BBC Urdu TV

عنوان: ترک سپہ سالار سلطان محمد فاتح

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ترک سپہ سالار سلطان محمد فاتح ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

نبی کریم آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد مدینہ منورہ میں ڈالی اور پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ایمان افروز عاشقانِ رسول نبی کے غلاموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ھوئے اپنے ظاہری و باطنی بدن کو دینِ محمدی کے نور سے منور ھوتے ھوئے اسلامی ریاست کو الله واحد لاشریک کی زمین میں پھیلایا۔ حتیٰ کہ حضرت عمر بن خطاب العروف عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کے عہدِ خلافت میں دنیا کے تین بڑے براعظموں تک اسلامی ریاست کا پرچم اور نظامِ عدل و انصاف جاری و ساری تھا یہ سلسلہ یزید کے دور میں روکا لیکن میرے اور آپ کے دل و جان سے پیارے ہمارے آقا دوجہاں کے لاڈلے اور آنکھوں کے تارے دونوں شہزادے سادات کے دلارے بی بی فاطمۃ الزہرہ کے دل ٹکڑے محمد عرابی کے نواسے حضرتِ امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عظیم لازوال شہادت کے طفیل نانا کی دین کی حفاظت کی جو تاقیامت ذکرِ شہادت حضرتِ امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کیا جاتا رہیگا اور مسلمان نسل شہزادوں کے نقشِ قدم کو اپنائے گی یہی وجہ ھے کہ اسلامی ریاست کے سپہ سالار سمیت تمام کے تمام فوجی دستے حکومتی عہدیداران خود کو تیار رکھتے ہیں اور شجاعت و بہادری کیساتھ ساتھ عدل و انصاف سچ و حق کی بلندی کیلئے تمام تر پہلوؤں کو بروئےکار لاتے ہیں۔ آج جدید ٹیکنالوجی کے سبب دنیا بھر میں موجود انسان مسلم سپہ سالاروں کی عظیم تاریخ سے بآسانی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں آج میں اپنے قارئین کی خدمت میں ترک سپہ سالار سلطان محمد فاتح کا ذکر کرونگا جو سلطنتِ عثمانیہ کے خاندان کا ایک عظیم بہادر شجاعت اور ایمان کی دولت سے مالا مال تھا۔۔۔۔ معزز قارئین!!
بائیس سالہ نوجوان سلطان محمد فاتح نے اپن سے کئ گنا بڑی سپر پاور کو شکست دی. وہ پیدا ہوتے ہی دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے، جبکہ ہمارے نوجوان ٹک ٹاک پر پوری دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں.
انتیس مئی، یوم فتح قسطنطنیہ. سلطان محمد فاتح نے بشارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پورا کیا اور ساتھ ساتھ اپنے جد امجد عثمان غازی کے خواب کو بھی پورا کیا۔ انتیس مئی سنہ چودہ سو تریپن رات کا ڈیڑھ بجا ہے۔ دنیا کے ایک قدیم اور عظیم شہر کی فصیلوں اور گنبدوں پر سے انیس ویں قمری تاریخ کا زرد چاند تیزی سے مغرب کی طرف دوڑا جا رہا ہے جیسے اسے کسی شدید خطرے کا اندیشہ ہے۔ اس زوال آمادہ چاند کی ملگجی روشنی میں دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ شہر کی فصیلوں کے باہر فوجوں کے پرے منظم مستقل مزاجی سے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ان کے دل میں احساس ہے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ شہر قسطنطنیہ موجودہ نام: استنبول ہے اور فصیلوں کے باہر عثمانی فوج آخری ہلہ بولنے کی تیاری کررہی ہے۔ عثمانی توپوں کو شہر پناہ پر گولے برساتے ہوئے سینتالیس دن گزر چکے ہیں۔ کمانڈروں نے خاص طور پر تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی غیر متوقع طور پر اپنی فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حتمی یلغار فصیل کے ‘میسو ٹیکیون’ کہلانے والے وسطی حصے سے کی جائے گی جس میں کم از کم نو شگاف پڑ چکے ہیں اور خندق کا بڑا حصہ پاٹ دیا گیا ہے۔ سر پر بھاری پگڑ باندھے اور طلائی خلعت میں ملبوس سلطان نے اپنے سپاہیوں کو ترکی زبان میں مخاطب کیا: ‘میرے دوستوں اور بچو، آگے بڑھو، اپنے آپ کو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!’ اس کے ساتھ ہی نقاروں، قرنوں، طبلوں اور بگلوں کے شور نے رات کی خاموشی کو تار تار کر دیا، لیکن اس کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنائی دیے جاسکتے تھے جنھوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سے سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں کے دہانوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔ بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ لیکن پچھلے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے نے ان کے حوصلے پست اور اعصاب شکستہ کر دیے تھے۔ بہت شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے اکٹھا ہونے والے حملہ آوروں پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسرے اپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے شہر کے متعدد چرچوں کی گھنٹیاں پوری طاقت سے بجانا شروع کر دیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو ابھی تک سو رہے تھے۔ فرقے سے تعلق رکھنے والے عیسائی اپنے صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑے اور مقدس کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔ دفاعی فوج نے جانفشانی سے عثمانیوں کی یلغار روکنے کی کوشش کی لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور جانثاری دستے ’ بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔’ روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے باہر ہوچکا تھا۔ جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔ سلطان محمد سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائد کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی تھی۔ ایک طرف ستائیس قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی رومن امپائر چودہ سو اسی برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت نے اپنا نقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔
تاہم نوجوان سلطان محمد کو، جسے آج دنیا سلطان محمد فاتح کے نام سے جانتی ہے، انتیس مئی کی صبح جو شہر نظر آیا یہ وہ شہر نہیں تھا جس کی شان و شوکت کے افسانے اس نے بچپن سے سن رکھے تھے۔ طویل انحطاط کے بعد بازنطینی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور قسطنطنیہ، جو صدیوں تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے مالدار شہر رہا تھا، اب اس کی آبادی سکڑ کر چند ہزار رہ گئی تھی اور شہر کے کئی حصے ویرانی کے سبب ایک دوسرے سے کٹ ہو کر الگ الگ دیہات میں تبدیل ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ نوجوان سلطان نے شہر کی حالتِ زار دیکھ کر شیخ سعدی سے منسوب یہ شعر پڑھا: بوم نوبت میزند بر طارم افراسیاب ۔۔۔ پرده داری میکند در قصر قیصر عنکبوت۔ اُلو افراسیاب کے میناروں پر نوبت بجائے جاتا ہے ۔۔۔ قیصر کے محل پر مکڑی نے جالے بن لیے ہیں۔ قسطنطنیہ کا قدیم نام بازنطین تھا۔ لیکن جب تین سو تین عیسوی میں رومن شہنشاہ کونسٹینٹائن اول نے اپنا دارالحکومت روم سے یہاں منتقل کیا تو شہر کا نام بدل کر اپنے نام کی مناسبت سے کونسٹینٹینوپل کردیا، جو عربوں کے ہاں پہنچ ‘قسطنطنیہ’ بن گیا۔ مغرب میں رومن امپائر کے خاتمے کے بعد یہ سلطنت قسطنطنیہ میں برقرار رہی اور چوتھی تا تیرہ ویں صدی تک اس شہر نے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ اس دوران دنیا کا کوئی اور شہر اس کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا یہی وجہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اس شہر کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے آئے تھے چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر چند ابتدائی کوششوں کی ناکامی کے بعد سنہ چھ سو چوہتر عیسوی میں ایک زبردست بحری بیڑا تیار کر کے قسطنطنیہ کی سمت روانہ کیا۔ اس بیڑے نے شہر کے باہر ڈیرے ڈال دیے اور اگلے چار سال تک متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔ عرب بحری بیڑے کے پاس آتشِ یونانی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ آخر سنہ چھ سو اٹہتر عیسوی میں بازنطینی بحری جہاز شہر سے باہر نکلے اور انھوں نے حملہ آور عربوں پر حملہ کر دیا۔ اس بار ان کے پاس ایک زبردست ہتھیار تھا، جسے "آتشِ یونانی” یا گریک فائر کہا جاتا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک فارمولا آج تک معلوم نہیں ہو سکا، تاہم یہ ایک ایسا آتش گیر مادہ تھا جسے تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا اور یہ کشتیوں اور جہازوں سے چپک جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پانی ڈالنے سے اس کی آگ مزید بھڑک جاتی تھی۔ عرب اس آفت کے مقابلے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام بحری بیڑا آتش زار کا منظر پیش کرنے لگا۔ سپاہیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی پناہ نہیں ملی کیوں کہ آتشِ یونانی پانی کی سطح پر گر کر بھی جلتی رہتی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے پورے بحرِ مرمرہ نے آگ پکڑ لی ہے۔ عربوں کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ واپسی میں ایک ہولناک سمندری طوفان نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور سینکڑوں کشتیوں میں سے ایک آدھ ہی بچ کر لوٹنے میں کامیاب ہو سکی۔
اسی محاصرے کے دوران مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے بھی اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ ان کا مقبرہ آج بھی شہر کی فصیل کے باہر ہے۔ سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک مسجد بنا دی تھی جسے ترک مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کے بعد سنہ سات سو سترہ میں بنو امیہ کے امیر سلیمان بن عبدالملک نے زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن اس کا بھی انجام اچھا نہیں ہوا، اور دو ہزار کے قریب جنگی کشتیوں میں سے صرف پانچ بچ کر واپس آنے میں کامیاب ہو سکیں۔
شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد چھ صدیوں تک مسلمانوں نے دوبارہ قسطنطنیہ کا رخ نہیں کیا، حتیٰ کہ سلطان محمد فاتح نے بالآخر شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔ شہر پر قبضہ جمانے کے بعد سلطان نے اپنا دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور خود اپنے لیے قیصرِ روم کا لقب منتخب کیا۔ آنے والے عشروں میں اس شہر نے وہ عروج دیکھا جس نے ایک بار پھر ماضی کی عظمت کی یادیں تازہ کر دیں۔ سلطان نے اپنی سلطنت میں حکم نامہ بھیجا: ‘جو کوئی چاہے، وہ آ جائے، اسے شہر میں گھر اور باغ ملیں گے۔’ صرف یہی نہیں، اس نے یورپ سے بھی لوگوں کو قسطنطنیہ آنے کی دعوت دی تاکہ شہر پھر سے آباد ہو جائے۔ اس کے علاوہ اس نے شہر کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کی، پرانی نہروں کی مرمت کی اور نکاسی کا نظام قائم کیا۔ اس نے بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات کا سلسلہ بھی شروع کیا جس کی سب سے بڑی مثال توپ کاپی محل اور گرینڈ بازار ہے۔ جلد ہی طرح طرح کے دست کار، کاریگر، تاجر، خطاط، مصور، سنار، اور دوسرے ہنرمند شہر کا رخ کرنے لگے۔ سلطان فاتح نے ہاجیہ صوفیہ کو چرچ سے مسجد بنا دیا، لیکن انھوں نے شہر کے دوسرے بڑے گرجا ’کلیسائے حواریان‘ کو یونانی آرتھوڈاکس فرقے کے پاس ہی رہنے دیا اور یہ فرقہ ایک ادارے کی صورت میں آج بھی قائم و دائم ہے۔ سلطان فاتح کے بیٹے سلیم کے دور میں عثمانی سلطنت نے خلافت کا درجہ اختیار کر لیا اور قسطنطنیہ اسکا دارالخلافہ، اور تمام سنی مسلمانوں کا مرکزی شہر قرار پایا۔ سلطان فاتح کے پوتے سلیمان عالیشان کے دور میں قسطنطنیہ نے نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ یہ وہی سلیمان ہیں جنھیں مشہور ترکی ڈرامے ‘میرا سلطان’ میں دکھایا گیا ہے۔ سلیمان عالیشان کی ملکہ خرم سلطان نے مشہور معمار سنان کی خدمات حاصل کیں جس نے ملکہ کے لیے ایک عظیم الشان محل تعمیر کیا۔ سنان کی دوسری مشہور تعمیرات میں سلیمانیہ مسجد، خرم سلطان حمام، خسرو پاشا مسجد، شہزادہ مسجد اور دوسری عمارتیں شامل ہیں۔
یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور وہاں اس سلسلے میں کتابیں اور نظمیں لکھی گئیں اور متعدد پینٹنگز بنائی گئیں اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو قبول کرنے لیت و لعل سے کام لیتی ہے جس کی وجوہات صدیوں پرانی ہیں۔ یونان میں آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھا جاتا ہے۔ انتیس مئی سنہ چودہ سو تریپن عیسوی کو جمعرات ہی کا دن تھا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اگر موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ھم اسلامی ممالک پر نظر ڈورائیں تو ہمیں صرف اور صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان سب سے بڑی قوت ہر سو نظر آئیگی مانا کہ دشمنانانِ اسلام اور پاکستان اسے تباہ و برباد کرنے کیلئے ہر راستے ہر طریقے اپنائے ھوئے ہیں مگر وہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کے معروضِ وجود میں لانے کیلئے ہزاروں نہیں لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اللہ ان قربانیوں کے صدقے قائم کیئے ھوئے ھے وہ دن دور نہیں جب پاکستان سب کو زیر کرکے دنیا میں امتیازی حیثیت حاصل کرلے گا اس سے قبل منافق سیاستدانوں اور موجودہ نظام کا خاتمہ ھوچکا ھوگا۔۔۔۔!!

Exit mobile version