ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سندھ پولیس میں ترقیاں’ بڑے گھپلوں کا انکشاف
بیشمار سندھ پولیس محکمے کے ملازمین جن میں سپاہی سے لیکر انسپکٹر تک ترقی میں گھپلوں ناانصافی اقربہ پروری اور تعصب کے عنصر کی شکایت کرتے ہیں۔ اگر بات کی جائے ہائی کوٹ اور سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان کی حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی تو انھوں نے صوبہ سندھ کو پاکستان کا بدترین صوبہ قرار دیا ھے جہاں قانون اور قواعد و ضوابط کے نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی گویا جنگل کا قانون نافذ کردیا گیا ھو۔ وزیراعلیٰ سندھ من پسند آئی جی لگاکر اپنی شہنشاہیت قائم رکھتے ہیں گوکہ قانون ان کے جوتے کی نوک پر ھو۔ جہاں سندھ حکومت کی نا اہلی اور بدنیتی اور جاہلیت کے سبب ایک عام شہری شدید متاثر ھورہا ھے وہیں صحافی حضرات کو تشدد کا نشانہ بنا کر حق و سچ پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہیں ان میں پولیس کا کردار انتہائی افسوس اور مایوس کن ھے کیونکہ پولیس آئین کے بجائے انکی ذاتی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو ترجیح دے رہی ھے۔ جس سے پولیس کا مورل انتہائی گر چکا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! ڈی آئی جی ایڈمن کراچی کے آفس سے جاری کردہ سینارٹی لسٹ میں ایک بار پھر پولیس رولز کو نظرانداز کرتے ہوئے سینارٹی لسٹ ڈیٹ آف بھرتی سے جاری کردی۔ قائم کردہ کمیٹی کو کسی اچھے وکیل سےرہنمائی لینے کی ضرورت ہے تاکہ پولیس رولز کو سمجھ سکیں۔جس کے باب تیرہ فقرہ نمبر ایک کے مطابق اے بی اور سی ڈی لسٹ کے حساب سے پروموشن دی جائیگی۔ قائم کردہ کمیٹی کو پولیس رولز میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ پولیس رولز ابھی موجود اور نافذ العمل ہےاس میں واضح طور پر درج ہیکہ لوئر سب آرڈینیٹ کی ترقی سی ون کی لسٹ کے مطابق ہوگی پھر کہا سے یہ کمیٹی ڈیٹ آف بھرتی سے سینارٹی لسٹ مرتب کررہی ہے۔کمیٹی صرف کلرک مافیا کی مرتب کردہ لسٹ کو ہی آگے کررہی ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل کی کنفرمیشن دو سال بعد ہوتی ہے جو ہیڈ کانسٹیبلان اگست سنہ دو ہزار اٹھارہ میں کنفرم ہوئے وہ جونیر ہوگئے ہیں اور جو ہیڈ کانسٹیبلان سنہ دو ہزار بیس میں پروموٹ ہوئے اور ابھی تک کنفرم بھی نہیں ہوئے وہ اس وقت انٹرمیڈیٹ کورس میں مصروف اور اپائنٹمنٹ پہلے ہونے کی وجہ سے بھی لسٹ میں اوپر کے نمبروں پر موجود ہیں۔ پولیس کا لوئر طبقے کی نوکری سب سے زیادہ سخت ہے اور قربانیاں بھی دیتی آرہی ہے اس کے باوجود سندھ گورنمنٹ پولیس کی اپ گریڈ نہیں کررہی اور بالا افسران بھی چپ سادھے ہوئے ہیں ورنہ اس مسئلے پر بھی احتجاجاً بالا افسران چھٹیوں پر جاسکتے تھے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پروموشن کے حوالے سےصرف اپر کلاس کیلئے تھی جس کو جواز بنا کر کلرک مافیا نے اسکو لوئر طبقے پر استعمال کردیا اور بالا افسران نے بھی اسکو انڈوز کردیا ھے۔ صحافی دوستوں سے امید ہیکہ اس مسئلے کو بالا افسران تک پہنچائیں اور اس ناانصافی کو روکیں۔ سروس ٹربیونل سے کیس جیتا ہے پھر بھی غور نہیں کررہے۔ ھائی کورٹ سے بھی حکم ملا ہے پھر بھی۔ سپریم کورٹ سے بھی حکم مل گیا ہے۔ پھر بتاٸیں کہاں جاٸیں۔۔۔۔معززقارئیں!! پولیس کا محکمہ انتظامی امور کو بہتر استوار کرنے میں معاون ھوتا ھے جب اس محکمے کے اندر ہی بے پناہ کرپشن بدعنوانی لاقانونیت ھوگی تو یہ کس طرح عوام کو قانون کی پابندی پر معمور کرسکتے ہیں کیا بااختیار ادارے یونہی تماشا بنے دیکھتے رہیں گے اورانکی بیلک میلنگ میں آتے رہیں گے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
