BBC Urdu TV

عنوان: سعودی فرماں روا شہزادہ محمد بن سلمان کے گمراہ کن نظریے کی مخالفت

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: سعودی فرماں روا شہزادہ محمد بن سلمان کے گمراہ کن نظریے کی مخالفت*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان ایک یہودی ماں کی اولاد ھے اور وہ مکمل طور پر یہودی طرز عمل اور انکی معاونت میں جھکا رہتا ھے اور انکے نظریہ و ایجنڈے کی تکمیل میں نرم کوشہ اختیار رکھتا ھے کیونکہ اس کی تمام عمر تعلیم و تربیت یہودیوں کے زیر سرپرستی رہی ھے یہی عمل پاکستان میں عمران خان اور اس کے بچوں کا بھی ھے۔ گزشتہ دنوں سعودی فتویٰ ہاؤس نے سعودی فرماں روا شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔ سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے "مذاہب کے اتحاد” اور "ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:
مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ – فتویٰ نمبر 19402
"تمام تعریفیں اللّٰہ کیلئے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جنکے بعد کوئی نبی نہیں، اور انکے اہلِ بیت و صحابہ اور جو انکے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں ۔۔۔” مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد اسلام، یہودیت، اور عیسائیت کے بارے میں پیش کئے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا: فتویٰ نمبر 19402
1. پہلا نقطہ:
اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بیشک اللّٰہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
2. دوسرا نقطہ:
قرآن مجید اللّٰہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کردیا ہے۔
3. تیسرا نقطہ:
تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔
4. چوتھا نقطہ:
حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا۔
5. پانچواں نقطہ:
جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
6. چھٹا نقطہ:
مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جسکا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔
7. ساتواں نقطہ:
اس دعوت کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائیگا اور مسلمانوں کا کفار کیساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائیگا، جس سے جہاد اور اللّٰہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائیگی۔
8. آٹھواں نقطہ:
اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔
9. نواں نقطہ:
• مسلمان کے لئے اس دعوت کی حمایت کرنا، اسکے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اسکے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔
• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء "اللّٰہ اس فیصلے کو کمیٹی کیلئے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین۔ اللّٰہ سب سے بڑا ہے۔”
اس پیغام امت مسلمہ کو بیدار اور آگاہی فراہم کرنے کیلئے لکھا گیا ھے تاکہ آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں رہیں۔۔۔۔!!

Exit mobile version