ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ شہر کراچی کو انٹرنیشنل طرز پر استوار
ابھی کراچی کے علاقوں کی تاریخ اور پس منظر پر کالم تحریر کرکے شیئر کیا تھا کہ ھمارے ایک دوست نے کراچی کے متعلق ایسی خبر دی کہ بنا ہنسی کے رہ نہ سکا گویا ایسا محسوس ہورہا تھا کوئی خواب و خیالات یا یوں سمجھئے کہ گل بکاؤلی کی داستان سنادی گئی ھو کیونکہ یہ خبر قومی و سینیٹ کے ایوان کے ممبران کیلئے قہقوں بھری بات ھے کیونکہ اب دنیا بھی جان چکی ھے کہ سندھ حکومت خاص کر پاکستان پیپلز پارٹی جب تک صوبہ سندھ میں برسرِ اقتدار میں ھے ایسا ھونا کبھی بھی ممکن نہیں اس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن لوٹ مار بدعنوانی بے ضابطگی اور نااہلی اور قابلیت کی کمی ھے۔ عوامی حلقے کہتے ھیں کہ سندھ میں سیاسی ادوار ہمیشہ سے پی پی پی کے خراب اور بدترین رہے ہیں یہ تعصب عصبیت اور سندھ کارڈ کے استعمال سے آتے رہے ہیں انہیں صرف ریاست اور اداروں کو بلیک میلنگ کرنا آتا ھے۔ خیر خبر کی طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں لکھا ہے کہ سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ شہر کراچی کو انٹرنیشنل طرز پر استوار کرنا ھے۔ سندھ اسمبلی میں بل پیش ہونے کی متوقع منظوری کیلئے تیار ھے۔ بل پچیس نکات پر محیط ھے۔ جو آپ کی خدمت میں پیش کررھا ھوں۔۔۔۔!!
1۔ شہر کراچی میں انیس سو نوے سے پرانے ماڈل کی تمام چھوٹی بڑی گاڑیاں کراچی سے بے دخل کردی جائیں گی
2۔ شہر کراچی میں دکانوں کو گلاس ڈور سے منصوب لازم و محدود کردیا جائیگا
3۔ شہر کراچی میں فٹ پاتھ کی تعمیری حصہ حکومت لازم قرار دیگی
4۔ شہر کراچی سے ٹھیلہ کلچر کا مکمل خاتمہ کردیا جائیگا
5۔ شہر کراچی سے مالبردار جانور گاڑیاں بے دخل کردی جائیں گی
6۔ شہر کراچی میں دکانوں کے سائن بورڈز سائز و فاصلہ کا یکسانیت ہونا لازم قرار پائے گا
7۔ شہر کراچی میں تمام عمارتیں سالانہ کلرسازی بلڈر اور یونین ذمہدار لازم ہونا قرار پائیں گی
8۔ شہر کراچی میں مین شاہراہوں کی جانب بیک اپ ریکارڈنگ کیمرے نئی تعمیر پر بلڈر پر لازم قرار دیئے جائیں گے
9۔ شہر کراچی میں پلوں کے نیچے سے فلاحی اداروں کے علاوہ قائم تجارتی قبضوں کا اختتام لازم قرار دیا جائیگا
10۔ شہر کراچی میں چھوٹی بڑی گاڑیوں کے غیر قانونی اسٹینڈ جرم قرار دیئے جائیں گے
11۔ شہر کراچی میں عوامی جگہوں پر ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں جرم قرار دی جائینگی
12۔ شہر کراچی میں ڈینٹنگ پینٹنگ کو بڑے پلاٹوں میں منتقل کرنے کے اقدامات لازم قرار دیئے جائیں گے
13۔ شہر کراچی میں ریپیئرنگ کے شعبے کا مین روڈ کی دکانوں سے منتقلی لازم قرار دی جائیگی
14۔ شہر کراچی میں بلڈر شعبے سے گرے ورک سے متعلق کاروباری مراکز و مصنوعات شہر سے باہر کردی جائیں گی
15۔ شہر کراچی میں برسہ برس سے روڈوں پر کھڑی کنڈم اسکریپ گاڑیوں کو شہر سے بے دخل و اسکریپ کرنا لازم قرار دیا جائیگا
16۔ شہر کراچی میں لگے تناور درختوں کو سات فٹ تک قومی جھنڈے کے رنگوں سے منصوب لازم قرار دیا جائیگا
17۔ شہر کراچی میں چھوٹی بڑی مین شاہراوں پر سیاسی و غیر سیاسی عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی جائیگی
18۔ شہر کراچی میں ہزار سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں میں سی این جی لگانا جرم قرار دیا جائیگا
19۔ شہر کراچی میں نیٹ کیبلز کی وائرلیس سسٹم پر منتقلی لازم قرار پائے گی
20۔ شہر کراچی میں حقیقی گداگروں کیلئےضلعی سطح پر شیلٹر ہومز کا قیام لازم قرار پائے گا
21۔ شہر کراچی میں آمد و خارجی راستوں پر نادرہ چیک پوسٹوں کا قیام ھوگا
22۔ شہر کراچی میں ٹول گیٹس پر فائر بریگیڈ و ایمبولینس کا قیام ہوگا
23۔شہر کراچی میں سائن بورڈز اور بل بورڈزکی بحالی کیلئے کورٹ سے استدعاکرنے کا عزم ہوگا
24۔ شہر کراچی میں بڑے برساتی نالوں میں عوامی مسافری کشتیاں چلانے کا عزم ہوگا
25۔ شہرکراچی میں برساتی نالوں کے اطراف کو تفریحی و فوڈ سائڈز مقامات بنانے کا عزم ہوگا۔۔۔!! سندھ حکومت کراچی کو پہلے فیز میں درج بالا اقدامات سےآراستہ کرکے شہر کو گڈ لوکنگ بنانے میں سنجیدگی رکھتی ہے، سیکنڈ فیز میں روڈ اور برجز کےلئے کوشاں ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! سب سے پہلے میں یہ وضاحت کردوں کہ جو نکات سندھ اسمبلی سے پاس کرائے جارھے ہیں ان میں سے بیشتر کثیر تعداد میں پہلے سے ہی قانون میں ھیں شائد ایک آدھ ہی کوئی نکات ھو جو نہ ھو۔ یہاں سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ حیدرآباد ڈویژن میرپورخاص ڈویژن نوابشاہ ڈویژن سکھر ڈویژن اور لاڑکانہ ڈویژن جوکہ یہ سب کے سب اندرون سندھ کہلاتے ہیں یہاں کی حالتیں افریقہ کے جنگل سے بھی بدتر ہیں جبکہ سالانہ بجٹ میں ان ڈویژن کی ترقی و تعمیر میں کھربوں رقم خرچ ہوچکی ہیں اور یہ سب کی سب پی پی پی کی حکومت نے خرچ کیئے ہیں لازم ھے ان کا حساب بھی انہیں ہی دینا پڑیگا یقیناً ملکی و بین الاقوامی سطح پر یہ زد عام ہے کہ مسٹر زرداری ٹین پرسن لیکن یہ کہاوت سراسر غلط ثابت ھوتی ھے اگر زمینی حقائق جانیں تو!! آج کے دور کا بچہ بچہ حساب و کتاب اور موازنے کے عمل میں مہارت رکھتا ھے کسی کا کچھ نہیں ھونا بس عوام کا پسنا اور عوام کو ھی رونا ھے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
