*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سلطان قطب الدین ایبک۔۔۔۔ !!*
*کالمکار : جاویدصدیقی*
آج امت مسلمہ ایک ارب سے زائد یعنی دنیا کی آبادی کا پچھتر واں حصہ ھے اور اس دنیا میں ستاون کے قریب مسلم ممالک یعنی مسلم ریاستیں بھی ہیں جو ایک اندازے کے مطابق دنیا کی دولت کا چھیانوے فیصد حصہ رکھتی ہیں ان ستاون مسلم ممالک میں ہر طرح کی نایاب معدنیات سمیت ہیرے جواہرات بیش بہا زرعی اجناس پہاڑ سمندر نہریں میدان ریگستان نخلستان سرسبز و شادابی جنگلات گوکہ ہر قدرتی نعمتوں سے نایاب حتیٰ کہ ایک مسلم ملک بھی سب سے زیادہ طاقتور ایٹمی صلاحیت کا مالک ھے اس کے ایٹمی صلاحیت دنیا بھر کے سپر پاور ممالک سے کئی سو گناہ جدید خطوط پر مزین طاقتور ھے لیکن ہماری عوام اور حکمران کی دین سے دوری کے سبب آج یہ دن دیکھنے پڑ رھے ہیں۔ دین محمدی یعنی نظام مصطفیٰ ﷺ میں ہی اصل ترقی کامیابی امن و سکون اور خوشحالی پنہاں ہیں اور دین کا جز جہاد ھے "جہاد فی سبیل اللہ”۔ تاریخ اسلام ہو یا احادیث مبارکہ ہمیں جہاد کی تلقین اور اس قدر افادیت بتاتی ھے کہ گویا دین محمدی کا اصل جز ہی جہاد میں موجود ھے یہی وجہ ھے کہ ولی صفت بادشاہ حکمران اور سپہ سالاروں نے جہادی عمل کو رکنے نہ دیا صحابہ اجمعین کی زندگی بھی جہاد میں بسر رہی نواسہ رسول ﷺ نے بھی کوفہ میں آکر باطل کے خلاف جہاد کیا۔ جہاد کا جب ذکر چھڑ جاتا ھے تو وہاں ترک سپہ سالاروں کے جہاد روشن اور سنہری الفاظ میں نظر آتے ہیں آج وقت کی ضرورت ھے کہ ھم اپنی نئی نسل کو تاریخ کے ان سنہری باب سے آگاہ کریں کہ امت مسلمہ ہمیشہ آزاد خودمختار اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر چلنے والی تھی، کیا خوب کہا ھے معروف لکھاری خان آصف مرحوم نے کہ ” نظام مصطفیٰ ﷺ میں تھے تو دنیا پے حکومت تھی، نظام مصطفیٰ ﷺ چھوڑا تو دنیا کی غلامی کی "۔ آج میرے کالم کا عنوان
سلطان قطب الدین ایبک ھے ۔۔۔۔!! سنہ گیارہ سو پچاس عیسوی میں ترکستان "ترک، ترکی پھر ترکیہ” کے غریب گھر میں پیدا ہونے والے قطب کے گھرانے کا ایک غلاموں پر مشتمل "ایبک” نامی قبیلے سے تھا۔ دور جہالت تھا، ابھی لڑکپن ہی تھا، والدین نے اپنے سے جدا کرکے نشاپور میں لگنے والی غلاموں کی منڈی میں بولی لگاکر اسے بیچ ڈالا، اسے آگے فخر الدین عبد العزیز کوفی، قاضی، تاجر اور ابوحنیفہ کی اولاد میں سے ایک نے خرید لیا۔
گھر پہنچ کر قاضی نے بچے سے اسکا نام ہوچھا، کمسن غلام نے نام بتانے سے انکار کر دیا: "اگر نام بتا دیا تو یہ میرے نام کی توہین ہو گی، اب آپکا غلام ہوں، جس نام سے پکاریں گے، وہی میرا نام ہوگا”۔ قاضی کو بچے سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی حیرت ہوئی اور اسکا جواب اچھا لگا کہ ابھی بچہ ہے، غلام ہے، عزت نفس کا کتنا احساس رکھتا ہے۔ رحمدل قاضی نے مشقت لینے کی بجائے اسکی اچھی تربیت، تعلیم اور پرورشں کرنے کا فیصلہ کیا اور چھوٹے غلام پر خاص توجہ دی۔ بچہ شروع سے ہی بہادر تھا، جنگجوانہ مشاغل کھیلنے سے شوق رکھتا۔ بہت کم عرصے میں تعلیم کیساتھ ساتھ گھڑ سواری، تلوار، نیزہ بازی اور تیر اندازی میں مہارت حاصل کرلی۔ قاضی غلام کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ جاتا۔ سلطان شہاب الدین غوری، غزنی کا شہنشاہ، ایک روز شاہی گھڑ دوڑوں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا۔ قاضی غلام کو لے کر سلطان کے پاس پہنچ گیا:” سرکار، ساری سلطنت میں اس غلام کا گھڑ سواری میں کوئی مقابل نہ ثانی ملے گا "۔ سلطان خوبصورت، صحت مند، سانولہ، پرکشش رنگت والے نوجوان غلام کو دیکھ کر مسکرایا۔ جنگلی گھوڑا وحشی تصور کیا جاتا یے، جسے تربیت دینا مشکل ترین کام یے۔ غلام سے پوچھا: ” گھوڑے کو کتنا تیز دوڑا سکتے ہو؟ ” غلام نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا: ” حضور، گھوڑے کو تیز دوڑانے میں کوئی مہارت نہیں، اصل مہارت اسے اپنا تابع بنانا ہے”۔ سلطان نے ستائشگی سے غلام کو دیکھا، ایک بہترین گھوڑے کی لگام غلام کے ہاتھ میں تھمادی۔ وہ اچھل کر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا، کچھ دور دوڑا کر واپس لے آیا، انتہائی انوکھی بات یہ ہوئی کہ گھوڑا واپسی پر اپنے سُموں کے جن نشانات پر چل کر گیا تھا، انہیں قدموں واپس لایا۔ یہ سب دیکھنے والوں کیلئے نہایت ناقابل یقین تھا، اس سے پہلے ایسی مہارت کبھی کسی میں دیکھی نہ گئی تھی۔ سلطان غلام کی مہارت سے نہایت متاثر ہوا۔ جو جانور کو اپنا تابع و مطیع بناسکتا ہے اس کیلئے انسانوں کو فرمانبردار بنانا مشکل نہیں ہوگا۔ سلطان نے اسی وقت غلام کو منہ بولے دام دے کر مصایب خاص میں شامل کرلیا۔
ایک روز سلطان دربار میں بیٹھا خوش ہوکر غلاموں کو تحائف تقسیم کررہا تھا، غلام خاص نے وہ تمام ضعیف غلاموں میں بانٹ دئیے۔ سلطان یہ دیکھ کر اسے مزید پسند کرتے اعلیٰ ترین عہدے ” امیر خور” پر ترقی دے دی، پھر شاہی اصطبل کا سربراہ مقرر کر دیا جہاں سینکڑوں مال بردار اور جنگی تربیت یافتہ گھوڑوں کو ہمہ وقت سلطنت کی حفاظت کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ غلام نے رفتہ رفتہ قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کا سکہ سلطان پر بٹھا کر اسکا مزید قرب حاصل کرلیا۔ سنہ گیارہ سو بیانوے عیسوی کو سلطان محمد غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کیا بیالیس سالہ غلام کو پہلے یہاں کا گورنر اور پھر شاہی افواج کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اگلے سال نوجوان غلام سپہ سالار نے سلطان کے حکم پر پڑوسی دشمن قنوج پر چڑھائی کردی، پہلے سے بڑھ کر سپہ گری کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ سلطان نے غلام کو اپنا فرزند بناکر "فرمان فرزندی” کے اختیارات دے دیئے اور دو میں سے ایک نایاب ترین قیمتی سفید ہاتھی اسے انعام میں دیا۔ یہ وہ دور تھا جب اسلام اپنے عروج پر اور سارا یورپ جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبا پڑا تھا۔ اسلامی تاریخ کا ایک بہادر غلام سپہ سالار، قطب الدین ایبک پھر وہ عظیم حکمران بنا جس نے دہلی فتح کرکے یہاں سب سے پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی۔ یہاں سے غلام قطب الدین کا ستارہ چمکتا رہا، اسکی افواج گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا، دوآبہ، بہار اور بنگال میں اسلام کا سبز پرچم لہراتی داخل ہو گئیں۔ پندرہ مارچ سنہ بارہ سو چھ عیسوی کو سلطان محمد غوری کو جہلم کے قریب گکھڑوں قبیلے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا ہڑا، غلام پاس نہیں تھا، یہ مارا گیا۔ تیئس جون سنہ بارہ سو چھ عیسوی کو لاہور میں ایبک کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ قطب الدین ایبک کی زندگی کا سارا زمانہ فتوحات میں گزرا، کبھی شکست نہیں کھائی۔ تخت پر بیٹھ کر سب سے پہلے عظیم ترین سلطنت پر توجہ دی۔ بیشتر وقت نوزائیدہ اسلامی سلطنت کا امن و امان قائم رکھنے میں گزرا۔ عالموں کا قدر دان، فیاضی اور داد و درویشی سے تاریخ میں ” لکھ بخش ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یکم نومبر سنہ بارہ سو انیس عیسوی لاہور میں چوگان "پولو” کھیلتے گھوڑے سے گر کر راہ ملک عدم ہوا، انار کلی بازار لاہور کے ایک کوچے ایبک، ایبک روڈ میں دفنادیا گیا۔ ہماری نسلیں سائنس بلخصوص کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی جدیدیت سے ضرور آراستہ ہوں مگر اسکے ساتھ ساتھ اپنے دین اور اسلامی تاریخ سے مکمل آگاہی زندگی کی درست راہ اور کامیابی کیلئے ناگزیر رہتا ھے۔۔۔۔!!
