BBC Urdu TV

عنوان: حکومت کا پاکستان ریلوے پر حملہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: حکومت کا پاکستان ریلوے پر حملہ ۔۔۔۔!!!

سابقہ حکومتوں پر سخت تنقید اور کرپٹ کہنے والی موجودہ سیاسی جماعت تحریک پاکستان نے حکومت جو سوائے سندھ کے بنائی ھوئی ہے اپنے اقتدار میں جس بندر بانٹ ناقص کارکردگی اور عوامی بوجھ کی تاریخ رقم کی جارہی ھے شائد ہی اس سے قبل اس قدر عوام دشمن حکومت ثابت ھوئی ھو۔ جہاں پاکستان اسٹیل مل , پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن , پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن , واپڈا, کے ای ایس سی (کے الیکٹرک) , ایس ایس اینڈ جی سی جیسے اداروں کو مکمل ملیا میٹ کردیا گیا جن میں کچھ ادارے اپنی ہستی سے فنا ھوگئے تو کچھ کمزور لاغر حالت میں پڑے ہیں ان قومیائی اداروں کی تباہی پر پاک افواج سمیت عدالت عظمیٰ خاموش تماشائی بنی ہوئی ھے رہی سہی کسر وفاقی حکومت نے پاکستان ریلوے کی بچی کچی ساگھ اور سہولیات کو نجی اداروں کے حوالے کرکے ایک بار پھر ریلوے کو شدید مالی و انتظامی نقصان سے دوچار کرنا شروع کردیا ھے حقیقت تو یہ ھے کہ پاکستان پر جو حکمران آتا ھے اپنے باپ کی راکھیل سمجھ کر نوچتا گھسوٹتا ھے اور خمیادہ عوام بھگتی ھے کیوں ھمارے معزز ادارے اس وقت حکومت سے جواب طلب نہیں کرتے افسوس جب سب لٹ جاتا ھے اور لٹیرے ملک سے بھاگ جاتے ہیں تب یہ لکیر پیٹتے ہیں یہی حال اس حکومت کا بھی ھے کیونکہ یہ حکومت پچھلی حکومت کی بھی باپ نکلے گی بہتر ھے اسے ابھی سے کس لیا جائے اس حکومت میں وہی وزراء و مشیر برجمان ہیں جنھوں نے سابقہ حکومتوں میں بہت عیش کیئے تھے اور اب یہاں بھی کررہے ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان ریلوے کی چونتیس منافع کمانے والی مسافر ٹرینوں کی نجکاری کردی گئی ہیں۔ ریلوے کی ریکارڈ منافع کمانے والی ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کردیا گیا ہے۔ نجی کمپنیان ٹکٹ بیچ کر اور کارگو بوگی اور ڈائننگ کار کا بھی منافع حاصل کریں گی۔ ذرائع کے مطابق تمام انفرااسٹرکچر بوگیاں، اسٹاف، انجن، ڈرائیور لاکھوں روپے یومیہ کا ڈیزل ریلوے کا ہوگاجبکہ نجی کمپنیان ریلوے کے بکنگ آفس بجلی اور بلڈنگس بھی استعمال کریں گی، ریلوے انجنوں اور بوگیوں کی ٹوٹ پھوٹ، کسی بھی نقصان کی صورت میں ورکشاپس تکنیکی عملہ اسپئیر پارٹس تمام ریلوے کے ہونگے۔ ذرائع کے مطابق دو ارب تیرہ کروڑ روپے کمانے والی قراقرم ایکسپرہس کی ایک ارب چوراسی کروڑ روپے کی بولی لگائی گئی، پراکس نے راولپنڈی کراچی راولپنڈی کے درمیان چلنے والی تیزگام کیلئے ایک ارب اٹھاون کروڑ روپے، سرگودھا کراچی کے لئے چلنے والی ملت ایکسپریس کے لئے ایک ارب اٹھارہ کروڑ پچاس لاکھ، سیالکوٹ کراچی کے درمیان چلنے والی علامہ اقبال ایکسپریس کے لئے ایک ارب چودہ کروڑ انہتر لاکھ، راولپنڈی کراچی کے درمیان چلنے والی پاکستان کے لئے ایک ارب تینتیس کروڑ دس لاکھ روپے کی بولی دی ہے۔ ایک ارب پچاسی کروڑ روپے سے زائد کمائی والی پاکستان ایکسپریس ایک ارب تینتیس کروڑ دس لاکھ کی بولی لگائی گئی ہے۔ تیز گام نے ریلوے کے کنٹرول میں کورونا کے دوران ایک ارب پچانوے کروڑ اڑتیس لاکھ روپے سے زائد منافع کمایا تھا اس کو ایک ارب اٹھاون کروڑ روپے میں نیلام کردیا گیا ہے، علامہ اقبال ایکسپریس نے ایک ارب اکہتر کروڑ چھہتر لاکھ روپے سے زائد کمائے تھے اس کو ایک ارب چودہ کروڑ انہتر لاکھ میں نقصان میں نیلام کردیا گیا، ملت ایکسپریس نے ایک ارب چوہتر کروڑ نوے لاکھ روپے کمائے تھے اس کو ایک ارب اٹھارہ کروڑ پچاس لاکھ میں نیلام کردیا گیا۔ ریلوے کی سابق نادہندہ کمپنی ایس ایس آر کمپنی نے لاہور کراچی کے درمیان چلنے والی شاہ حسین ایکسپریس کے لئے ایک ارب چھبیس کروڑ ساٹھ لاکھ، پشاور کراچی کے درمیان چلنے والی رحمان بابا کے لئے ایک ارب چھبیس کروڑ، ملتان کراچی کے درمیان چلنے والی زکریا کیلئے اٹھانوے کروڑ، اسلام آباد لاہور کے درمیان چلنے والی اسلام آباد ایکسپریس کے لئے پچیس کروڑ اور میانوالی ایکسپریس کے لئے نوے کروڑ روپے سالانہ کی بولی دی تھی۔ شاہ حسین ایکسپریس نے ایک ارب اننچاس کروڑ چوالیس لاکھ روپے سے زائد کماے تھے۔ ایک ارب چھبیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے میں نیلام کیا گیا، رحمان بابا ایکسپریس نے ایک ارب انتیس کروڑ چونتیس لاکھ روپے سے زائد کمائے تھے۔ ایک ارب چھبیس کروڑ میں نیلام کیا گیا، بہاوالدین ایکسپریس نے ایک ارب سات کروڑ چھ لاکھ روپے سے زائد کمائی کی تھی، اٹھانوے کروڑ روپے کی بولی لگائی گئی تھیں۔ اسلام آباد ایکسپریس چھبیس کروڑ دس لاکھ روپے سے زائد آمدنی والی ٹرین کی پچیس کروڑ روپے کی بولی لگائی گئی۔ راس لاجسٹک کمپنی نے پشاور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی جعفر کیلئے ایک ارب چھ کروڑ،لاہور راولپنڈی کے درمیان چلنے والی سبک خرام کیلئے پچیس کروڑ ستر لاکھ روپے بولی دی ہے، ایک ارب چھ کروڑ انتیس لاکھ روپے کمائی والی جعفر ایکسپریس ایک ارب چھ کروڑ روپے کی بولی لگائی گئی تھی۔ عمران انٹر پرائز کمپنی نے غوری ایکسپریس کیلئے نو کروڑ تیس لاکھ روپے بولی دی تھی۔ ریلوے کے اربوں روپے کے واجبات ادا نہ کرنے والی کمپنیوں کو بھی ٹرینیں دے دی گئی ہیں۔ ریلوے کی چونتیس نج کاری والی ٹرینوں میں ابھی ڈائننگ کار نہیں ہے جو نئی پارٹیوں کو دی جائے گی اور منافع نجی کمپنیان کمائیں گی۔ محکمہ ریلوے کی انوکھی منطق ریلوے کے اپنے ہی ذیلی ادارے پراکس ایڈوائزی کونسل کو بھی ٹرینیں دے دی گئیں ہیں۔ وزیر ریلوے نے ٹرینوں کا نظام درست کرنے کے بجائے ٹرینیں نجی شعبے کو دینے کا فیصلہ پر عمل مکمل کرلیا ہےو، حیرت و تعجب کی بات تو یہ ھے کہ ماضی میں محکمہ ریلوے کی نادہندہ پارٹیوں کو بھی ٹرینیں دی جارہی ہیں۔ ماضی میں نجی شعبے کی بعض کمپنیاں محکمہ ریلوئے کی کروڑوں روپے کی نادہندہ ہیں ان کو بھی ٹرینیں دے دی گئیں ہیں۔ نادہندہ نجی کمپنیوں نے نام بدل کر دوبارہ ریلوے کی ٹرینیں حاصل کرلیں۔ خسارے کے شکار ادارے کو دوبارہ نقصان کا اندیشہ ھے، ذرائع کے مطابق منافع بخش ٹرین جعفر ایکسپریس ماضی کی نادہندہ کمپنی لے اڑی ہیں،سر سید ایکسپریس بھی اسی کمپنی کو دی جاچکی ہے۔ نجی کمپنیان سابق دور میں شالیمار۔ نائٹ کوچ اور بزنس ایکسپریس کے واجبات کی مد میں اربوں روپوں کی ریلوے کی نادہندہ ہیں۔۔۔۔معزز قارئین!! وزیراعظم عمران خان ھوں یا اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی کم ظرفی تنگ نظری بغض عناد کینہ پروری اور عوام دشمنی کے ہر پہلوؤں کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سندھ بلخصوص کراچی کو جنگل اور تپتا ریگستان بنا کر گھنڈر کی شکل کردیا ھے جہاں انسان تو انسان جانور بھی رہنے سے انکار کربیٹھیں یاد رکھیں بہت ہوگئی وہ دن دور نہیں جب ہماری معزز افواج ملک کو تباہ ھوتے دیکھ نہیں سکے گی انشاءالله اگلے دو سال بعد افوج پاکستان جمہوریت سے چھٹکارہ دلا کر نظامِ مصطفیٰ یعنی خلفائے راشدین کا نظام مروج کرکے رہیں گے کیونکہ اسی میں پاکستان اور پاکستانی عوام کی بقاء ھے۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version