BBC Urdu TV

عنوان: تحریر کے پیچھے تحریر ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: تحریر کے پیچھے تحریر ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

گزشتہ روز میں نے شوشل میڈیا پر چند سطور پے منحصر ایک تحریر شیئر کی۔ یہ تحریر یوں تو سیدھے سادھے لوگوں کیلئے کسی پارٹی یا شخصیت کے حق میں لگ رھی تھی لیکن درحقیقت اس کے برعکس تھی جبکہ سجھنے والوں کیلئے یہ ایک بہت باریک بڑا پیغام تھا، اپنے معزز قارئین کی خدمت میں وہ تحریر پیش کرنا چاہتا ھوں تاکہ آج کے کالم کے عنوان کا باقائدہ آغاز ھوسکے۔ میں نے لکھا تھا کہ ” یہ سو فیصد حقیقت ھے کہ پاکستان کے آنے والے انتخابات کے بعد بلاول بھٹو ہی وزیراعظم بنیں گے، دیکھنا یہ ھوگا کہ وہ کس پالیسی پر قائم رہتے ھیں، اب سیاست نہیں بلا تفریق خدمات سے دلوں پر راج کیا جاسکے گا وگرنہ کامیابی لپیٹ دی جائیگی: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی” اس تحریر میں تین چیزیں واضع تھیں بلاول بھٹو کا وزیراعظم بننا، دوسرا پالیسی پر قائم رہنا، تیسرا بلا تفریق خدمات پیش کرنا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! پہلی سطر میں بلاول بھٹو کو وزیراعظم اس لئے ظاہر کیا کہ آصف علی زرداری نے اس مد میں دولت کے انبار لگادیئے ھیں جو اس کی زندگی کا سب سے بڑا جوا ھے۔ اس جوئے کی کامیابی کیلئے دو راستے اور تیار کئے ھیں ایک حراساں کرنا دوسرا مکمل طور پر خریدنا یہ طریق ایم کیو ایم کا بھی رھا ھے، اسی لئے ایم کیو ایم کی مکمل ظاہری و باطنی تعاون پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ رہیگا کیونکہ وہ بھی جانتے ھیں کہ عوام اب انہیں قطعی ووٹ نہیں دیگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ قوی امکان ھے کہ اندرونِ خانہ مسلم لیگ ق، فنگشنل، جے یو آئی ف اور جے یو آئی ن، سندھی لسانی سیاسی جماعتوں اور سندھ کی سطح پر مسلم لیگ نون کا بھی بھرپور تعاون دیکھنے میں آئیگا، اسی قدر بلوچستان میں آصف زرداری بلوچ کارڈ کے ذریعے کافی حد تک سیاسی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملانے میؔں کامیاب ھوسکتے ھیں۔ پنجاب اور کشمیر مکمل طور پر ایک بڑی سیاسی منڈی بن چکی ھے، صرف بھاؤ کھلنے کی دیر ھے ہر ایک بکنے کیلئے تیار بیٹھا ھے۔ اب بات کرتے ھیں کے پی کے تو وہاں تحریک انصاف نے اپنے روئیوں سے جمے ھوئے پاؤں خود اکھاڑ دیئے اس لئے یہاں سے بھی آصف علی زرداری کچھ کھیل سکتے ھیں۔ جو لاتے ھیں انہیں بے فکر کردیا گیا ھے اور اچھی نوید بھی سنائی ھے جبکہ منصفین کی طویل فہرست ھے جو بہتے دریا سے مکمل مستفید ھورہے ھیں۔ رہی عوام کی بات تو وہ پاکستان کے دولخت ھونے کے بعد سے تا حال بے توقیر، بے وقعت، بے قدر اشرفیہ اور ایلیٹ طبقہ میں سمجھی جانے لگی ھے، یہ ملک ستر کے بعد سے اشرفیہ اور ایلیٹ طبقہ کے زیر تسلط ھے جنہیں جمہوری ٹھیکیدار خوب لولی پاپ دے دے کر بیوقوف بناتے چلے آرھے ھیں۔ ھماری قوم کو ان پڑھ اور بے شعور رکھا گیا ھے تاکہ ان پر حکمرانی کرتے رھیں۔ اسی لئے یہ اشرفیہ اور ایلیٹ جو چاہتے ھیں ویسا ہی نظام چلاتے ھیں، افسوس کہ ان طبقات کا دور دور سے نہ دین سے کوئی تعلق نہ وطن سے۔ ان کے نزدیک صرف اور صرف دولت اور عیش و تعائیش ھے۔ ھماری اشرفیہ اور ایلیٹ طبقہ اپنے نفس اور صیہونی و دجالی طاقتوں کے غلام اور غداری کے نہ صرف مرتکب رھے ھیں بلکہ انکی یہ عادتیں انکی نسلوں میں بھی منتقل ھوتی چلی آرھی ھیں۔ انھوں نے پاکستانی عوام کو ٹکڑوں میں منقسم کردیا ھے کہیں تعصب، لسانیت، عصبیت، مسلکیت، صوبائیت اور قبیلوں میں گویا اسی جاہلیت کے دور میں دکھیل ڈالا جو اسلام سے قبل تھے۔ اس میں سراسر قصور ایک جانب عوام کا ھے تو دوسری جانب علمائے سوء اور منافق سیاسی مولوی ملا کا۔ یہ آپس میں دین کو اس قدر مسخ کرتے چلے گئے کہ عوام بھی دین سے دور ھو گئی، ان مسلکی مولوی ملاؤں کے باپ سے پوچھو کہ جب حضرت محمد بن عبداللہ المعروف امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو اس وقت مسلک کونسا ھوگا۔ اس قوم کی اپنی غلطی کوتاہی ھے کہ وہ علم حاصل کرنے، سیکھنے، سمجھنے سے بھاگتے رھے یہی وجہ ھے کہ آج ترقی یافتہ دور میں ھماری عوام کا اسی فیصد حصہ تعلیم سے عاری اور بھکاری بنا پھرتا ھے، جو ایک مضبوط مافیا بن چکا ھے، ہٹے کٹے لوگ بھیک اور دیگر سرکاری مراعات لے کر مستحقینوں کا حق مار رھے ھیں اوپر سے حکومت بینظیر کارڈ کے ذریعے کھربوں بھیک میں لٹادیتے ھیں جیسے یہ دولت انکے باپ کی ھو، حکومتی اس اقدام سے برسوں سے مڈل کلاس سفید پوش اور عزت نفس رکھنے والے مستحقین اپنے حق سے محروم ھوتے چلے آرھے ھیں یاد رھے کہ جس ملک میں عدل و انصاف نہ ھو، قانون اور آئین کتابوں کی زنجیر میں قید ھوچکے ھوں تو پھر اس ملک کا وزیراعظم بلاول بھٹو ہی بن سکتا ھے۔ عوام تو اس ملک میں کچڑے کا ڈھیر ھے، اکثریت گندگی سے لدے بے ضمیر، بے حس، بے غیرت بستے ھیں۔ رہی بات ایماندار، باضمیر، حساس مند، درد دل اور انسانیت و دین کو سمجھنے والے لوگوں کی تو ایسے شہری ہی درحقیقت پریشان اور ان حالات سے شدید متاثر ھیں دکھ کی بات ھے کہ یہاں نہ ووٹ کی عزت ھے اور نہ ہی ووٹر کی۔ میں نے قرآن و حدیث اور اسلامی تواریخ کا جتنا بھی مطالعہ کیا تو اس میں یہ بات ثابت ھوتی ھے کہ ریاست کا سپہ سالار متقی، پرہیزگار، مجاہد اور حاکم ھوتا ھے لیکن اس کی حاکمیت اطاعتِ خداوندی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلنا لازم مقصود ھوتا ھے۔ شراب و شباب جیسے ان کیلئے قاتلِ زہر ھوتے ھیں کیونکہ ایک اسلامی ریاست کے سپہ سالار کی نگاہ دشمن کے ظاہری و باطنی وار پر لگی ھوتی ھے ایک اچھا مسلم سپہ سالار جانتا ھے کہ دشمن سب سے پہلے ھمارے دلوں اور دماغ پر حملہ کریگا اور ھمارے درمیان دجالی زہر کو داخل کرنے کیلئے ہر راستہ ہر طریقہ ضرور اپنائے گا۔ یاد رھے کہ اسلام کے پہلے سپہ سالار خود نبی آخری زماں حضرتج محمد مصطفٰی ﷺ تھے اور آپ کے صحابہ اجمعین کرام بھی کئی سپہ سالار اور تمام کے تمام مجاہدین رھے ھیں۔ دینِ اسلام میں سیاست ہرگز نہیں ھے بلکہ ھمارا دین حکمت و دانائی، شعور اور صبر سیکھاتا ھے اس کی سب سے بڑی حقیقت قرآن پاک کا پارہ چھبیس سورة الفتح میں فتح مکہ کا واقع اور بیت الرضوان موجود ھے۔۔۔ معزز قارئین!! ان تمام شواہد حالات و واقعات اور سیاسی چالوں کے باعث یہ سخت سطور لکھے تاکہ جو حق و سچ اور صحافتی رموز پر قائم ھیں وہ مجھے ایک جانب حوصلہ بخشیں گے تو دوسری جانب میرے معزز صحافی کالمکار اینکرز قلم و آواز اور سچ و حق کیساتھ جہاد کو جاری و ساری رکھیں گے۔ کتنے اور بیشمار ایسے صحافی اور اینکرز ھیں جو صحافت کو ایمان کی چوٹی سے نبھاتے ھیں اور کتنے ایسے صحافی ھیں جو سخت و مشکل حالات اور شدید رکاوٹ کے باوجود بڑی ہمت حوصلہ اور صراط المستقیم پر قائم رہتے ھیں۔ مجھے بہت اچھا لگا کہ جب ڈاکٹر عبدالجبار صاحب سینئر جرنلسٹ سیاسی مبصر و تجزیہ نگار نے میری تحریر کو پڑھ کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ان کے اس رویہ پر اپنی تحریر کو کھلے اور آسان الفاظ میں کالم لکھنا ناگزیر ھوگیا مجھے امید ھے کہ اب میرے استاد و دوست اور محترم سینئر صحافی ڈاکٹر عبدالجبار صاحب کو اطمینان ھوجائیگا کہ اس تحریر کے پس پردہ کیا رموز تھے اور کیا حقیقت تھی اب میرے تمام معزز قارئین بھی جان چکے ھونگے کہ جمہوریت ایک ناٹک ھے، دھوکہ ھے، فریب ھے، اب ان سیاستدانوں، اشرفیہ، ایلیٹ طبقہ اور اس نظام سے اپنی جان چھڑانی ناگزیر بن چکی ھے۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب اللعالمین۔

Exit mobile version