BBC Urdu TV

عنوان: سینئر بیوروکریٹ روئیداد خان کی زبانی ، پاکستان کی کہانی۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سینئر بیوروکریٹ روئیداد خان کی زبانی ، پاکستان کی کہانی۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

پاکستان معروض وجود میں آنے کے چند سالوں بعد جب وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کو شہید کروادیا گیا تھا اور پاکستان کی ریاستی نظام کو ان ہاتھوں میں تھمادیا جنھوں نے پاکستان کو کبھی بھی ترقی یافتہ خوشحال بننے نہیں دیا ان کی ڈوریں تاحال جاری ھیں اور نجانے کب تک جاری رہیں گی یہ بات تو طے ہے کہ من حیث القوم ھم ایک قوم کبھی نہیں بنے ان کی ڈوروں میں ھم عوام بھی ناچتے رھے اور یہ نچاتے رھے اور آج تک جلسہ جلوسوں میں ناچ رھے ھیں۔ ھم وہ بدقسمت قوم ھیں جو مسلمان ھونے پر فخر کرتے ہیں مگر مسلمان نہیں ھوتے۔ ھم خودساختہ پرہیزگار متقی خود کو سمجھتے ہیں مگر پرہیزگاری اور تقویٰ سے نا آشنا۔ ھم مکمل بگڑی ھوئی گمراہ اور منافق قوم بن چکے ہیں دوسرے لفظوں میں حقیقتاً ھم غلام ھیں آزادی کا صرف دکھاوے کا لباس اوڑھے ھوئے ہیں۔ یہ سب کچھ کس حد تک سہی ھے جب آپ پاکستان کی تاریخ پڑھ کر تجزیہ کرسکتے ہیں۔ آج میں اپنے کالم کو ایک ایسی شخصیت پر لکھ رھا ھوں کہ جس نے پاکستان کے ریاستی معاملات کو باریک بینی سے دیکھا ھے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! روئیداد خان پاکستان کے سب سے سینئر بیوروکریٹ ہیں، یہ ماشاء اللہ حیات ہیں اور ان کی عمر اس وقت سو سال ہے، روئیداد صاحب نے سنہ انیس سو اننچاس عیسوی میں سول سروس جوائن کی اور پاکستان کا شائد ہی کوئی ایسا اہم ادارہ ہوگا جس کے یہ سربراہ نہیں رہے، پانچ صدور اور تین وزراء اعظم کے ساتھ کام بھی کرچکے ہیں، ملک میں احتساب کا عمل بھی انھوں نے شروع کیا تھا اور یہ عمل آہستہ آہستہ آگے چل کر نیب بن گیا۔ یہ سنہ انیس سو اکہتر عیسوی میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں سیکریٹری انفارمیشن تھے، ڈھاکا میں فوج کے سرینڈر اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی خبر خان صاحب نے جاری کی تھی، انھوں نے سنہ انیس سو ستانوے عیسوی میں ایک شان دار کتاب (A Dream Gone Sour) لکھی، یہ کتاب پاکستان کا نوحہ بھی ہے اور تاریخ بھی، روئیداد خان نے اس کتاب میں سولہ دسمبر سنہ انیس سو اکہتر عیسوی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، ہم نے مشرقی پاکستان کھودیا تھا۔ میں دکھ کے عالم میں ایوان صدر پہنچا، صدر جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھی سرینڈر کا ڈرافٹ سامنے رکھ کر بیٹھے تھے اور وہاں یہ بحث چل رہی تھی اس ڈرافٹ کے نیچے مشرقی پاکستان کا اسٹینڈرڈ ٹائم لکھا جائے گا یا مغربی پاکستان کا، بحث جب طویل ہوگئی تو صدر یحییٰ خان نے کہا، میں آپ لوگوں کو کہتا رہا تھا آپ مشرقی اور مغربی دونوں حصوں کا اسٹینڈرڈ ٹائم ایک کردیں۔ آپ لوگوں نے اگر میری بات مانی ہوتی تو آج کم از کم یہ مسئلہ تو نہ ہوتا، روئیداد خان کے بقول میں نے ان سے کہا، سر ہم نے مشرقی پاکستان کھو دیا ہے، ملک ٹوٹ گیا ہے، ہم سرینڈر کر رہے ہیں لیکن آپ لوگ کس بحث میں مصروف ہیں، میری بات سن کر سب میرے اوپر چل دوڑے اور غصے سے کہنے لگے تم نے سرینڈر کا لفظ کیوں بولا؟ ہم ہارے نہیں ہیں، یہ بس ایک عارضی ارینجمنٹ ہے، میں دیر تک انھیں دیکھتا رہا اور پھر کام کا بہانہ کیا اور چپ چاپ وہاں سے آگیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو انھیں حقیقتوں کے پہاڑ دکھائی نہیں دیتے، یہ کنکروں میں الجھ جاتی ہیں اور یوں یہ وقت کی دلدل میں ڈوبتی چلی جاتی ہیں اور ہم اس حقیقت کی خوفناک مثال ہیں، ہم ہر خوفناک واقعے کے بعد "ڈاکومنٹ پر وقت کیا لکھا جائے؟” جیسے تخلیقی کام میں مصروف ہوجاتے ہیں اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو بنگلہ دیش کی شکل میں نکلا تھا یا پھر جو آج نکل رہا ہے۔ ہم بھی کیا قوم ہیں؟ ہمارا ساٹھ فیصد حصہ سنہ انیس سو اکہتر عیسوی میں ہم سے جدا ہوگیا، ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان کی تحقیق اور تفتیش کیلئے "حمود الرحمن کمیشن” بنایا اور اس کمیشن کی رپورٹ انتیس سال بعد سنہ دو ہزار عیسوی میں پاکستان کے بجائے بھارت میں شائع ہوئی اور ہم نے پچاس سال میں اس کی ایک بھی سطر پر کام نہیں کیا، ہم سنہ انیس سو اسی عیسوی میں افغانستان میں روس امریکا جنگ میں کرائے کے قاتل بنے، ہم نے کوئلوں کی اس دلالی میں ہاتھ اور منہ دونوں کالے کئے اور اپنا پورا ملک دہشتگردی کی جنگ میں جلا لیا لیکن ہم نے کوئی انکوائری کمیشن بنایا اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کی۔ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی کو فوج کے سولہ اعلیٰ ترین افسروں کے ساتھ بم سے اڑا دیا گیا، ہم نے انکوائری کمیشن بنایا لیکن آج تک اس کی رپورٹ نہیں آئی، جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادے چار چار بار حکومتوں میں آئے لیکن یہ بھی اپنے والد کے لہو کا فیصلہ نہیں کراسکے، آئی جے آئی کی تشکیل اور اصغر خان کیس سولہ سال چلتا رہا، سپریم کورٹ نے انیس اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ عیسوی کو فیصلہ بھی سنا دیا لیکن ہم نے اس سے بھی کوئی سبق سیکھا اور نہ کسی کردار کو سزا دی، ملزم اور مدعی دونوں فوت ہوگئے مگر اصلاح کا باب اسی طرح کھلا پڑا رہا، دو مئی سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی کو ایبٹ آباد کا واقعہ پیش آیا۔ امریکی ہیلی کاپٹر اسامہ بن لادن کو مار کر اس کی لاش اٹھا کر لے گئے، ہم نے ذمہداروں کے تعین کیلئے اکتیس مئی سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی کو کمیشن بنایا اور آج تک اس کی رپورٹ بھی پبلک نہیں ہوئی اور ہم نے سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی میں مسنگ پرسنز کا کمیشن بھی بنایا، مسنگ پرسنز مر کھپ گئے، انکے لواحقین بھی دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ہم آج تک مسنگ پرسنز کی حتمی فہرست تیار نہیں کرسکے اور یہ ان دو درجن خوفناک واقعات میں سے چند واقعات ہیں جو قوموں کا مقدر بدل دیا کرتے ہیں، جو مردہ سے مردہ ترین ضمیروں کو بھی جگا دیتے ہیں لیکن مجال ہے ہمارے ضمیر پر دستک ہوئی ہو یا ہم نے گہری نیند میں ذرا سی کروٹ ہی لے لی ہو اور ہم اس پروفائل کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس کی پہلی آڈیو چوبیس ستمبر سنہ دو ہزار بائیس عیسوی کو لیک ہوئی، وزیراعظم میاں شہباز شریف اور پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ کی گفتگو لیک ہوئی اور ملک میں کہرام برپا ہوگیا اور اس کے بعد لیکس پر لیکس ہوتی چلی گئیں اور اب تک تقریباً موجودہ حکومت اور عمران خان دونوں کی چار، چار آڈیو لیکس ہوچکی ہیں، دنیا میں اس وقت دو سو اننچاس ملک ہیں اور پاکستان ان میں واحد ایسا ملک ہے جس کے محفوظ اور حساس ترین دفتر کی آڈیوز روزانہ کی بنیاد پر لیک ہورہی ہیں اور حکومت اور اپوزیشن اس پر پریشان ہونے کے بجائے بغلیں بجا رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی لیکس پر عمران خان کی ہنسی نہیں رک رہی اور وزیراعظم عمران خان کی لیکس پر موجودہ حکومت کے وزراء قہقہے لگا رہے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی صورتحال کی نزاکت کا اندازہ نہیں، محل کو آگ لگی ہے اور چوکی دار چوہے گن رہے ہیں، یہ ہیں ہم، ایشو یہ نہیں ہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شیریں مزاری یا اعظم خان نے کیا کہا تھا یا میاں شہباز شریف اور توقیر شاہ کے درمیان کیا گفتگو ہورہی تھی؟ اصل ایشو یہ ہے کہ پاکستان میں وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس ترین جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ وہاں بھی گفتگو ٹیپ ہوتی ہے اور یہ گفتگو بعد ازاں لیک بھی ہوجاتی ہے، دوسرا ہم کئی روز گزرنے کے بعد بھی گفتگو ریکارڈ کرنے والے لوگوں تک پہنچ سکے اور نہ ہم اب تک ہیکرز کو گرفتار کرسکے ہیں اور ہم دنیا کا واحد ایٹمی اسلامی ملک بھی ہیں، کیا یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟ ہمارا اصل کنسرن یہ سیکیورٹی بریچ ہونا چاہئے تھا، ہم نے سیکیورٹی بریچ پر ایکشن لینا تھا لیکن ہم نے عمران خان اور شہباز شریف کیخلاف ایکشن شروع کردیا، ہم نے ان دونوں کو غدار اور اقرباء پروری کا نشانہ بنادیا، اس شورشرابے اور گمراہ راہ پر گامزن کرنے میں ھماری میڈیا نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا ھے۔ ھماری میڈیا کا ھمیشہ سے غیر سنجیدہ اور ذمہدارانہ رویہ سے ایک جانب ملک کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ھوتی ھے تو دوسری جانب دشمنانان پاکستان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور ھماری قوم پروپیگنڈہ پھیلانے میں سب سے آگے نظر آتی ھیں۔ کیا قومیں اس طرح پنپتی اور چلتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی مت مارتا ہے یا جب کوئی قوم اللہ کی توجہ سے محروم ہوتی ہے تو پھر وہ اسی طرح اونٹ کو فراموش کرکے مچھر چھاننے میں مصروف ہوجاتی ہے، آپ قسطنطنیہ فال سے لے کر سقوط ڈھاکا تک دنیا کے تمام زوالوں کا تجزیہ کرلیں آپ کو ہر سقوط، ہر فال سے پہلے ایسی ہی صورتحال ملے گی جیسی اس وقت پاکستان میں ہے۔ سلطان فاتح نے سنہ چودہ سو باون عیسوی میں قسطنطنیہ فتح کیا، یہ شہر اس وقت عیسائی دنیا کا قبلہ ہوتا تھا، سلطان فاتح جب استنبول کی دیواریں گرا رہا تھا تو اس وقت آیا صوفیہ میں عیسائی علماء اس بحث میں مصروف تھے حضرت عیسیٰؑ نے آخری ڈنر میں خمیری روٹی کھائی تھی یا پتیری، ہلاکو خان کی فوج جب بغداد کی دیواریں ٹاپ رہی تھی اور دریائے دجلہ میں نعشوں کے پل بن چکے تھے اس وقت مسلم علماء شرعی داڑھی اور مسواک کا سائز متعین کر رہے تھے۔ نپولین بونا پارٹ کے فوجی جب سینٹ پیٹرز برگ کی سڑکوں پر مارچ کر رہے تھے اس وقت زار روس اگلے شکار کی تیاریوں میں مصروف تھا اور محل میں یہ بحث چل رہی تھی ہم اس بار برفانی ریچھ کا شکار کریں گے یا رین ڈیئر کا اور اس کی کھال سے ہز ہائی نیس کا کوٹ تیار ہوگا یا پتلون، غرناطہ کی آخری رات ابو عبداللہ محمد کا سب سے بڑا مسئلہ مراکشی بھیڑ کا گوشت تھا اور اسپین کے مسلم علماء مسلکی مباحثے میں مصروف تھے۔ روس افغانستان پر قابض ہو رہا تھا تو افغان صدر گرمیوں کی چھٹیاں منانے کا پلان بنا رہا تھا اور جب ہماری فوج ڈھاکا کے پلٹن میدان میں سرینڈر کر رہی تھی تو ہمارے حکمران یہ بحث کر رہے تھے سرینڈر کے ڈاکومنٹ پر مغربی پاکستان کا ٹائم ہوگا یا مشرقی پاکستان کا، اللہ تعالیٰ معاف کرے میرے منہ میں خاک، ہم اگر نہ سنبھلے، ہم نے اگر عقل سے کام نہ لیا تو اس فہرست میں ایک اور قوم کا اضافہ بھی ہو جائیگا اور کل کا مؤرخ لکھے گا جب پاکستان ڈوب رہا تھا تو حکومت اور اپوزیشن دونوں ہیکر اور سیکیورٹی بریچ کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی حب الوطنی ناپ رہے تھے۔ خدا خوفی کریں آپ کیسے لیڈر ہیں؟ آپ صرف اگلے الیکشن کے ایشو پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، آپ آگ پر توجہ دینے کے بجائے پتنگوں کے جلنے کا جشن منا رہے ہیں، آپکی عقل کہاں چلی گئی؟ آپ کی آنکھ کب کھلے گی؟ کیا آپ ملک کے ڈوبنے کا انتظار کررہے ہیں؟ خدا کیلئے اکٹھے بیٹھیں اور ایک ہی بار ہر چیز طے کر لیں ورنہ ہم طے کرنا تو دور ہم سوچنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔اللہ پاکستان کا نگہبان رھے آمین یا رب اللعالمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version