BBC Urdu TV

عنوان: ترک امام سوتجو اور ھمارا پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ترک امام سوتجو اور ھمارا پاکستان۔۔!!

خلافتِ عثمانیہ ھو یا تحریکِ پاکستان ان دونوں کا اصل مقصد احداف اور منزل اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال ریاست میں قائم منافق اور غداروں کے سبب ھوا۔ اس وقت بھی یہودی و عیسائی زائینسٹ کارفرما رھے اور اب پاکستان میں یہی بین الاقوامی قوتیں اپنے حواریوں کیساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر سیاسی معاشی اقتصادی معاشرتی اخلاقی اور مذہبی افکار و رہنماؤں کو قوتِ ایمانی سے خالی کرنے کیلئے ہر راہ داری کو اپنایا جاتا رہا ھے۔ کسی بھی اسلامی ریاست کی تباہی اس ریاست سے دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لگاؤ محبت عشق اور جہاد کو ختم کردو۔ ھم نے دیکھا کہ یہودی و عیسائی زائینسٹوں نے یہی طریقہ کار ہر مسلم ریاست میں اپنایا اور اپنے سہولت کاروں کے ذریعے وہ ریاست زوال پزیر کردی۔ عصر حاضر میں پاکستان یہودی و عیسائی زائینسٹ اور انکے اتحادیوں کے سبب کمزور ھوتا جارھا ھے اگر عوام نے پاکستان اور اسلام مخالف قوتوں کو نہیں پہچانا تو دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ھوسکتے ہیں لیکن انشاء الله تعالیٰ الله پاکستان کی حفاظت کرتے ھوئے اس ملک کے غداروں کو بے نقاب کردے گا آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! سنہ انیس سو بائیس میں خلافتِ عثمانیہ کا سقوط ہوچکا تھا۔ ترکی کے جنوبی علاقے قہرمان مرعش کے ایک بازار میں فرانسیسی جنرل فتح کے نشے میں مست جا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک با پردہ ترک خاتون پر پڑی ۔ وہ جنرل رکا اور خاتون سے مخاطب ہوا کہ خلافتِ عثمانیہ تو ختم ہوچکی ھے ، اب تم ہمارے ماتحت ہو۔ لہٰذا اپنے حجاب کو اتار دو۔ خواتین نے جنرل کو انکار کردیا جب جنرل کو یہ انکار پسند نہ آیا تو اس نے اپنا ہاتھ اس خاتون کے حجاب کی طرف بڑھایا تاکہ حجاب کو نوچ کر اتار ڈالے۔ بازار میں قریب ہی ایک دودھ فروش یہ منظر دیکھ رہا تھا جس کا نام ”امام سوتجو“ تھا۔ اس دودھ فروش کی غیرتِ ایمانی نے جوش مارا وہ چیتے کی طرح لپکا اور فرانسیسی جنرل کا پستول چھین کر اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔ دودھ فروش کی دکان کے پاس لوگ جمع ہوگئے اور یہیں سے ایک زبردست تحریک نے جنم لیا۔ دودھ فروش نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی تو وہ راتوں رات دودھ فروش سے آزادی کا ایک لیڈر بن کر ابھرا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے پورے قہرمان مرعش کو فرانسیسی استعمار سے آزاد کروا لیا۔ یوں وہ دودھ فروش پوری ترک قوم کا ہیرو بن گیا۔ شاہراہوں پر اس کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لوگوں نے اس کے مجسمے نصب کرنے شروع کردیئے۔ بعد ازاں یہ دودھ فروش ترک نصابوں میں پڑھایا جانے لگا۔ آج ترکی میں جامعہ امام سوتجو کے نام سے باقاعدہ ایک یونیورسٹی قائم ھے جبکہ کئی فلاحی ادارے، تنظیمیں، مدارس اور این جی اوز بھی امام سوتجو کے نام سے قائم ہیں۔ واقعی تاریخ بہادروں کو یاد رکھتی ھے بھکاریوں اور بے غیرت حکمرانوں کو نہیں۔۔۔۔۔معزز قارئین!! دنیا میں مسلمانوں کو کوئی بھی بڑے سے بڑے طاقت زیر نہیں کرسکتی جب تک مسلمانوں میں ایمان کی چنگاری دہک رہی ھو۔ مسلمان موت کو خوشی سے گلے لگاتا ھے کیونکہ جہاد میں الله نے بیشمار نایاب انعامات پنہاں کیئے ھوئے ہیں۔

*وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر*

*اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر*

ھم مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی کی روشن راہ داریاں الله مسلمانوں اور مومنوں کو مقدس کتاب قرآن الحکیم میں جابجا پیش کر رھا ھے مگر افسوس ھم عوام خود مسلماں ھونے کے باوجود عملی مسلماں نہیں۔ ھم سب پاکستانی اپنے اپ کو ٹٹولیں تو ہمیں ایمان اور یقین کی روشنی نظر نہیں آتی لیکن خواب و خواہشات اور اعلانات فکریہ ہیں ھم کس قدر غفلت اور اوندھے پڑیں ہیں۔ ھم نے سیکھنا ھے اور سنبھلنا ھے اپنی تاریخ اور اسلامی احکامات سے۔ الله ھم سب ہر پاکستانی کو امام سوتجو جیسی غیرتِ ایمانی طاقت عطا کردے تاکہ دشمنانانِ اسلام یہود و عیسائی زائینسٹ اور قادیانی جان لیں کہ وہ پاکستان کا بال بھیگا تک نہیں کرسکیں گے انشاء الله تعالیٰ ہمیں الله نے بہادر ایمانی افواج عطا کی ھے اور ہمارے قوم محب الوطن ہیں۔ یہ قوم اپنی ریاست اور افواج کیساتھ ھے اور ہمیشہ رہیگی انشاء الله تعالیٰ ۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version