*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: رزق آسمان سے پورا اترتا ہے ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
یہ بات تو ہر انسان بخوبی جانتا ھے کہ رازق اللہ واحد لاشریک ھے، خاص طور پر مسلمان کو پختہ عقیدہ اور ایمان بھی ہوتا ھے خود رب العزت نے مقدس الہٰی کتاب قرآن المجید و الفرقان الحمید میں کھل کر واضع طور پر کائنات کی تمام مخلوق کو بآور کرادیا کہ آیت ترجمہ: اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(سورة الجمعہ)۔ اللہ نے اپنی منشاء و حکمت کے تحت کچھ عوامل انسانوں پر محیط کردیئے تاکہ انکی احسن ادائیگی کے سبب نہ صرف جنت بلکہ اللہ کے پوشیدہ انعامات کو حقدار بن سکیں۔ انسان زمین پر محنت کرکے بیچ ڈال دیتا ھے اس بیج کو زندگی اور توانائی رب عطا کرتا ھے اور اپنے شکر گزار ایماندار سچے بندوں کی محنت میں اپنا فضل اور برکت داخل کرکے بندے کے خواب و خیالوں سے کہیں زیادہ بہترین فصل عطا کردیتا ھے تاکہ اللہ کے وہ بندے جو عاجز و کمزور اور غریب ہیں ان تک اللہ کا یہ فضل پہنچ سکے لیکن اکثر بدبخت انسان اللہ کی اس نعمت کو اپنی محنت اور اپنا حق سمجھ بیٹھتے ہیں اور انتہائی نا قدری کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کرکے ایک جانب مہنگے ترین داموں فروخت کرتے ہیں تو دوسری جانب کثیر تعداد ہونے کے سبب سڑا گلا کر ضائع کردیتے ہیں مگر انسان کیلئے کھانے کا لقمہ بننے نہیں دیتے انکے اس غرور و تکبر لالچ و حرص اور نفس پرستی کے سبب اللہ اپنی تمام رحمتیں برکتیں فضل و کرم چھین لیتا ھے اور انہیں ذائقہ دار اشیاء سے بھی محروم جکردیتا ھے۔ کیونکہ لوگ منصف نہیں، ان لوگوں میں زمیندار، جاگیردار، آڑھتی، مڈل مین اور ریڑھی بان بھی شامل ہیں گویا تھوک مال سے ریٹلرز حضرات بھی ناشکرے اور نافرمانی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کھانے پینے کی کسی بھی تقریبات کو دیکھیں تو وحشی پن، بھوکا پن اور جنگلی پن جس طرح کھانے پر ٹوٹتے ہیں ان سب کا مہذب اخلاق اور پاکیزگی عیاں ہوجاتی ھے۔ اپنی اس بداخلاقی اور بے صبری کے سبب کھانے کی ڈشوں میں بے پناہ کھانا ضائع ہوجاتا ھے جو کسی کے کھانے کے قابل نہیں ہوتا لیکن بھوک سے مجبور غربت اور مفلسی و لاچارگی سے بھرے لوگ یہی جھوٹا بچا کچا گندہ کھانے پر مجبور ہوتے ہیں حقیقت تو یہ ھے کہ رزق آسمان سے پورا اترتا ہے. اللہ اپنے بندوں کیساتھ ساتھ ہر زندہ جان کیلئے رزق بھرپور نازل کرتا ھے انسان تو انسان کا آج نوالہ چھین رھا ھے لیکن قدرت کی شان دیکھیں کہ جانور حشرات پرند و چرند کو رب العزت روزانہ پیٹ بھر کر رکھتا ھے جانور ہوتے ہوئے بھی جھوٹا کھانا نہیں کھاتے اب سوچنا سمجھنا غور کرنا انسان کی ذمہداری ھے کہ وہ رب کی اس نعمت کو کس طرح استعمال کررھے ہیں یاد رکھئے بعد موت روز محشر دانے دانے کا حساب دینا ہوگا۔ دعا کرتا ھوں کہ اللہ مجھ سمیت امت مسلمہ کو شکر گزار صابر قناعت پسند بندوں میں شمار کئے رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔۔!!
