BBC Urdu TV

عنوان: توشۂ خانہ قومی امانت یا اشرفیہ ملکیت۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: توشۂ خانہ قومی امانت یا اشرفیہ ملکیت۔۔۔!!

کالمار: جاوید صدیقی

کہنے کو تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ھے مگر عملی طور پر نہ اسلامی قوانین اور نہ ہی جمہوریت اس کا سب سے بڑا ثبوت امانت میں خیانت اور جھوٹ و منافقت ھے جو برسوں سے ھمارے وزرائے اعظم اور صدور کرتے چلے آرھے ھیں۔ قرآن و حدیث میں قومی خذانہ بیت المال کہلاتا ھے جو کسی بھی سربراہ مملکت اور خلفاء کو رتی برابر اضافی تعداد حاصل کرنے کا حق نہیں اور سختی سے منع فرمایا ھے۔ پاکستان کا آئین قرآن و حدیث سے بر گز برتر نہیں اسی سبب یہ عمل چوری خیانت دھوکہ بےایمانی اور جھوٹ کے گناہ کبیرہ میں شامل ھیں ان عوامل میں پائے جانے والے سب کے سب ریاست مملکت اور قوم کے مجرم ھیں۔ ھونا تو یہ چاہئے کہ توشہ خانہ کے تحائف کی خریداری سرے عام کی جاتی لیکن بد نیتی کے سبب یہ کام ھونے نہیں دیا اگر الیکشن کمیشن عدالت عظمیٰ اس بابت نا اہل قرار دیتی اور ان سے اور ان کی نسلوں سے طلب کرتی تو پاکستان دنیا بھر میں ذلیل و رسوا نہیں ھوتا یہ سب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کے مرتکب ھوئے ھیں۔قانونی تقاضے کے مطابق سکہ رائج الوقت کے مطابق جس جس نے توشۂ خانہ سے تحائف لیئے تھے پہلے تحائف واپس لے لیئے جائیں فروخت کی صورت میں موجودہ کرنسی کے حساب سے رقوم قومی خذانے میں جمع کرائی جائے بصورت انہیں اور انکی تین نسلوں تک نا اہل قرار دیا جائے اور جائیداد املاک رقوم ضبط کرلی جائیں یہی اس ملک و قوم کیساتھ عدل و انصاف ھوگا وگرنہ یہ ظالمانہ نظام عوام خود کچل دیں گے کیونکہ کفر کی حکومت چل سکتی ھے مگر ظالم و جابر کی حکومت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی ھے۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اب آپ کو ایک چھوٹی سے دورانئے میں توشۂ خانہ سے بے دریغ لوٹ مار کا لامتناہی سلسلہ جاری رھا یہ سلسلہ اس سے قبل اور تا حال جاری اس صورتحال کے متعلق بتاتا ھوں کہ سنہ انیس سو اسی عیسوی سے سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی تک کس حکمران نے سرکاری توشہ خانہ سے کتنے تحائف اونے پونے خریدے جنکی تفصیل کچھ اسطرح سے ھے۔ جنرل ضیاء نے ایک سو بائیس، محمد خان جونیجو نے تین سو چار، اسحاق خان نے اٹھاسی، بینظیر بھٹو نے ایک سو چورانوے، میاں نواز شریف نے اپنے دونوں ادوار میں پچانوے، فاروق لغاری نے ایک سو چودہ، رفیق تارڑ نے تیراسی، ظفر اللہ جمالی نے ایک سو دس،
چوہدری شجاعت نے نو، جنرل مشرف نے پانچ سو پندرہ، شوکت عزیز نے گیارہ سو چھبیس تحفے کوڑیوں کے بھاؤ لے گئے۔ معزز قارئین!! ضیاء دور میں وزیر اعظم رہنے والے محمد خان جونیجو کو وزارتِ عظمیٰ کے دوران بیرون ممالک سے کل تین سو پانچ تحائف موصول ہوئے تھے۔ محمد خان جونیجو نے دو لاکھ انیس ہزار کی رقم کے عوض ان میں سے تین سو چار تحائف کو اپنے ذاتی قبضے میں لے لیا تھا۔ سابق صدر غلام اسحاق خان کو بیرونِ ممالک سے کل نواسی تحائف موصول ہوئے تھے۔ انہوں نے صرف سرسٹھ ہزار کی رقم کی ادائیگی کے بعد اٹھاسی تحائف کو اپنی ملکیت میں لے لیا تھا‏۔ سنہ انیس سو اسی عیسوی کی دہائی سے لیکر سال سنہ دو ہزار تیرہ عیسوی تک اقتدار میں رہنے والے وزرائے اعظم اور صدور کیجانب سے کل تین ہزار انتالیس تحائف کو معمولی قیمت کی ادائیگی کے بعد توشۂ خانہ سے اپنے گھروں کی زینت بنایا جا چکا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے پہلے دو ادوار میں بیرونِ ممالک سے کل ایک سو ستائیس تحائف موصول ہوئے۔ میاں نواز شریف ان میں سے پچھہتر قیمتی اور انمول تحائف کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ موصوف نے صرف چودہ لاکھ میں یہ تحائف گھر لے گئے تھے۔ پاکستان کے قائم مقام صدر رہنے والے وسیم سجاد کو اپنے عہدے پر براجمان رہنے کے دوران بیرون ممالک سے صرف چار تحائف موصول ہوئے تھے اور انہوں نے بارہ سو پچاس روپے ادا کرکے ان چاروں تحائف کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کو بطور وزیر اعظم بیرونِ ممالک سے کل ایک سو دس تحائف ملے تھے اور وہ ان تمام تحائف کو اپنے ساتھ لے گئے۔ میر ظفر اللہ جمالی نے ان تحائف کو اپنی ملکیت میں رکھنے کیلئے صرف تین لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی۔ سابق صدر رفیق تارڑ کو بطور صدرِ پاکستان کل چوہتر تحائف موصول ہوئے تھے جن کی مالیت گیارہ لاکھ روپے تھی وہ ان میں سے تہتر تحائف کو صرف ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ سابق صدر فاروق لغاری کو بیرون ممالک سے کل ایک سو سولہ تحائف موصول ہوئے تھے۔ فاروق لغاری ان میں سے ایک سو چودہ تحائف کو اپنے ہمراہ گھر لے گئے تھے۔ تحائف کو اپنی ملکیت میں لینے کیلئے فاروق لغاری نے صرف اٹھائیس لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی۔ چوہدری شجاعت حسین جو بمشکل چالیس روز وزیر اعظم رہے، ان کو مختصر عرصہ میں کل نو تحائف موصول ہوئے تھے انہوں نے ان تمام نو تحائف کو توشہ خانہ سے اپنی ذاتی ملکیت میں لے لیا تھا۔ شوکت عزیز توشہ خانہ سے گیارہ سو چھبیس تحائف اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جب وزارتِ عظمیٰ کے بعد ملک چھوڑ کر لندن روانہ ہوئے قبضہ شدہ ان تمام تحائف کو اپنے ہمراہ اسلام آباد سے لندن لے گئے۔شوکت عزیز جن تحائف کو اپنے ہمراہ لے گئے ان میں قیمتی ہار، زیوارت کے باکسز، ہیرے، سونا، گھڑیاں اور قالین شامل تھے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دونوں ادوار میں بیرونِ ممالک سے کل چھ سو تیس تحائف موصول ہوئے تھے۔ بینظیر بھٹو نے ان تحائف میں سے ایک سو چوہتر کو اپنی ملکیت میں لیا اور اس مقصد کیلئے انہوں نے دو لاکھ باہتر ہزار روپے کی رقم جمع کرائی تھی۔جنرل پرویز مشرف کو اپنے دورِ حکومت میں دیگر ممالک سے کل پانچ سو بیس تحائف موصول ہوئے تھے، مشرف ان میں سے پانچ سو پندرہ تحائف اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ جنرل مشرف نے بیرون ملک سے ملنے والے ان تحائف میں سے صرف پانچ تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے۔۔۔!!

Exit mobile version