BBC Urdu TV

عنوان: دین محمدی ﷺ میں دولت کا اصل رمز

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: دین محمدی ﷺ میں دولت کا اصل رمز۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے مخلوقات میں ذہانت و قابلیت درجہ بہ درجہ تقسیم کی ھیں، یہ ضروری نہیں کہ بہترین تعلیمی ادارہ، بہترین اساتذہ کرام اور بہترین ماحول ہی ایک ذہین قابل ہونہار طالبعلم تیار کرتا ھے بلکہ حقیقت تو یہ ھے کہ ایک ذہین قابل ہونہار طالبعلم قدرتی صلاحیت کو بروکار لاتے ھوئے خود کو تیار کرتا ھے، پاکستان ھو یا ہندوستان یا پھر بنگلہ دیش یہ وہ ممالک ھیں جہاں کی عوامی صورتحال کثیر تعداد غربت سے تعلق رکھتی ھے یہاں کے وہ بچے جو قدرتی طور پر عام طالبعلموں سے زیادہ ذہین ہیں وہ وقت کی قدر جانتے ھوئے حصول علم کو اسی کے انداز و طریق سے حاصل کرتے ھیں اور اپنی ذہانت پھرتی چالاکی اور قابلیت کے مثبت پہلوؤں کو اپنے شعور میں اجاگر کرتے ھوئے دور حاضر کی جدیدیت کو سمجھ کر دو قدم آگے بڑھتے رہتے ھیں۔ ایک وہ والدین بھی ھیں جو اپنی اولادوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے ایک جانب بے دریغ دولت کا استعمال تو دوسری جانب ہر غلط و سہی راستہ اپنانے میں قطعی دیر نہیں کرتے اور ایک ایسے بھی والدین ہیں جو اپنی اولاد کی خداد صلاحیت کو بھانپنے کے باوجود سوائے صبر و شکر کے کچھ نہیں کرسکتے لیکن اللہ کا نظام بڑا عالیشان ھے وہ جسے اپنی خاص صلاحیت سے آراستہ کرتا ھے وہی رب اسکی بلندی اور خوشحالی کا بھی بندوبست کردیتا ھے کیونکہ رب جانتا ھے کہ یہ بندہ و بندی ہر حال میں میرا شکر ادا کرتے رہیں گے اور بلندی پر پہنچنے کے باوجود اپنے سے کمزور مستحق کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ ایسے بندوں اور بندیوں کیلئے اللہ سبحان تعالیٰ اپنے ان بندوں کو چن کر منتخب کرکے صاحب ثروت اور صاحب استطاعت سے کمزور مستحقین کی مدد اور رہنمائی فرماتا ھے، اللہ تبارک تعالیٰ کو سب سے عزیز ترین پیاری ترین محبوب ترین عبادت و نیکی رب العزت اور اسکے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کی انسانوں سے ہمدردی سہارا اور امداد کے امور پسندیدہ ترین ھیں، یہی سبب ھے کہ آپ ﷺ کا دربار عالیشان میں بڑے بڑے دولت مند صحابی اپنی دولت کو نچھاور کرکے خوش نصیبی سمجھتے تھے کہ اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ نے یہ شرف بخشا کیونکہ ان اصحاب اجمعین نے آپ ﷺ سے تعلیم و تربیت پائی تھی جس میں سب سے پہلا اصول زندگی اور حیات جاویدانی کی راہ پانے کیلئے کثرت خدمت خلق میں ھے، یہی سبب ھے کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود مومنین و مومینات مسلمین و مسلیمات کا وطیرہ رھا ھے کہ سچائی دیانتداری اور ایمانداری کیساتھ گھر والوں رشتہ داروں آس پڑوس ہمسائیوں کیساتھ مالی زبانی اور خدمات کو اولین عبادت و نیکی سمجھتے ھوئے جانتے ھوئے کرنے میں تاخیر ھونے نہیں دیتے انکی یہ خدمات چندہ خیرات صدقات عطیات زکواة اور فطرہ پر ہرگز ہرگز محیط نہیں ھوتی تھیں اور ھوتی ھیں یہ خدمات خالصتاً ذاتی املاک اور ذاتی دولت پر کرتے ھیں کیونکہ انھوں نے قرآن و حدیث کیساتھ ساتھ صحابہ اجمعین کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کر رکھا ھوتا ھے یہ رحمٰن کے مومن و مومنات، مسلم و مسلمات اچھی طرح واقف ھیں کہ جس رب العزت نے انہیں باعزت دولت و رزق کی فراوانی عطا کی ھے تو اسی دولت و رزق سے اللہ کے پاک کردہ املاک کو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت میں تقسیم کرنا ھے تاکہ عزت نفس کا بھی اہتمام باقی رھے۔ معزز قارئین آج کے زمانے میں لوگ اشتہاراتی طریق یامسلک کی آگ یا کمیونیٹی کی لاج یا گروہ بندی و تنظیم کی اطاعت میں لاکھوں نہیں کڑوروں اربوں خرچ کرکے اس لئے از خود مطمعین ھوجاتا ھے کہ اس نے بڑی نیکی کا کام کرڈالا۔ درحقیقت قرآن و احادیث کے مطالعہ اور تحقیق کے نتائج کو دیکھتے ھیں تو پتا چلتا ھے یہ عمل مکمل خلاف شریعت اور خلاف قرآن ھے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ کا سختی سے فرمان ھے کہ پہلے اپنے بہن بھائی اور پھر قریبی رشتہ داروں کو دیکھو کہ کوئی مستحق تو نہیں اگر ھے تو اپنی خواہشات پسند نا پسند کو ایک طرف پھینک ڈالو اور قریبی خونی رشتہ کے حق کو پہلے ادا کرو پھر قریبی رشتہ دار کو لیکن افسوس مولوی ملا اپنے مقتدیوں اورعقیدت مندوں سے کبھی مسجد کبھی مدرسہ تو کبھی دینی خدمات پر عطیات گھسیٹ لیتا ھے جو سراسر جائز حقدار پر ڈاکہ ڈالا جاتا ھے ھمارا معاشرہ اس وقت تک پر امن و پر سکون اور خوشحال و ترقی کرسکے گا جب تک کہ وہ مکمل طور پر سختی کیساتھ اصول قرآن اور اصول سنت پر عمل پیرا ھوجائے اس کیلئے ریاستی اور حکومتی و آئینی طور پر سختی سے عمل کروانا لازم و ملزوم ھوگا یقیناً ایک نام نہاد مسلم ریاست اور نام نہاد مسلم حکمران کیلئے نا ممکن ھے یہی سبب ھے کہ ھمارا ملک کا آوے کا آوا غیر مسلم اصولوں پر چل کر خود کو کہیں حاجی تو کہیں شریف کہلاتا ھے وردی میں ھو یا بغیر وردی یہودی و نصاریٰ کی اتباع کرتے تھکتا نہیں جس مسلم ریاست میں شراب، سود، زنا اور قتل معیوب اور گناہ نہ سمجھا جاتا ھو اور پارلیمنٹ و عدالتیں اس بابت خاموشی اختیار کریں تو ایسی ریاست اور ملک کو مسلم ملک نہیں بلکہ حرامستان ہی کہہ سکتے ھیں چاھے اس عمل میں ھمارا ملک و ریاست ہی کیوں نہ ھو کیونکہ اللہ واحد لاشریک اور رسول خدا ﷺ آخری نبی و رسول ﷺ ھیں ان سے زیادہ کوئی نہ بڑا ھے نہ قدرت رکھنے والا۔ بیشک اللہ کی گرفت بہت سخت ھے۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version