ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن بل 2021 پر گورنر کا اعتراض
چند روز قبل سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن بل سنہ دو ہزار اکیس سندھ اسمبلی سے بھاری اکثریت کیساتھ منظور کرلیا۔ اس بل میں حکومت سندھ کیجانب سے صحافیوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جارہا تھا جس طرح اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد ریاستِ پاکستان’ عوامی حقوق اور ملکی سلامتی کو بے دریخ نوچ ڈالا۔ اسی طرح اس بل کے ساتھ بدنیتی کے عوامل کو شامل رکھا گیا تھا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی گورنر نے صحافیوں کے حقوق کیلئے جراتمندانہ قدم اٹھایا ھے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی سے منظور سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن بل سنہ دو ہزاراکیس پردستخط کرنے کے بجائے اعتراض لگا کر واپس کردیا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل پر دو اعتراضات لگا کر واپس وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوا دیجئے جسمیں کہا گیا ھیکہ سندھ حکومت اپنی مرضی سے کمیشن بنارہی ھے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایک اعتراض یہ کیا کہ اس بل میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا گیا ھے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ سندھ حکومت نے رول نمبر چوبیس کی خلاف ورزی کی ھے اسکے علاوہ واضع کیاکہ کمیشن یا کمیٹی صرف اور صرف صحافی تنظیموں کے نمائندگان پر مشتمل ھو البتہ سرپرستی اور مالی و دیگر تعاون میں سندھ حکومت اپنا مثبت کردار ادا کرے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! چیف سیکرٹری کو چیف منسٹر نے لکھا ھے کہ آپ کیبنٹ میٹنگ میں اس بل کو پیش کریں تاکہ بل کو ریکنسیڈر کیا جاسکے۔ معزز قارئین!! ہمارے کچھ دوست صحافیوں نے شائد بل کا مطالعہ کیئے بغیرگورنر سندھ عمران اسماعیل کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان کی نیت پر شک کیا اور صحافیوں کے حقوق پر قدغن لگانے والوں کو راحت بخشی۔ یاد رھے کہ کراچی پریس کلب ہو یا کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور اور برنا تمام کی تمام کراچی کے صحافیوں کی مشترکہ نمائندگی کرتی ہیں۔ مسائل ھوں یا مشکلات صحافی ہمیشہ ایک صف میں کھڑا رہا ھے اور کھڑا رہنا چاہتاھے خدارا درجہ بندی گروہ بندی سے دور رہیں مشکلات ھوں تو سب ملکر مقابلہ کرینگے لیکن آسان راستہ نہ اپنائیں۔ تاریخ ہمیشہ انھیں یاد رکھتی ھے جو اصول و قوائد’ عدل و انصاف پر مضبوطی سے کاربند رہے وگرنہ ہر زمانے میں امیر سادقین کوپیک اور میرجعفر و میر صادق بھی رھے ہیں۔ھر تکلیف کے بعد راحت ھے اور ہر امتحان کے بعد انعام بھی لیکن حق و سچ پر کاربند بھی شرط ھے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
