,ٹائٹل : بیدار ھونے تک
عنوان: حصار میں ہی تحفظ اور بقاء ھے۔۔۔ !!
کالمکار : جاوید صدیقی
یہ ان دنوں کی بات ھے جب میں بہت چھوٹا سا تھا۔ چھوٹی عمر کی وجہ سے اسکول میں بھی داخل نہیں ھوا البتہ چھوٹے پن میں ھمارے وسیع و عریض گھر جوکہ تین منزلہ تھا اور تقریباً پچاس کمرے تھے۔ پاپا کو کلیم میں حویلی ملی تھی۔ رات کو سوتے وقت ڈر لگتا تھا ھمیں دادی جان اور کبھی جب نانی آتی تھیں تو آیت الکرسی پڑھ کر دم کرتی تھیں اور ھمارے اوپر انگلی سے چاروں طرف گھماکر حصار باندھ دیا کرتی تھیں اور کہتی تھی کہ صبح تک تم اس حصار کے اندر رھو تاکہ تمہیں کوئی بھوت پریت ڈرا نہ سکے۔ وقت گزرتا رھا اور ھم بڑے ھوتے رھے لیکن دادی اور نانی کی نصیحت پر قائم رکھے۔ ابا ھمارے ھم سب بہن بھائیوں کو بعد نماز عشاء زمانے کی اونچ نیچ کے بارے میں سمجھاتے اور خاص کر محاوروں حکایتوں تشبیہات اور اشعار کے ذریعے اپنی بات کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے ابا کو اردو فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ وہ اس زمانے کے ماہر تعلیم اور فارغ التحصیل علیگڑھ یونیورسٹی سے تھے اور اسی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اپنے بزرگوں کی نصیحت پر جب غور کرتا ھوں تو ذہن و شعور میں آتا ھے کہ ہر شعبہ کا ایک دائرہ اختیار ھوتا ھے جو دائرہ میں رہتے ہیں وہی محفوظ بھی ھوتے ھیں پچپن میں ھماری دادی اور نانی سونے سے قبل آیت الکرسی پڑھا کر حصار کرایا کرتی تھیں تاکہ شیطان اور جن ڈرا نہ سکیں صرف اتنی بات کو سمجھ لیں اگر سمجھانے پر آیا تو آپ سب کے ہوش اڑ جائیں گے اسی لئے بڑے بزرگ کہتے تھے کہ اعتدال پسندی اور میانہ روی سب سے بہتر ھے۔ بات یہی ختم نہیں ھوتی ھمارے دور میں یعنی پچاس سال قبل جو ماحول تھا اس میں گھر ہی ایک بہترین مدرسہ کا کردار ادا کرتا تھا۔ اماں، پھوپھی، خالہ، دادی اور نانی ان سب سے علم و فنون کے آبشار پھوٹتے تھے جس سے اس زمانے کے ہر بچے بچیاں سمجھ بوجھ اور اچھے بروں کی بہتر انداز میں تمیز سیکھتے تھے۔آج میں جب نوجوانوں اور نئی نسل کو دیکھتا ھوں تو یہ دیکھ کر اچھا بھی لگتا ھے کہ آج کی نسل نئی جدت، نئے تقاضوں اور سبک رفتاری حاصل تو کرچکا ھے مگر بینادی ستون اور بنیادی اصولوں سے ناآشنا سے محسوس ھوتا ھے۔ اسی لیئے اس قدر مضبوط نہیں جتنا کہ ایک مسلم، ایک پاکستانی کو ھونا چاہئے کیونکہ ھمارے دور میں قرآنی تعلیمات کیساتھ ساتھ قرآن فہمی، بہتر شعور اور اچھے برے کی تمیز لازماً شیئر کی جاتی تھی لیکن اب آزاد اور بے ربط نظر آتے ہیں کیونکہ انھوں نے کوئی حصار نہیں بنایا۔ اللہ نے کائنات کو بھی ایک دائرہ ایک حصار میں پابند رکھا ھے یہ سورج یہ چاند یہ فلکیات گو کہ جس جس کی حد بندی رکھی گئی وہ اپنے حدود میں جاری و ساری ھے کیونکہ یہ نظام قدرت ھے۔ قدرت کے تضاضے کے مطابق جو بھی حصار سے باہر نکلا وہ نقصان سے دوچار ھوا ھم زمین میں دیکھ سکتے ہیں کہ جانوروں کے خول کے خول اپنے حصار میں سفر کرتے ہیں اپنے حصار میں ٹھہرتے ھیں ان میں سے جو حصار سے باہر نکلتا ھے اسے دشمن آ دبوچ لیتا ھے اور اسکی ہلاکت یقینی بن جاتی ھے۔ ھم اپنی کامیابی و ناکامی کو اپنی مہارت ذہانت اور قابلیت کو ذمہ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قانون قدرت سے باہر نکل کر زمین و آسمان چیر دیں گے مگر بھول جاتے ہیں کہ ھم انسان اس کائنات کا سب سے کمزور لاغر مخلوق ہیں ایک باریک ترین جراثیم سے لڑ نہیں سکتے جبکہ بے زبان مخلوق بڑے سے بڑے زخم بیماری کو برداشت کرلیتے ہیں اور معمولی آہ تک نہیں نکالتے مختصر یہ کہ جو ھمارے بزرگوں نے ھمیں زندگی کی بنیادی اصولوں سے آراستہ کیا ھمیں بھی چاہئے کہ ھم اپنی نئی نسل کو وہیکم از کم بنیادی علم و شعور منتقل کردیں اور حصار و حدود بندی کی افادیت سے بھی آشکار کردیں تاکہ یہ نئی نسل زمانے کے نشیب و فراز سے نمٹنے کی طاقت اور حوصلہ پیدا کرسکیں۔۔!!
