BBC Urdu TV

عنوان : حقائق در حقائق ۔۔۔ افواج پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : حقائق در حقائق ۔۔۔ افواج پاکستان

کالمکار : جاوید صدیقی

پاکستان ھم سب کا ملک ھے جو اس سرزمین میں پیدا ھوا پلا بڑھا اور یہیں مدفن ھوا۔ میری سرزمین پاک دنیا کی زمین سے اعلیٰ و معتبر ھے سوائے مکہ و مدینہ کے کیونکہ اس سرزمین سے ہی میری سرزمین پاک کو عزت و برکت نصیب ھوئی ھے۔ میرے نقطہ نظر سے افواج پاکستان کو مستحکم و مضبوط بنانے کیلئے خودکار مالی طور پر بہتر بنانے کیلئے کاروبار سمیت نجی کمپنیاں بنانا بہتر اور احسن قدم ھے کیونکہ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے پتا چلتا ھے کہ امن کے دور میں جنگ کی تیاریاں رہتی تھیں کیونکہ دین اسلام نے اپنے تحفظ کا مکمل حق دیا ھے اور معاشرتی و عسکری قوتوں کو مالی طور پر مستحکم و مضبوط بنانے کیلئے ہر جائز عمل جیسے کاروبار کی اجازت دی ھے لیکن اس عمل کو براہ راست یعنی خود کرنے سے ممانعت کی تاکہ جنگی توجہ نہ ہٹ سکے تاریخ ھمیں یہ بھی بتاتی ھے کہ اسلامی ریاست کی کمان ھمیشہ سپہ سالار کے سپرد رہتی تھی۔ ھمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پہلے سپہ سالار تھے اور آپ نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھ کر ریاست کے نظام سے متعارف کرایا۔ آپ ﷺ نے ریاست مدینہ کو مالی طور پر اس طرح مستحکم کیا کہ سول و عسکری دونوں یکساں مالی طور پر خوشحال رہیں کسی ایک میں بھی بال برابر فرق نہ ھونے دیا۔ یہی سلسلہ آپ ﷺ کے بعد میں آنے والے ہر سپہ سالار صحابی تابعین و تبع تابعین اور مسلم سپہ سالار حکمران نے آپ ﷺ کی دی گئی شمع ہدایت نظام ریاست کو اپنائے رکھا دنیا نے دیکھا کہ ان مسلم سپہ سالاروں نے دنیا کی تین چوتھائی تک حکومت کیں۔ دنیا کی دوسری ریاست پاکستان ھے جو نظریہ اسلام پر معروض وجود میں آئی یہی وجہ ھے کہ اس ریاست کو نظام اسلام پر آنا ہی ھوگا اور اس کے فور اسٹارز جنرلز سپہ سالاروں کو رسول خدا ﷺ کی اطاعت کرتے ھوئے اس سرزمین پاک کو دنیا میں آزاد خودمختار طور پر آگے لیکر جانا ھوگا۔ کوئی بھی شخص فرد لوگ اللہ ﷻ و رسول پاک ﷺ سے نہ معتبر اور نہ ہی بلند ھیں صرف معتبر و بلند اور پاک ذات اللہ ﷻ اور اسکے آخری نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کی ھے تو پھر قرآن کا قانون و نظام ھی ھونا چاہئے۔ یہ جمہوریت کس بلا کا نام ھے یقیناً یہ غداروں اسلام دشمنوں اور کافروں و مشرکین کے ایجنڈوں کی کارفرمائی ھیں اس نظام جمہوریت کو فی الفور ختم ھوجانا چاہئے اور اسلامی نظام کے تحت کمان سپہ سالار کے سپرد ھونی چاہئے اور سپہ سالار بھی ایک مکمل مومن پرہیزگار اور متقی ھونا چاہئے۔
ایک تحریر میری نظر سے گزری جس میں انھوں نے پاک افواج کی وکالت کرکے بھرپور دلائلی نقاط پیش کئے کئی حد تک درست ھیں مگر مکمل نہیں انہیں عوام کو بھی ساتھ لیکر چلنا چاہئے تھا بناء عوام یا قوم نہ کوئی ریاست ھوتی ھے اور نہ ہی ملک ۔حجاب رندھاوا کی ایک تحریر جو انھوں نے مئی سنہ دو ہزار بیس کو لکھی آج میں اس تحریر کا اپنے کالم میں جواب دے رھا ھوں لیکن اس سے قبل آپ ان کی تحریر پڑھ لیں تاکہ میرا جواب بآسانی سمجھ میں آجائے وہ لکھتے ھیں کہ
فوج کاروبار کیوں کرتی ہے؟؟ وہ ممالک جہاں فوج کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کئے جاتے وہاں فوج کو محدود پیمانے پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ فوج کے اپنے بے پناہ مسائل ہوتے ہیں سرحدوں پہ کشیدگی، بلوچستان سے لیکر وزیر ستان تک دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے بجٹ اور نفری کو مینیج کرنا ضرب عضب جیسے آپریشنز جس کیلئے حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوتا ہے افغان پاک طویل سرحد پر باڑ، پاکستان کی دفاعی تیاریاں جو اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر ہوتی ہیں۔ سی آئی اے، را، موساد، این ڈی ایس، داعیش، بلیک واٹر کی ہم پر مسلط کی گئی، اندرونی پراکسیز ملک میں قدرتی آفات، حادثات، ٹڈی دل سے لیکر کورونا تک ہر آفت میں افواج طلب کی جاتی ہیں کیا حکومت اس کے لیے الگ سے فنڈ دیتی ہے؟؟ بالکل نہیں یہ سب آپ کی فوج اپنے بجٹ اور وسائل سے کرتی ہے۔پاکستان میں ایک وہ فوج ہے جو آپریشنل ہے وہ اپنے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے حاضر سروس فوجیوں کے امور کو دیکھتی ہے، آپریٹنگ اخراجات جن میں ٹرانسپورٹ، پی او ایل، راشن، علاج اور رہائش، ہتھیار، دفاعی امور اسی بجٹ میں دیکھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان آرمی کے ہزاروں جوان شہید ہوئے ہزاروں معذور ہوئے فوج اپنے محدود بجٹ میں ان جوانوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے
لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود فوج کبھی بھی اپنے جوانوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑتی شہدا کی فیملیز کی دیکھ بھال معذور اور ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح و بہبود، کیلئے فوج نے دو ادارے قائم کئے جن میں ایک آرمی ویلفیئر ٹرسٹ اور ایک فوجی فاؤنڈیشن ہے اسی ٹرسٹ اور فاونڈیشن نے ریٹائرڈ فوجیوں کی بہبود کیلئے کاروباری کمپنیاں بنائی اور انھی کمپنیوں سے ریٹائرڈ فوجیوں سے لیکر سویلین تک مستفید ہوتے ہیں۔ فوج کی آڈیٹر جنرل برانچ ایک ویلفیئر ڈائریکٹریٹ کے تحت ان کاروباری کمپنیوں کی نگرانی تو کرتی ہے لیکن اس کا اس میں اور کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ان اداروں میں فوج سے ریٹائر ہو جانے والے لوگ ملازمت کرتے ہیں ان اداروں میں نوے فیصد ملازمین سویلین جبکہ صرف دس فیصد ریٹائرڈ فوجی ہوتے ہیں ۔ان فلاحی اداروں سے فوج کو کوئی مالی منافع نہیں ملتا۔ اس ٹرسٹ اور فاونڈیشن کی انتظامیہ ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل ہے یہ فاونڈیشن ریٹائرڈ اور جنگ میں معذور ہو جانے والے فوجیوں، شہدا کی فیملیز کیلئے وسائل پیدا کرتی ہے اور ان وسائل کو بغضی فوج کے کاروبار کا نام دیتے ہیں ایک بات ذہن نشین رہے کہ
پاک فوج بطور ادارہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں۔ ان اداروں کے زیرِ انتظام کاروباری کمپنیوں میں کوئی بھی حاضر سروس فوجی نہیں ہوتا بلکہ یہ ریٹائرڈ فوجیوں اور سویلین کے تجربات سے چلتی ہیں جو ریٹائرڈ فوجیوں کے علاوہ سویلینز کو روزگار بھی فراہم کرتی ہیں اور حکومت کو ریونیو بھی دیتی ہیں جس طرح این جی اوز کو پیسا دیا جاتا ہے کہ وہ ویلفیئر کے کاموں کیلئے پراجیکٹ لگائیں اور انکی آمدنی کو ویلفیئر کاموں پر خرچ کرسکیں، اسی طرح فوجی فاؤنڈیشن اور شاہین فاؤنڈیشن اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ وغیرہ کام کررہے ہیں۔ اور سول اداروں کو ان سے مقابلے کی کھلی اجازت ہے تو میرے خیال میں اس چیز کو کیا واقعی آرمی کیخلاف ایشو بنایا جانا چاہئے؟ کیا اس کیلئے شکر گزار نہیں ہونا چاہیے؟ عوام پر پہلے ہی ٹیکسز کا بوجھ بہت زیادہ ہے، فوج اپنی ذمہ داری خود اٹھا رہی ہے، اب آتے ہیں فوجی فاونڈیشن کیا ہے؟؟ کیا اس کے قیام کیلئے فوج کے بجٹ میں سے پیسے دئیے گئے؟؟ فوجی فاؤنڈیشن کی بنیاد ان پیسوں سے رکھی گئی تھی جو تقسیم ہند کے بعد سابق فوجیوں کے حصے میں آیا
فوجی فاؤنڈیشن کی تاریخ سنہ انیس سو پینتالیس کی ہے، جب ایک جنگ کے بعد بحالی فنڈ پی ڈبلیو ایس آر ایف تشکیل دیا گیا یہ فنڈ ڈبلیو ڈبلیوII یعنی جنگ عظیم دوئم کے دوران برطانوی ولی عہد کیلئے خدمات انجام دینے والے ہندوستان کے سابق فوجیوں کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔ تقسیم کے وقت سنہ انیس سو سینتالیس جب پاکستان معرض وجود میں آیا، اس کے بعد WW-II کے سابق فوجیوں کے تناسب میں بیلنس فنڈ پاکستان میں منتقل کردیا گیا۔ سنہ انیس سو تریپن تک، یہ فنڈ سویلین حکومت کے تحویل میں رہا، جبکہ سنہ انیس سو چوون میں اسے فوج میں منتقل کردیا گیا۔ فوج نے سابق فوجیوں میں تقریبا اٹھارہ اعشاریہ دو ملین ڈالر کے بیلنس فنڈ کو بانٹنے کی بجائے ایک فاونڈیشن قائم کردی اور اس کا انتظام ریٹائرڈ فوجیوں کے حوالے کردیا جس نے ان پیسوں سے ٹیکسٹائل مل میں سرمایہ کاری کی۔ بعد میں ٹیکسٹائل مل کی آمدنی سے، اس نے راولپنڈی میں پہلا پچاس بستر والا ٹی بی اسپتال قائم کیا اور اس آمدن سے سابق فوجیوں کی بہبود کیلئے کام شروع کیا جس سے سویلینز کو نوکریوں کے مواقع ملے فوجی فاؤنڈیشن سنہ انیس سو تریپن میں اٹھارہ اعشاریہ دو ملین روپے سے فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کیا جس سے سب سے زیادہ سویلین مستفید ہوئے آج یہ اٹھارہ سے زیادہ صنعتیں چلا رہی ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریبا نو ملین مستحقین ملک کی اعشاریہ پانچ فیصد آبادی کی خدمت میں صرف کی جاتی ہے۔ یہ فلاح و بہبود صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ فاونڈیشن تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے ضرورت مند افراد کیلئے روزگار پیدا کرتی ہے۔ فی الحال، ابھی تک یہ فلاح و بہبود ایک سو پندرہ طبی سہولیات مراکز یعنی ہاسپٹلز، ایک سو تینتیس اسکولوں اور کالجوں، پینسٹھ پیشہ ورانہ تربیتی مراکز اور نو تکنیکی تربیتی مراکز کے ذریعے انجام دی جارہی ہے
ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح کیلئے قائم ادارے سے آج لاکھوں سویلین افراد بھی مستفید ہورہے ہیں، فوجی فاؤنڈیشن کے منصوبوں سے نوے لاکھ افراد مستفید ہورہے ہیں۔ تعلیم و صحت کے شعبوں میں بالخصوص فوجی فاؤنڈیشن کی خدمات بے مثال ہیں ملک میں اس وقت بتیس لاکھ سے زائد ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ ہمارا سپاہی چونتیس سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہوجاتا ہے۔ پندرہ ہزار سے زائد فوجی صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں زخمی اور معذور ہوئے ہیں۔ فوجی فاونڈیشن ان کیلئے اسکول، طبی اداروں سمیت ویلفیئر کے متعدد پروجیکٹس بھی چلاتی ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہیکہ ان اداروں کو کوئی سبسڈی ملتی ہے۔ یہ ادارے مارکیٹ میں دوسری کمپنیوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور ملک کو ٹیکس دیتے ہیں صرف پچھلے سال کے دوران فوجی فاؤنڈیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتی کو بھاری رقم ادا کی۔ فوجی فاؤنڈیشن نے ٹیکس، ڈیوٹی اور لیویز کی مد میں تقریباً ایک سو پچھہتر بلین روپے ادا کئے
فوجی فرٹیلائزر پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اداروں میں سے ایک ہے، سنہ دو ہزار انیس عیسوی میں اس نے ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی مد میں قومی خزانے میں بیالیس ارب روپے جمع کروائے اسی طرح فوجی سیمنٹ ہر سال انکم ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں دس ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرواتی ہے
خطے میں نظر ڈالیں تو آپ کو ہر ملک کی فوج دفاعی بجٹ کے علاوہ کاروبار کے ذریعے اپنے وسائل سے مسائل کو شکست دیتی نظر آئیگی۔
سری لنکا، نے مئی سنہ دو ہزار نو عیسوی میں تامل ٹائیگرز کو شکست دینے کے بعد اپنی پھیلی ہوئی فوج کو یکجا کیا اور تجارتی سرگرمیوں میں شامل کرلیا تاکہ ایک ادارہ جس کی ضروریات بہت وسیع ہیں وہ دفاعی بجٹ سے اپنے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا تو انکو تجارتی ذرائع سے پورا کرسکے۔ تلخ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اپنی تین لاکھ نفوس پر مشتمل مضبوط دفاعی فورسز کو گھٹانے کے بجائے صدر مہندا راجپکسی نے سبزیوں، مذہبی برک بریک، چلانے والی ٹریول ایجنسیاں، ہوٹلوں اور شاہراہوں کے متعلقہ امور کے علاوہ ریستوران جیسی فوڈ چینز بنا کر بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں میں ان کو شامل کردیا. ان فوجیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہاؤسنگ اسکیمز شروع کی گئی گھر مکانات بنانے کے علاوہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی سریلنکن فوج کی کمپنی کو دیا گیا۔ سریلنکن آرمی نے جزیرہ نما شمالی میں، اپنے ایک میس کو بائیس کمروں کے لگژری ریزورٹ میں تبدیل کردیا ہے جب کہ سری لنکن بحریہ فیری سروسز اور وہیل دیکھنے والوں کیلئے ٹور چلاتی ہے اور خوب منافع کماتی ہے۔ ھم سے الگ ہونے والا بنگلہ دیش جس میں، فوج کی اپنی کاروباری سلطنت ہے جس کا تخمینہ آج سے لگ بھگ دس سال قبل پانچ سو ملین ڈالر لگایا گیا یقیناً اب یہ پانچ ہزار ملین ڈالر کراس کرچکی ہے، اس میں ہوٹل اور مہمان نوازی کی تجارت اور ڈھاکہ میں کم از کم دو فائیو اسٹار پراپرٹیز ان کی ملکیت ہیں، اس کے علاوہ جنوبی بندرگاہیں بھی ہیں جن کو بنگلہ فوج کاروبار کیلئے استعمال کرتی ہے جنھیں شہر چٹا کانگ میں تعمیر کیا گیا ہے۔ ڈھاکہ ریڈسن ہوٹل، جو بنگلہ دیش کے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کی ملکیت ہے، فوجی اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا تاکہ اسے جائیداد کی قیمتوں میں اضافے والے شہر میں بنگلہ آرمی کو مستقل ایک تجارتی فائدہ ہوتا رہے۔ بنگلہ دیش میں ٹرسٹ بینک بھی فوج کی ملکیت ہے، جس کی ملک بھر میں چالیس کے قریب شاخیں ہیں۔ سنہ دو ہزار سات میں، نگران حکومت نے اسے پاسپورٹ کی فیس کے خصوصی حقوق بھی دیئے۔ بنگلہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے سابق فوجیوں اور خدمتگاروں کے لواحقین کی دیکھ بھال کیلئے سینا کلیان تنظیم بھی بنائی جو تجارت کے ذریعے کما کر انکی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہے۔ بنگلہ آرمی نے اپنے وسیع تر مفادات کیلئے کئی سالوں سے اپنے صنعتی اور مالی کاموں میں توسیع کا کام جاری رکھا ہے اور آجکل فوڈ بیکریز وغیرہ میں اپنا لوہا منوا رہی ہے اور خطے کی سب سے بڑی ہندوستانی فوج جسکا بجٹ،ساتتر کھرب پچاسی ارب روپے یعنی آپ کے ملک کے ٹوٹل بجٹ سے بھی زیادہ ہے جس میں چار سو اٹھائیس ارب کا مزید اضافہ کیا گیا یہ وہ ہندوستانی فوج جو بھارت کے
سو مہنگے ترین گولف کورسز اور کلب چلانے کا انتظام کرتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم رجمنٹ فنڈز میں جمع کی جاتی ہے
اسکے علاوہ شراب اسمگلنگ بھارتی فوج کا اہم ترین کاروبار ہے۔ انڈین آرمی کئی ٹی وی چینلز بھی چلاتی ہے اور انھی میں سے ایک چینل کے ذریعے پاکستان میں امن کی آشا کیلئے کام کرنے والے پاکستانی جرنلسٹ اور ایک پاکستانی چینل کو پے بھی کیا گیا۔ اس طرح چین کی آرمی کی کئی موبائل بنانے والی کمپنیاں ہیں لسٹ کافی لمبی ہے اگر میں یہاں خطے سے باہر نکل کر ہر ملک کی آرمی کے کاروبار کی تفصیل لکھوں تو یقیناً ارٹیکل بہت طوالت کا شکار ہو جائیگا۔ اب آپکے ذہن میں یہ پوائنٹ کلئیر ہوگیا ہوگا کہ ہمارے ہاں آرمی کاروبار کرتی ہے یا ریٹائرڈ آرمی کاروبار کرتی ہے اگر یہ ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والی کمپنیاں شہدا کی فیملیز اور ریٹائرڈ فوجیوں کی بہبود کیلئے اگر کاروبار کرتی ہے تو پاکستان کا ریونیو بڑھاتی ہیں اب بتائیے یہ کاروبار آپکو نفع دیتے ہیں یا نقصان یا پھر ریٹائرڈ فوجیوں اور انکے گھر والوں کو دریا برد کردینا چاہیے تاکہ نا زندہ ہوں ناں پیٹ پالنے کیلئے کوئی کام کریں اور ناں موم بتی مافیا کو درد اٹھے ریٹائرڈ فوجی افسران کو بعد از ریٹائرمنٹ حکومت کوئی عہدہ کیوں دیتی ہے؟؟؟ ریٹائرڈ فوجی افسران بھی پاکستانی شہری ہیں اور اگر ان میں ٹیلنٹ ہے تو ہر لحاظ سے انہیں حق ہے کہ وہ ان مناصب پر فائز ہو کر بہتر طور پر ملک و قوم کی خدمت کریں رہی بات ڈی ایچ اے کی تو واپڈا اور نیسپاک جیسے اداروں کو تو اپنے ورکرز کیلئے ہاؤسنگ اسکیمز بنانے کی اجازت ہے، مگر فوج اگر یہ کام کرے تو وہ مورد الزام ہے تو یہ ایک حسد کے تحت کہی گئی بات ہوگی ورنہ جب سول بیورو کریسی کیلئے آفیسر کالونیز ہوسکتی ہیں تو فوجیوں کیلئے ڈی ایچ اے کیوں نہیں جس کیلئے وہ سالوں اپنی تنخواہ میں سے کٹوتیاں کرواتے ہیں ۔۔۔ معزز قارئین!! اس تمام تحریر کو پڑھ کر ذرا تعجب و حیرت میں مبتلا ھوگیا ھمارے فور اسٹار جنرلز جنھوں نے مارشلاء یا ایمرجنسی لگائی اپنے ان اقتدار کے دور میں اگر سول انتظامیہ انتہائی بدنظمی اور بے ترتیب کا شکار رھی ھے نااہل ناکارہ بااختیار افسران منصبوں پر فائز رھے اہلیت کا جنازہ نکالا جاتا رھا ظلم و بربریت ناانصافی ذخیرہ اندوزی مہنگائی اور لوٹ مار کا بازار گرم رھا تو پھر کیوں اس سب گندے دھندے کا خاتمہ نہیں کیا گیا۔ کیا فوراسٹار جنرلز سرزمین پاکستان میں چھاؤنی کے حصار تک محدود صرف تمام قوانین اور اخلاقیات چھاؤنی تک محدود یہی تو افسوس رھا کہ چار بار ماشلاء آنے کے باوجود سول حکومت بد سے بدتر کیوں ھوتی چلی گئی اب جو حال ھے اس بدتر حال میں فوراسٹار جنرلز قصور وار ھیں اس ملک اور نظام کو آپ سب ہی فوراسٹار جنرلز نے سدھارنا ھے سنبھالنا ھے درست کرنا ھے کیونکہ یہ ملک ھے تو آپ اور ھم عوام ھیں یہ ملک ہی نہیں تو کچھ بھی نہیں جن سیاتدانوں لیڈروں کی کمر پر آپ تھپکیاں دیتے ھیں یہ بدکردار بے ایمان خائن جھوٹے منافق اور لٹیرے ہیں سب کچھ تو لوٹ کے لے گئے بچا کچا بھی کیا ان کے ہاتھ تھمادیں گے اور آپ کے ریٹائرڈ فوراسٹار جنرلز کو ذرا بھی شرم و حیا نہیں آتی کہ سبک دوشی کے بعد ملک سے ایسے بھاگتے ھیں جیسے یہ ملک ان کا نہیں دنیا شاھد ھے کہ کسی بھی ملک کے فوراسٹار جنرلز سبکدوشی کے بعد اپنے ہی وطن میں بقیہ زندگی گزارنے کو فوقیت دیتے ھیں اور گاھے بگاھے وطن کی ضرورت پڑنے پر موجود رھتے ھیں۔ ھماری افواج کو جہاں اپنی بہتر مالی حالت بنانے کا حق حاصل ھے وہیں یہ عوام آپ کی بھی ھے اس کی مالی حالت کون سنوارے گا افسوس ھمارے حکمران لٹیرے اور ظالم ھیں اور ان جیسے منصفین بھی بہتر یہی ھے کہ آپ سب فور اسٹار جنرلز مسلمان سپہ سالار بنیں اور اسلامی نظام قائم کرکے اطاعت رسول اور احکام خداوندی کیساتھ نظام ریاست کے امور کو استوار کریں اللہ کی قسم ھم با مراد کامیاب اور خوشحال باعزت با وقار زندگی بسر کرسکیں گے ھم بھکاری نہیں بلکہ بھیک دینے والے میں صف اول ھونگیں انشاءاللہ بس قدم بڑھائیں اور نظام اسلام نافذ کردیں۔۔۔۔!!

Exit mobile version