BBC Urdu TV

عنوان : سینئر صحافی اور اینکرز پینشنرز کے حقائق سے نابلد

*ٹائٹل: بیدار ھونےتک*

*عنوان : سینئر صحافی اور اینکرز پینشنرز کے حقائق سے نابلد ۔۔۔۔ !!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

گزشتہ کئی برسوں سے میں زمینی حقائق ، تحقیق و مشاہدے اور تصدیق کے بعد اپنی سالانہ رپورٹ تیار کرکے پینشنرز کے متعلق اصل صورتحال سے آگاہ کرتا چلا آرھا ھوں خاص طور پر نان گزیٹیٹ پینشرز۔ یہ جس قدر کرب اور تکالیف سے دور چار ہیں اور سفید پوشی، عزت نفس ہونے کے سبب کسی سے اپنے دکھ کا اظہار نہیں کرسکتے البتہ رب العزت کی بارگاہ میں سجود کے دوران جو انکی آہیں اور فریاد اٹھتی ہیں وہ میرے جیسے عام بندے کا دل چیرنے کیلئے کافی ہیں، ھمارے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی کئی ایسی شخصیات ہیں جو صحافت کیساتھ ساتھ اینکرز بھی ہیں یاد رھے کہ ہر اینکر صحافی نہیں ہوتا جیسے ہر اشاعتی ادارے میں کام کرنے والا رپورٹر یا ایڈیٹر نہیں ھوتا اسی طرح ہر کالم لکھنے والا بھی صحافی نہیں ہوتا میں بات کررھا ھوں پاکستان کے مشہور و معروف سینئر صحافی جنگ و جیو سے کئی سال وابسطہ رہنے والے جو اب دنیا ٹی وی سے وابسطہ ہیں وہ ہیں ہمارے سینئر ترین صحافی رپورٹر اور اینکر کامران خان۔ کامران خان کو حکومتی نمائندہ اور نجانے کون سا ریسرچ اسکرپٹ رائٹرز ھے جو حقائق کے برخلاف خبر پیش کردیتا ھے جس پر کامران خان اپنے پروگرام میں ہر سال کہتے ہیں کہ پینشرز قومی خذانے پر بوجھ ہیں۔ آپ اچھے طرح جانتے ہیں کہ ملک میں کس قدر مہنگائی بڑھتی جارہی ھے اور ہر سال بجٹ میں پینشرز کی پینشن میں زیرے کے مترادف اضافہ ھوتا ھے جسے پہاڑ بناکر پیش کردیا جاتا ھے۔ اشرفیاء اپنی عیاشیاں کم کیوں نہیں کرتیں عسکری اور عدلیہ اپنی سہولتوں سے دسبردار ہونے کو تیار نہیں پھر رہی سہی یہ کمزور پینشنرز اس پر ہی سب جھوٹے الزام تہمت اور اپنے ظلم کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے آپ اور ھم سب جانتے ہیں کہ میڈیا انڈسٹری میں بھی یہی حال ھے جو مالک کے جتنا قرب وہ اتنا ہی فائدہ مند ہماری میڈیا انڈسٹری میں بے پناہ عدم مساوات موجود ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! ہماری تحریر اور بیان کا ایک ایک لفظ بہ لفظ اور نقطہ ہمارے روز قیامت میں حساب کتاب کا باب بنیں گا اگر محکمہ جاتی نقائص ہیں جیسے شفارش، رشوت، اقربہ پروری کا پڑوان اور قابلیت، ذہانت، اہلیت، مساوات، عدل و انصاف کا قتل تو اس کی تمام تر ذمہداری قانون سازوں یعنی پارلیمنٹیرین پر ھے اور انہیں پارلیمنٹیرین، وزرا و مشراء پر جو وزراتوں اور محکموں کی منظم کرنے کے براہ راست ذمہدار ہیں۔ ضروری نہیں کہ تمام پینشنرز کی تعیناتی رشوت، اقربہ پروری، نااہلی یا سیاسی طور پر ہوئی ھو یہ حقیقت ھے کہ ایک زمانے سے تقرریاں اہلیت، قابلیت اور ذہانت کو رد کرتے ھوئے رشوت، شفارش، اقربہ پروری اور سیاسی بنیادوں پر کی جاتی رہی ہیں اس بگڑتے، تباہ شدہ نظام کے ذمہ داران کے خلاف میرے قلیق میرے دوست جرنلسٹ کیوں نہیں پر زور اپنا مثبت کردار ادا کرتے۔ میں نے الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں اسپیشل ٹرانسمین یا اسپیشل اشاعت صفحہ اس بابت نہیں دیکھا جو مکمل دین محمدی ﷺ اور حقوق انسانی پر مشتمل پینشنرز کے گروپ انشورنس کی ادائیگی پر کیا گیا ھو۔ میرے صحافی اور رپورٹرز قلیق دوستوں کو تو شائد پینشنرز کے گروپ انشورنس کے متعلق بھی مکمل علم نہ ہو اور جو دوست اس بیٹ کو دیکھ رھے ھیں وہ نجانے کونسی خوشی میں خوش ہیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین نے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری، چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ سے متوجہ حاصل کرنے کیلئے سینئر سٹیزن ریٹائرڈ ملازمین نے کراچی میں احتجاجی مظاہر کیا بعد ازاں بزرگ پینشرز نے مطالبہ کیا کہ ہمیں ھمارے گروپ انشورنس کی رقم جو کہ ھم نے دوران ملازمت ساری زندگی اپنی تنخواہوں میں سے گروپ انشورنس جمع کراتے رھے ہیں وہ ھماری ہی جمع شدہ لاکھوں روپے ہیں وہ ھمیں فوری طور پر دیئے جائیں تاکہ ھم زندگی کے آخری حصے بڑھاپے میں ھم کسی کی محتاجی سے بچ سکیں اور اپنا علاج اور بچیوں کی شادیاں گھرورں کی مرمت وغیرہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے اپنی ضروریات پوری کرسکیں علاوہ ازیں مظاہرین نے کہا کہ سپرئم کورٹ نے حکومت سندھ کو تاکید کی ھے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو گروپ انشورنس کی ادائیگی پینشرز کو ان کی زندگی میں دیدی جائے لیکن حکومت سندھ سیئرز سٹیزن کو گروپ انشورنس دینے میں تاخیری حربے استعمال کرکے بزرگ ریٹائرڈ پینشرز کو انکی اپنی جمع شدہ گروپ انشورنس کی رقم سے محروم کررہی ھے یہ انسانی بنیادی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ھے۔ ان بزرگ پینشرز نے مذکورہ تمام حکومت سندھ کے اراکین سے پر زور مطالبہ کیا کہ پینشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ اور گروپ انشورنس کی رقم فوری دینے کا نوٹیفکشن جاری کریں ۔۔۔ معزز قارئین!! میرا یہ کالم اپنے صحافی دوستوں کیلئے ھے کہ وہ اس جائز حقوق جسے حکومت سندھ سیاسی طور پر استعمال کرنا چاہتی ھے آگاہ کروں کہ بہت مقام ہیں سیاست کو چمکانے کیلئے خدارا مظلوم پینشرز پر سیاست کرکے مزید ظلم نہ کریں دھری کی دھری رہ جائیگی سیاست جب روح قبض ہوگی اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کیلئے پینشرز کے گروپ انشورنس کی ادائیگی اس بجٹ 2024۔2025 میں کردیں میرا یقین کامل ایمان ھے کہ اللہ آپ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری، چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ سمیت
سندھ حکومت اور سندھ پالیمینٹرین کو اس نیک عمل کا صلح فی الفور ادا کریگا مزید تاخیر سے ڈر و خوف ھے کہ کہیں مظلوم کی آہ عرش پر پہنچ نہ جائے جس سے اللہ کا قہر نازل نہ ہوجائے۔ مجھے خواجہ میر درد کا وہ شعر ذہن میں آرھا ھے ” درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو، ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں "۔ جب قلم اور زبان سچ و حق سے منہ موڑ لے تو جان لینا صحافت کا جنازہ نکل گیا ھے نہ صحافی رہا اور نہ ہی صحافت پھر دیکھو گے کہ ایک مجمع نظر آئیگا کو مشتمل ہوگا ضیافت ہی ضیافت کا جس میں بے ضمیر، بیغیرت اور بے شرم قلمکار، بیان باز اور خبریوں کی شکلیں عیاں ہونگیں۔۔۔!!

Exit mobile version