BBC Urdu TV

عنوان: جاندار قدم آخری نتیجہ تک جاری رکھیں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: جاندار قدم آخری نتیجہ تک جاری رکھیں

کالمکار: جاوید صدیقی

سیاسی جماعت ہوں یا بڑے بڑے کاروباری ادارے و حضرات یہ سب کے سب اندرخانہ لٹیروں، ڈاکوؤں، خائن اور ملک کو نوچنے والوں کیساتھ ہیں، بظاہر نعرے، جلوس، اجتماعات کرکے عوام کو گمراہ اور دھوکہ دینے کی ہر ممکن کوشش میں لگے رہتے ھیں یہی سبب ھے کہ حاصل نتیجہ صفر رہتا ھے۔ ان عیاش راشی زانی شرابی بدکاروں کا علاج ممکن نہیں کیونکہ یہ ناسور ہیں کینسر ھیں کینسر ھمیشہ کاٹ کر پھیک دیا جاتا ھے یا پھر جلا کر مٹا دیا جاتا ھے کینسر کا خاتمی جڑ سے کیا جاتا ھے تاکہ اس کی باقیات نہ رھے ھمارا ملک بھی کئی کینسروں میں پھنس چکا ھے اس ملک کی بقاء و سلامتی یہاں کے کینسروں اور انکی باقیات کے خاتمے سے جڑی ھوئی ھیں یاد رکھیں ایک کہاوت ھے سو سنار کی ایک لوہار کی اسی محاورے کے مطابق اب وقت ضرورت ھے کہ ایک ہی زوردار ضرب سے گندگی کو صاف کردیا جائے دھیرے دھیرے صاف کرنے سے گندگی اوتر کینسر پھیلتا ہی رہتا ھے یاد رھے کہ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں، مشیروں، وزیروں، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز سب کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں اور اس کو بیچ کر ملک بھر کا قرضہ اتار دیا جائے بشمول آئی ایم ایف و دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا قرض۔۔۔ واضع رھے کہ اٹھہتر سالوں سے قرض صرف اپنی عیاشیوں کیلئے لیا جاتا رھا ھے جس میں اشرفیہ، عدلیہ، نوکر شاہی طبقہ، بڑے تاجرز اور سیاسی جماعتوں کا بڑا طبقہ شامل رھا ھے۔ قرضے ان ظالموں نے لئے ہیں اس پر عیاشیاں ان کمپنوں نے کئے ہیں اور سارا بوجھ غریب عوام، مزدور، پینشنرز پر ڈال دیا گیا ہے۔ ان بیغیرتوں اور غداروں کی حفاظت اس قوم کے ٹیکس سے پلنے والی پولیس اور دیگر محافظین ہیں آئین ریاست، حکومت اور سپریم کورٹ کو پابند کرتا ھے کہ وہ ایک عام پاکستانی شہری اور ووٹرز کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا سخت پابند ھے اور احکامات جاری کرتا ھے، دولخت پاکستان کے بعد سے جمہوریت نے بھی اس ملک اور نظام کے کئی لخت کردیئے ھیں اب حکمران سے لیکر ہر سو مافیا اور غداروں کا راج ھے اگر ہماری افواج اور عوام نے انکے ہاتھ نہ کاٹے تو یہ ملک و قوم اور عسکری قوت کو دبوچ لیں گے کیونکہ ان مافیاء کی پشت پناہی امریکہ و الحاقی کررھے ھیں۔ یہ قوم مکمل طور پر نہ صرف مغلوب بلکہ جینے کیلئے بڑی مشکل سے سانسیں لے رھی ھے۔ اب بھی وقت ھے کہ جاندار قدم آخری نتیجہ تک جاری رکھیں اور اسے رکنے نہ دیں تو پھر کامیابی و کامرانی، شادمانی و خوشحالی اس ملک و قوم کا مقدر بن جائیگی وگرنہ یہ طاقتیں تباہی و بربادی کی سیاہ تاریخ رقم کردیں گے، میں اپنے قارئین کی خدمت میں دو بچوں کا تذکرہ کرنا اشد ضروری سمجھتا ھوں ایک وہ بچہ ھے جس کی کوئی شے بڑا شخص چھین لیتا ھے تو وہ روتا دھوتا ھے منت سماجت کرتا ھے اور مایوس ھوکر روتا ھوا فریاد کرتا ھوا گھر کو لوٹ جاتا ھے یہ انتہائی بزدل ڈرپوک کمزور لاشعور کن ذہن ھوتا ھے جو اپنی روزمرہ کے معاملات میں جھوٹ اور چوری کا عمل بھی کر بیٹھتا ھے جبکہ دوسرا بچہ کو جب بڑا طاقتور شخص اس کی شے چھینتا ھے تو وہ فوراً مزاحمت کرکے اس طاقتور شخص کو پتھر مار کر شدید زخمی کر دیتا ھے اور بہادری کیساتھ اپنی اشیاء لے اڑتا ھے کیونکہ اس بچہ میں شعور ذہانت قابلیت اور بہادری ھوتی ھے یہ بچہ جانتا ھے کہ نہ احتیجاج سے نہ ہڑتال سے نہ جلسہ جلوس سے حق ملتا ھے حق چھینا جاتا ھے اور حق کے غاصبوں کو نشان عبرت بنادیتا ھے وطن عزیز پاکستان کی قوم کو دوسرے بچہ کی طرح بننا پڑیگا۔ بہادر، نڈر، چالاک، ذہین، باشعور تب ہی یہ ملک بھی آزاد بااختیار شاد و آباد ھوسکتا ھے اور یہ قوم بھی۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version