسم و رواج ھو یا قبیلہ کی شرائط یا شوق و جوش یہ سب کے سب پاک جگہوں کو نجس کرتے ھیں کیونکہ جب یہ مسجد یا کسی بھی استنجاء خانے جاتے ھیں تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے کہ انکی شلواریں زمین پر پھیلی ہوئی ھوتی ھیں وہ بہت کوشش کرتے ھیں مگر پھیلاؤ کے سبب انہیں سنبھال نہیں پاتے پھر شلوار کسی نہ کسی حصے میں نجاست سے منسلک ھوجاتی ھے اکثر وہ حصے شامل ھوجاتے ھیں جو خود کو واضع نظر نہیں آتے اور یہ اسی حالت میں وضو خانہ اور پھر مسجد میں داخل ہوکر نجس کو اپنے ساتھ لے جاتے ھیں، انکے اس عمل سے ایسے لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر وضو خانہ اور مسجد کو نجس کرتے رہتے ھی۔ ڈرائی کلینر نے مجھ سے استدعا اور درخواست کی کہ اس پہلو پر میں اپنا قلم اٹھاؤں، اور لوگوں میں شعور بیدار کروں۔ خاص توجہ دلاتے ھوئے وہ مجھ سے مخاطب ھوا کہا کہ جاوید صدیقی کیا آپ سمجھتے ھیں کہ ھمارے بزرگ اور آباؤاجداد پاجامہ کیوں استعمال کرتے تھے اس کی یہی وجہ تھی کہ پاجامہ سے استنجاء کرنے میں آسانی رہتی تھی اور کپڑے نجاست سے محفوظ رہتے تھے بعد میں انہی کی نسلوں نے شلوار کا استعمال بھی کرنا شروع کردیا مگر محتاط انداز اور مناسب کپٹرے کیساتھ جس طرح صدیقی صاحب آپ شلوار سلواتے اور پہنتے ھیں مناسب کپڑا ھوتا ھے استری بھی بہتر ھوجاتی ھے۔ آپ ہی بتائیں پانچ سے چھ میٹر کپڑے کی شلوار کہاں کی عقلمندی ھے۔

Exit mobile version