BBC Urdu TV

عنوان: سپریم کورٹ، وفاق اور سندھ حکومت فی الفور اقدام اٹھائیں

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: سپریم کورٹ، وفاق اور سندھ حکومت فی الفور اقدام اٹھائیں*

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کا تعلق کراچی شہر سے ہے لیکن تمام تر قانونی علوم سے واقفیت ہونے کے باوجود غیر قانونی عمل کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی از خود نوٹس نہیں لیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس غیر قانونی اور جابرانہ ظالمانہ عمل سے پاکستان بلخصوص کراچی بھر کے شہری ذہنی اذیت کا شکار ہونے کیساتھ ساتھ لاکھوں رقم گنوا بیٹھتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ جمہوری حکومتوں نے زحمت گوارا نہیں کی کہ ان دو میگا مافیا پر سخت گرفت کرتے بلکہ دیکھا یہ گیا کہ ان دو بڑے میگا مافیا کو دودھ ہی پلایا گیا اور ان مافیا کو مضبوط سے مضبوط تر کیا کہ وہ عوام کی کھال اتارنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑیں۔۔۔ معزز قارئین!! جناب چیف جسٹس گلزار احمد صاحب، جناب وزیراعظم عمران خان صاحب، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ صاحب، جناب گورنر سندھ اسماعیل صاحب آپ سب کی توجہ کراچی میں قائم میگا اسپتال اور میگا مافیا کی جانب کرانا چاہتا ہوں یقینا آپ حضرات مجھ سے کہیں زیادہ ان دو اسپتالوں کی حقیقت سے آشنا ہونگے لیکن انکے خلاف اقدامات نہ کرنا اور انکے بیشمار مہنگا علاج کرنا کیوں کر جاری ہے جبکہ ریاست پاکستان سے ان دونوں اسپتالوں نے عہد کیا گیا تھا کہ فلاحی بنیادوں پر استوار کریں گے لیکن جب سے یہ دونوں اسپتال قائم ہوئے ہیں شروع دن سے ہی کمرشل بنیاد پر کام کرتے چلے آرہے ہیں ان دونوں کا سخت ترین احتساب کیا جانا چاہئے تاکہ دیگر نجی اسپتالوں کیلئے مثل سبق ثابت ہوسکیں۔۔ ان دو میگا مافیا اسپتالوں میں ایک لیاقت نیشنل اسپتال ہے جبکہ دوسرا آغاخان اسپتال،
آغا خان اسپتال کراچی اور لیاقت نیشنل اسپتال کراچی
یہ دونوں ٹرسٹ اسپتال ہیں، لیاقت نیشنل اسپتال حکومت پاکستان نے تعمیر کیا اور اسکا افتتاح گورنر جنرل اسکندر مرزا نے کیا تھا لیاقت نیشنل اسپتال کی مکمل یعنی پوری اراضی اور اسکی تعمیر حکومت پاکستان نے غریب عوام کے مفت علاج کیلئے کی تھی، آغا خان اسپتال کی مکمل یعنی پوری اراضی سابق جنرل محمد ضیاء الحق نے
آغا خان فاؤنڈیشن کو تحفے میں دی تھی کیونکہ آغا خان فاؤنڈیشن نے یہ کہہ کرزمین حاصل کی کہ وہ غریب عوام کے سستے علاج کیلئے اسپتال تعمیر کرینگے اوراس اسپتال میں مستحق مریضوں کا بلکل مفت علاج کیا جائیگا۔ ایک بات یاد رکھیں ، ٹرسٹ قوانین کے مطابق قابل اعتماد پراپرٹی پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی وفاقی یا صوبائی ٹیکس وغیرہ بلکل بھی نہیں ہوتا ہے،آغا خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال دونوں انکم ٹیکس کے علاوہ کوئی بھی ٹیکس نہیں دیتے،لیاقت نیشنل اسپتال جو خالصتا وفاقی سرکاری اسپتال تھا جس پر جعلسازی کے ذریعہ کچھ کاروباری گروہوں نے قبضہ کرلیا اور جعلسازی کے ذریعہ سرکاری اعتماد کو ٹرسٹ اولاد میں تبدیل کر چکے ہیں اسی طرح آغا خان اسپٹل نے حکومت پاکستان کیساتھ جعلسازی کا ارتکاب کیاجب آغا خان فاؤنڈیشن کو یہ زمین بلکل مفت دی گئی تھی اس وقت اس زمین کی قیمت کروڑوں روپے تھی اب اس زمین کی قیمت ہی تقریبا 500 ارب کی مالیت ہےجو سندھ کے غریب عوام کی زمین ہے۔ یہ دونوں اسپتال خیراتی مقاصد کیلئے سندھ کے غریب عوام کیلئے ہیں اور اب وہ امیر مریضوں کامہنگا ترین علاج کرکے لاکھوں نہیں بلکہ اربوں روپے حکومت کو بغیرکوئی ٹیکس دیئے کما رہے ہیں غریب آدمی تو آغا خان ہسپتال اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں علاج کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایک مریض کے پرائیویٹ کمرہ کا ایک دن کا کرایہ بتیس ہزارجو کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے کرایہ سے بھی کہیں زیادہ بنتا ہے یہی حال کلفٹن اور نارتھ ناظم آباد میں واقع ضیاء الدین اسپتال کابھی ہے گویا کراچی سمیت ملک بھر میں بڑے بڑے اسپتال میگا مافیا کا کردار ادا کررہے ہیں ان کا دیکھی دیکھی چھوٹے اسپتالوں نے بھی عوام کی بچی کچی حالت خراب کردی ہے نہ زندہ رہ سکتے ہیں نہ مرسکتے ہیں مر کر بھی قبریں ہزاروں نہیں لاکھ تک پہنچ چکی ہیں، یاد رکھئیے منصف اور حکمران اس مافیا گردی پر شطر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا لیا تو ہمیں تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ رب بھی پوچھے گا کہ ظلم و جبر دیکھنے پر بھی خاموش کیوں رہے جبکہ تم بااختیار تھے۔!!

Exit mobile version