ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: خود اعتمادی کیساتھ عمل پیرا
انسان کے اندر خود اعتمادی ہی فیصلوں میں عدل و انصاف قائم رکھ سکتے ہیں
یہ خوداعتمادی ہی ہے جو الله پر یقین کامل کو جنم دیتا ہے جب تک انسان خود کو مضبوط نہیں کرلیتا اس وقت تک وہ معاملات و حالات کے تحت فیصلے درست نہیں کرسکتا ھے خود اعتمادی کی ہی بنیاد پر انسان خونی رشتوں میں تمیز رکھ سکتا ہے۔یوں تو انسان کے خمیر میں لالچ خودغرضی اور حرص فطرتاً پیدا ھوتے ہیں یہ جوڑے کی طرح منفی اور مثبت انداز میں پائے جاتے ہیں۔ منفی انداز شیطانی و خباثت پر ہوتا ھے جبکہ مثبت انداز رحمانیت پر اس بات کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر مثبت پہلو کی جانب دیکھیں تو یہی حرص لالچ اور خودغرضی الله اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور جنت کے حصول کیلئے بھی ہوتی ہے۔ انسان الله اور اسکے حبیب صلی بس اس طریق میں خدمت انسانیت عبادات سچ و حق اور عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کو نافع بنانا لازم ہوتا ہے۔چاہے خود کو دنیاوی نقصان کسی قدر کیوں نہ ہو اور منفی انداز مثبت طریق کے باکل الٹ یعنی مخالف ہوتا ہے اس بابت اپنے قرئین کو ایک واقعہ پیش کرتا ھوں ۔ واقعہ کچھ اسطرح ہیکہ دن بھر رضائی پر تمہار اختیار ہوگا جبکہ رات بھر میرے استعمال میں رہے گی، دو چارپائیوں میں سے ایک پر تم اور دوسری پر میں سویا کرونگا۔ ہماری واحد گائے آگے سے تمہاری جبکہ پیچھے سے میری ملکیت ہوگی۔ گائے کے منہ پر تمہارا حق ہے اسلیئے روزانہ اسے چارہ دینا اور پانی پلانا تمہاری ڈیوٹی ہوگی لیکن گائے کے پچھلے حصہ سے دودھ میں استعمال کرونگا۔ بڑے بھائی نے اپنے مرحوم باپ سے ملے ورثہ کا بٹوارہ کا اپنی طرف سے مصنوعی رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کو اپنا فیصلہ سنادیا، چھوٹا بھائی کئی روز تک اپنے بڑے بھائی کی شعبدہ بازی کو سمجھ نہ پایا۔ رات کو بڑا بھائی سونے کیلئے رضائی میں گھس جاتا جبکہ چھوٹا رات بھر سردی میں ٹھٹھرتا رہتا۔ چھوٹا بھائی اچھی خاصی مشقت کے بعد گائے کو چارہ اور پانی فراہم کرتا جبکہ بڑا بھائی آرام سے دو وقت اسکا دودھ پی جاتا پھر ایک دن گاؤں کے کسی دانا بزرگ نے اس نادان کو اپنے حق کی بازیابی کا طریقہ سمجھا دیا جس پر اس نے اگلی صبح رضائی بھگودی جب رات ہوئی تو بڑے بھائی نے دیکھا تو اسے پوچھا تو اس نے کہا دن کے وقت یہ میری ملکیت تھی سو مجھے جو مناسب لگا میں نے وہ کیا۔ دوسرے دن صبح کے وقت بڑے بھائی نے گائے کا دودھ دھونا شروع کیا تو چھوٹے نے گائے کےمنہ پر چھڑی مارنا شروع کردی جس سے دودھ دھونا دشوار ہوگیا بڑے بھائی نے احتجاج کیا تو چھوٹے نے کہا گائےآگے سے میری ملکیت ہے میں جو مرضی کروں ۔ چھوٹے بھائی میں یہ تبدیلی اور خود اعتمادی دیکھتے ہوئے بڑے بھائی نے اسکے ساتھ برابری کی بنیاد پر سمجھوتہ کرلیا۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک نیتی ہوں یا اصلاح یا پھر خدمات گوکہ زندگی کے ہر معاملات میں خود اعتمادی شرط اول ہے۔ بناء خوداعتمادی کے فرد اول سے ریاست تک کے امور درست ہونا ناممکن ہیں
کالمکار: جاوید صدیقی
