ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: جنگ 1965 ; 1970 اور اب ففتھ جنریشن وار ۔۔۔۔!!
کالمکار : جاوید صدیقی
ففتھ جنریشن وار میں دنیا بھر کے ممالک اور ریاستوں کے مابین شوشل اور میڈیا وار چل رھی ھیں۔ یہ جنگ عسکری جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک اور خوفناک ھیں کیونکہ اس وار سے اقوام کے ذہنوں کو پلٹ لیا جاتا ھے اور انہیں اپنی ہی ریاست و ملک کے خلاف باغی کردیتا جاتا ھے۔ اس جنگ میں مختلف شکلوں اور ذرائع استعمال کرتے ھوئے مالی و ابلاغی مدد سے جنگ کی جاتی ھے اس کے ساتھ ساتھ اندرون خانہ معیشت و اقتصادیت کو کمزور کرنے کیلئے سکہ رائج الوقت کی اہمیت، فوقیت اور قدر گرا کر مہنگائی در مہنگائی کا نا رکنے والا سلسلہ پیدا کردیا جاتا ھے۔ حالت یہ ھوجاتی ھے کہ عام آدمی کا جینا محال بن جاتا ھے اور وہ منفی راہ کی جانب بڑھنے لگتا ھے پھر چوری، ڈکیتیاں، لوٹ مار، رہزنی اور قتل و غارت سود اور ذخیرہ اندوزی کی شرح میں بے پناہ اضافہ ھوجاتا ھے اور اس طرح نظام ریاست کمزور سے کمزور تر ھوتی چلی جاتی ھے۔ ادارے خسارے کی جانب تیزی سے بڑھنے لگتے ھیں اور بیروزگاری کے انبار کھڑے ھوجاتے ھیں ایسے میں دشمن اپنے ایجنڈوں اور سہولتکاروں کے ذریعے ملک و قوم کی ساکھ کو شدید اوت نا تلافی نقصان سے دوچار کرتا ھے۔ آج ھم جب اپنے ملک و قوم کی جانب دیکھتے ھیں تو ھمیں یہ حقیقت عیاں ھوجاتی ھے کہ ملک و قوم حالتِ جنگ سے گزر رھے ھیں۔ اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ ان حالات اور جنگ میں کس نے دھکیلا۔ پاکستان کی تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا تو نہایت افسوس اور دکھ سے دوچار ھوگیا اس سارے عمل کے پیچھے نااہل سیاسی حکمران نظر آئے جنھوں نے اپنی اور اپنے نسلوں کی عیاشیوں بدمعاشیوں اور نسل در نسل کی عیش و عشرت کیلئے ہر منفی راہ اور قدم اٹھانے کیلئے کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ بے پناہ ملکی خذانے کو نقصان پہنچانے کے باوجود یہ سیاستدان، اشرفیہ، ایلیٹ جماعت اور سول بیوروکریٹس کا کردار انتہائی مایوس کن اور قابل جرم رھا ھے اور تا حال جاری ھے۔ ان نوکرشاہی طبقہ میں چند ایک ایماندار، دیانتدار اور سچے بھی تھے تو انہیں سیاسی حکمرانوں نے مروا دیا شہید کروادیا۔ اس عمل کو دیکھ کر دیگر نوکر شاہی طبقہ دم سدھ ھوگیا۔ افسوس کا مقام تو یہ بھی ھے کہ ھمارے ججز نے انصاف کے ترازو کا توازن برقرار نہ رکھا نہ ہی اپنے ضمیر کو بیدار کیا اور نہ ہی قوم کا درد اور احساس رکھا، اب کرتے ھیں اپنی افواج پاکستان اور اس کے ذیلی عکسری اداروں کی بات جو مکمل پروفیشنل ھے دنیا بھر میں نہ صرف تعریف بلکہ اپنی ماہرانہ صلاحیت کے سبب دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کئے ھوئے ھیں۔ آئی ایس آئی اور مارخور مسلسل شب و روز ان شدید بگڑتے حالات کا مقابلہ کررھے ھیں۔ آج کا پاکستان ایسے دشمنوں سے نبردآزما ھے جو دنیا کی ترقی یافتہ سپر پاور اور ذیلی پاور کہلاتے ھیں۔ سچی بات تو یہ ھے کہ اسرائیل، امریکہ، بھارت اور برطانیہ ان دشمن گروہ کے سرغنہ ھیں۔ عسکری قیادت نے جس خوبصورتی سے ان کی چالوں اور مکاریوں کا مقابلہ کیا کہ عثمانیہ دور کے آخری سلطان، ولی کامل سلطان عبدالحمید کی یاد تازہ کرادی۔ اگر ھماری جمہوری جماعتیں اور قوتیں ملک و قوم سے مخلص ھوتیں تو آج پاکستان کا یہ حال نہ ھوتا بلکہ پاکستان دنیا کو قرض دے رھا ھوتا اور ہر سو خوشحال بھی نظر آتی۔ ان سہولتکاروں، دھوکے بازوں، عیار و مکاروں نے جس قدر ھماری افواج کے جانبازوں اور سپہ سالاروں کی ہرزہ سرائی کی آئین کے مطابق غدار ٹہرتے ھیں عوام کو افسوس ھے کہ انکے سر قلم کیوں نہ ھوئے، ان موذی زہریلے ملک دشمن بچھو اپنے ڈنگ سے باز نہیں آرھے ھیں۔ میرا موقف یہی ھے کہ پاکستان کو اس کی اصل جگہ اصل مقام پر پہنچانا چاھئے جو نظریہ اسلام پر محیط تھا اور اسی پر نظام ریاست مروج ھونا چاہئے۔ اگر سنہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کو دیکھیں تو ایک سپہ سالار جنرل ایوب خان کی سربراہی میں دشمن بھارت کو ناک کے چنے چبوادیئے تھے لیکن سنہ انیس سے اکہتر میں جنگ کے دوران اندرونِ خانہ سیاسی سازشوں نے دولخت کرکے چھوڑا اور شدید ملک کو نقصان سے دوچار کیا اسی سیاسی لیڈر نے اداروں کو تباہ و برباد، نیست و نابود اور قومی دولت کو نوچنا کاٹنا اور برباد کرنا شروع کردیا جو اس کی تا حال نسل اور خاندان منفی عمل میں مصروف ھے اور اس مکروہ عمل میں شریف خاندان اور خان اور دیگر بھی شامل ھوگئے اور ھیں۔ جب حکمران لٹیرے ڈاکو بن جاتے ھیں تو وہ اپنے سارے گناہ، اپنی ساری کوہتاہیاں، اپنے سارے جرم دوسروں پر ڈال کر خود کو بری ذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے ھیں۔ یہ بھول جاتے ھیں کہ مورخین سچ و حق لکھ رھے ھوتے ھیں جو کچھ عرصہ بعد ان کے اعمال و افعال تاریخ میں تاریک بن کر رہ جاتے ھیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! اللہ انہیں ھمیشہ دونوں جہاں میں سرخرو، باعزت و باقار رکھتا ھے جو خالص اللہ اور اللہ کے دینقارئین محمدی ﷺ اور ریاست و مملکت کیلئے جام شہادت نوش کرتے ھیں۔ اگر قوم چاہتی ھے کہ وہ اپنے دین محمدی ﷺ اور ملت کی سلامتی و خوشحالی کو قائم رکھیں تو من حیث القوم ھم سب کو ہوش و حواص کیساتھ دشمن کے ہر حملہ کو اپنے رد عمل اور شعور و سمجھ سے ناکام و نامراد کرنا ھے۔ میں اپنی قوم کے ایک ایک سولجر اور آفیسر کو سلوٹ کرتا ھوں کہ وہ جس چاق و چوبندی سے اپنے فرائض انجام دے رھے ھیں یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ھے انپر کیونکہ وہی نیکی کے بڑے کام کرتے ھیں جنھیں اللہ منتخب کرتا ھے اور جنھیں اللہ پسند فرماتا ھے۔ سوچنا چاہئے، غور کرنا چاہئے کہ جسے اللہ پسند کرے ھم کون ھوتے ھیں؟ ھماری کیا حیثیت کہ ھم ان عظیم افواج کی ہرزہ سرائی کرکے وطن کیساتھ غداری کے مرتکب بنیں۔ شوشل میڈیا میں پاکستان اور افواج پاکستان کیساتھ دین محمدی ﷺ کا بھرپور دفاع جاری رکھیں۔۔۔۔!!
