ٹائیٹل مجھے حکم ہے اذاں
عنوان دو قومی نظریہ
23مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں برصغیر پاک و ہند کی مسلمانوں کی واحد جماعت مسلم لیگ کے جلسے میں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد دنیا میں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لانا تھا۔ ایک ایسی ریاست کا قیام جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد کے تحت زندگی گزار سکیں۔ وقت نے ثابت کیا کہ الحمداللہ ہمارے آباواجداد کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ کیونکہ آج پاکستان میں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے ہندوستان رہنا پسند کیا اور ہجرت نہیں کی آج ان کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور وہ اس وقت جانوروں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ کیونکہ ان کو ہندوستان میں نہ تو ان کو مذہبی آزادی حاصل ہوسکی اور نہ ان کی دنیاوی زندگی بہتر ہوسکی اور اب یہ عالم ہے کہ اس وقت 23 کڑوڑ مسلمان ہندوستان میں غلاموں جیسی زندگی گزار رہے ہیں نہ انہیں سرکاری ملازمت ملتی ہے نہ انہیں باڈر سیکورٹی کی ڈیوٹی دی جاتی ہے نہ کسی انٹیلی جنس ادارے میں انہیں رکھا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی بڑا عہدہ دیا جاتا ہے کیونکہ ہندو ان پر اعتبار ہی نہیں کرتا ہے۔ ہندو جو اس وقت اکھنڈ بھارت کے خواب میں مبتلا ہے ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کے خواب میں مبتلا ہندوں نے اس وقت نہ صرف مسلمانوں بلکے دیگر اقلیتوں کی زنگی بھی اجیرن کر رکھی ہے۔ کسی مسلمان بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے مسلمان خواتین کی شادی ہندو مردوں سے کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر اور پلیت سمجھتے ہیں جسکی حالیہ مثال وہ مسلمان بچہ ہے جو پیاسہ تھا اور پیاس کی وجہ سے مندر میں جاکر پانی پی لیا تو اس بات پر انتہا پسندوں نے اس مظلوم کو تشدد کر کے ہلاک کردیا کہ اس پلیت نے ہمارا مندر ناپاک کردیا ہے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جس وقت دو قومی نظرے کی تحریک چل رہی تھی اسکے بالکل ساتھ ساتھ ہندوں کی مہا بھارت کی تحریک چل رہی تھی جس کو ہم بھول جاتے ہیں 1924 سے چلنے والی اس تحریک کا مقصد اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا آئیڈلوجی کا نفاذ تھا RSS بھی اسی تحریک کی پیداوار ہے۔ اس خواب میں ہندوستان میں رہنے کا حق صرف ہندوں کا ہے باقی تمام مذاہب کے لوگوں کو اگر یہاں رہنا ہوگا تو یا تو ہندو بننا ہوگا یا پھر بصورت دیگر وہ ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ ان کی شہریت ختم کردی جائے گی۔ بی جے پی اور مودی کی حکومت ان کا ایجنڈا پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ قائد اعظم نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ایک دن تمھیں احساس ہوگا کہ تمھارا فیصلہ غلط تھا کیونکہ جتنا عرصہ تم اس سرزمین پر رہو گے تمھیں ہر روز ہندوں کو یقین دلانا ہوگا کہ تم ان کے وفا دار ہو۔ ہندوستان میں اس وقت تقریبا 23 کڑوڑ مسلمان آباد ہیں اگر ہندوتوا کی آئیڈلوجی قائم ہوگئی تو ان مسلمانوں کا کیا ہوگا روہنگیا کے 8 لاکھ مسلمانوں کی مثال ہمارے سامنے ہے آج ان کا کیا حال ہے یہی حال انکا بھی ہوگا۔ آج بھارت میں آرٹیکل 370 کا نفاذ ہوچکا ہے مسلمان کیا کر سکے کچھ بھی نہیں کیونکہ انکی حیثیت سمندر کے اوپر جھاگ جیسی ہے۔ مسلمانوں کو سوچنا ہوگا کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ جس نے رہائش اختیار کی مشرکوں کے ساتھ کل قیامت میں میں اس کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ جو جس کی آبادی میں اضافے کا باعث بنے گا کل قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ کل جو لوگ دو قومی نظرے کے محالف تھے اور پاکستان کی مخالفت کرتے تھے آج انہیں وقت ثابت کر کے دکھا رہا ہے کہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور وہ غلط تھے ۔ آج الحمداللہ پاکستان نہ صرف اسلام کا قلعہ ہے بلکے اسکی بنیادیں قومیت اور لسانیت پر نہیں بلکے لا الہ اللہ محمد رسول اللہ پر قائم ہیں۔ جو تمام انسانوں کو یکساں انسانی حقوق فراہم کرتا ہے اور سب کی جان مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔
کالم کار : فہیم خان
