
*بیدار ھونے تک*
*عنوان: بھارتی عسکریت میں صفِ ماتم ۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دنیا کی نمبر ون سمجھی اور کہلانے والی عسکری فورس "پاکستان آرمی” ھے یہاں پاکستان آرمی سے مراد پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی بھی شامل ھے، پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے بعد آج تک پاکستان کی تینوں بلکہ پیرا ملٹری فورس بھی ہمیشہ کی طرح آج بھی مکمل پروفیشنل ازم بنیاد پر کام کرتی چلی آرہی ھے۔ اپنی بہترین فنی ماہرانہ پروفیشنل ازم کی وجہ سے آج تک نہ اسے جھوٹ اور جھوٹے ڈرامہ کرنے کی ضرورت پڑی، پاک افواج کے چیف سے لیکر سپاہی تک جنگ لڑنے کی تمنا دل میں سمائے رکھتا ھے کیونکہ دین محمدی ﷺ میں شہید کا عظیم ترین رتبہ ھے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی ناقص کارکردگی اور غیر ذمہدارانہ حرکتوں، بیوقوفیوں اور نااہلیوں کے سبب ہمیشہ اپنے ہی منہ کی کھائی، جھوٹے فریبی مکار ایسے کہ سرے عام جھوٹ کا پلندہ باندھتے ہوئے بھی ذرا شرم محسوس نہیں کرتے، دنیا کا بدترین دہشتگرد ملک اسرائیل کی ایماء پر ایکبار پھر بھارت نے اچھلنا شروع کیا ایسے جیسے بچے اچھلتے ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دنیا بھر کی ذلت و رسوائی سمیٹی۔ بھارت نے ہمیشہ بین الاقوامی قوائد کو توڑنے پھر منہ کی کھانے کے بعد دوبارہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر آگئے یہ بھارت کی غلیظ سوچ اور بد نیت کی عکاسی کرتا ھے، بھارت جانتا ھے کہ پاکستان ایک مضبوط طاقتور ملک ھے اور اس میں بسنے والے ہر ایک شہادت کے مقصود و مطلوب رہتے ہیں انہیں اپنی موت سے اتنا پیار ھے جتنا ہمیں اپنی زندگی سے پیار۔ یہی دیکھیں کہ اسرائیل نے فلسطین میں ظلم و بربریت کی نئی رقم قائم کردی اگر یہ عرب ممالک پاکستان کی طرح ایٹمی طاقت ہوتے تو آج اسرائیل سمیت کوئی بھی غیر مسلم ممالک اسلامی ریاستوں سے خائف ہی رہتا لیکن سلام تحسین پیش کرتا ھوں ہر ایک شخص کو کہ جس جس نے معمولی ہو یا بڑا کام کیا ھو جو پاکستان کو جوہری ملک بنانے میں حصہ دار بنا اللہ ان سب کو بہتر اور عالیشان اجر عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔ معزز قارئین حالیہ چند ہفتوں میں بھارت نے جو اسرائیل امریکہ کے کہنے پر پاکستان پر چڑھائی کیلئے اور فرسودہ ناکام ڈرامہ رچایا تھا اسکی قلعی کھل چکی ھے۔ پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کی چال عالمی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے، حملے کو مبینہ طور پر سرحد پار دہشتگردی سے منسوب کرتے ہوئے بھارت نے پاکستان کیلئے محاذ آرائی کا مؤقف اختیار کیا لیکن بھارت کا یہ ردعمل اچانک نہیں تھا بلکہ یہ اس بڑی حکمت عملی کا حصہ تھا جو گزشتہ ایک دہائی سے تیار ہورہی تھی۔ بائیس اپریل کو پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کی جارحانہ روش کو ایک اور سفارتی دھچکا لگا۔ نئی دہلی کو جس حمایت کی توقع تھی، عالمی بساط کے بڑے کھلاڑیوں نے اس حوالے سے اسٹریٹجک ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ حملے کو مبینہ طور پر سرحد پار دہشتگردی سے منسوب کرتے ہوئے بھارت نے پاکستان کیلئے محاذ آرائی کا مؤقف اختیار کیا لیکن بھارت کا یہ ردعمل اچانک نہیں تھا بلکہ یہ اس بڑی حکمت عملی کا حصہ تھا جو گزشتہ ایک دہائی سے تیار ہورہی تھی۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کی حکومت جو نہ صرف ہندو قوم پرست نظریئے کی عینک لگا کر معاملات کو دیکھتی ہے بلکہ وہ ایک اور بڑی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جوکہ جنوبی ایشیا خطے میں بھارت کے کردار کو تبدیل کرنا ہے اور اسے خطے میں ایک ایسا طاقتور ملک بنانا ہے جسکا کوئی حریف نہ ہو جسے یہ لوگ اٹنگ بھارت بھی کہتے ہیں۔ پہلگام واقعہ کو نئی دہلی نے اپنے اسی مؤقف کو تقویت دینے کے موقع کے طور پر جانا۔ بھارت نے یہ نقطہ نظر اس تصور کی بنیاد پر بنایا کہ عالمی ماحول ان کیلئے سازگار ہے۔ امریکا کیساتھ بڑھتے تعلقات، کواڈ الائنس میں بھارت کا مرکزی کردار اور چین کیخلاف اسکی پوزیشن نے نئی دہلی میں بیٹھے پالیسی سازوں کو یہ یقین دلایا کہ اسٹریٹجک شراکت دار غیر مشروط تعاون پیش کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان کو کمزور ریاست کے طور پر دیکھا گیا جو اقتصادی بحران، مغرب کی جانب سے سفارتی تنہائی کا شکار اور چین پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے جبکہ اسکی اندرونی سیاسی طور پر بھی تقسیم ہے۔ یوں پہلگام واقعہ کے بعد ہونے والی کشیدگی بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور پاکستان کیساتھ تعلقات کو نئے سرے سے متعین کرنے کیلئے ایک سوچا سمجھا اقدام تھا تاہم نئی دہلی کو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ وہ اپنے جارحانہ رویے کو قانونی طور پر درست قرار دینے والی متوقع عالمی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور بھارتی عسکری قیادت نے رونا پیٹنا شروع کردیا۔ چند ایک اہم امور پر فائز جنرلز نے حقائق اُگل دیئے اور مودی کو متنبع کرتے ہوئے اسے جنگی جنونی پاگل ٹہرایا کہ بناء سچ و حق اور تحقیق کے عوام کو ایک بڑی آگ میں دھونس رھا ھے جبکہ امریکا نے کسی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے اسٹریٹجک استحکام اور طویل مدتی شراکت داری کو ترجیح دی ھے، چین نے پاکستان کیساتھ اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے معاملے پر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جبکہ خلیجی ممالک نے بھی معاملے پر احتیاط سے کام لیاہے۔ واشنگٹن نے بھارت کا ساتھ نہ دیا، پہلگام حملے کے وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دورہ بھارت پر تھے جس نے اس یقین کو تقویت دی کہ واشنگٹن غیر واضح طور پر بھارت کی حمایت کریگا لیکن ان توقعات پر اس وقت پانی پھر گیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی حکومت کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "جوہری تنازع” کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انکے ریمارکس نے یہ تاثر دیا کہ انہیں دونوں ممالک کے مابین تنازع میں کوئی دلچسپی نہیں ھے۔ سینیٹ کی کمیٹیوں برائے خارجہ امور اور دفاع کے سابق سربراہ سینیٹر مشاہد حسین نے ریمارکس دیئے کہ صدر ٹرمپ جو روایتی بھارت نواز امریکی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی نہیں کرتے، بنیادی طور پر جنگ کیخلاف ہیں اور وہ انکے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہتے جنہیں انہوں نے "جنگ کے شوقین بھارتی” قرار دیا تھا۔ امریکہ کے اس محتاط انداز کی جھلک ہم نے سینئر امریکی اہلکاروں کے بیانات میں بھی دیکھی۔ امریکی انڈر سیکریٹری آف ڈیفنس ایلبریج کولبی نے بھارتی ایلچی ونے موہن کواترا سے ملاقات کے بعد بیان میں پاکستان، دہشتگردی یا پہلگام حملے کا ذکر کرنے سے بھی گریز کیا۔
اسکے بجائے انہوں نے دفاعی تعاون میں عمومی وعدوں کا اعادہ کیا۔ یہ واشنگٹن کے وسیع تر انڈو پیسیفک حکمت عملی کے مطابق ہے جس میں بھارت کی بنیادی اہمیت چین کیخلاف مسابقتی حریف کے کردار میں ہے لیکن اس سب کے باوجود امریکا نے کشیدگی کم کرنے کی متحرک کوشش کی ہے۔ امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر سے رابطہ کیا اور دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے، تحمل پر زور دینے اور جنوبی ایشیا میں امن کے تحفظ کیلئے دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رکھی۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگستھ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستان پر وہی پرانے الزامات لگائے کہ وہ دہشتگردی کی حمایت کرکے خطے کو غیر مستحکم کررہا ہے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ امریکی وزیر دفاع نے بھارت کے دفاع کے حق کی تائید کی تاہم امریکی وزارت دفاع کے سرکاری جاری کردہ بیان میں تو پہلگام، خطے کی کشیدہ صورتحال اور حتیٰ کہ پاکستان تک کا نام شامل نہیں کیا۔۔۔۔ معزز قارئین !! سماجی ویب سائٹ ایکس کی ایک پوسٹ میں پیٹ ہیگستھ نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔ "میں بھارت کی مضبوط حمایت کرتا ہوں۔ ہم بھارت اور اسکے عظیم عوام کیساتھ کھڑے ہیں”۔ پہلگام کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی اسکالر ڈینئل مارکی نے اپنے مشاہدہ سے بتایا کہ، "واشنگٹن کا ماننا ہے کہ بھارت کے سلامتی کے مسئلے کا حل براہ راست فوجی کارروائی نہیں”۔ انہوں نے مزید کہا، "موجودہ غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن بھارت کو فوجی آپریشن کا گرین سگنل نہیں دے سکتا حالانکہ وہ بھارت سے ہمدردی رکھتا ہے”۔ اسی طرح پاکستان کو بھارت کیلئے مضبوط امریکی حمایت نہ ہونے کو اس بات کی علامت کے طور پر نہیں لینا چاہئے کہ امریکا پاکستان کے مؤقف کی تائید کررہا ہے۔ اسٹیٹ، پینٹاگون اور لینگلے سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے امریکی حکام نے پاکستان پر بھی کافی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تحقیقات میں بھارت کیساتھ تعاون کرے جوکہ اسلام آباد کے آزادانہ تحقیقات کے مطالبے سے متصادم ہے۔ امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اس حملے کے حوالے سے سخت مذمتی بیان جاری کرے حالانکہ پاکستانی حکومت نے حملے کے بعد دفترِ خارجہ کے جاری بیان میں واقعے کی مذمت کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ملک نے خاص طور پر امریکا نے واضح طور پر بھارت کی حمایت نہیں کی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی کی طرف داری نہیں کرنا چاہتا جیسا کہ عالمی میڈیا نے سوال کیا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف واضح ثبوت کیوں نہیں پیش کئے، اس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا جس سے سنہ دو ہزار انیس عیسوی کے پلوامہ حملے کے برعکس بھارت کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگیا تھا
اسکے علاوہ یوکرین معاملے پر غیر جانبدار ہونے کی وجہ سے بہت سے مغربی ممالک بھارت سے نالاں ہیں کیونکہ اس نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی جوکہ مغرب کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی اہداف کے منافی ہے۔ امریکا کیلئے پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ، "واشنگٹن میں دوبارہ غور کیا جارہا ہے۔ بھارت گویا امریکا کی پشت پر سوار ہے لیکن وہ بدلے میں امریکا کیلئے کچھ نہیں کررہا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ، "بھارت نے ہٹ دھرمی اور تذلیل سے کام لیا لیکن اسے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ امریکی اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ اب تک وہ جان چکے ہیں کہ بھارت انکو استعمال کررہا ہے اور وہ خطے میں بھارت کے ہاتھوں خود کو کھلونا نہیں بننے دیں گے”۔ مشرق میں دوست ممالک اسی طرح چین نے زیادہ محتاط اور ہوشیار رویہ اپنایا ہے۔ سرکاری طور پر بیجنگ نے پہلگام واقعے کو "دہشتگرد حملہ” قرار دیا اور غیر جانبدارانہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کو تناؤ کم کرنے کیلئے کہا ھے۔ اس متوازن پیغام نے ماضی کی سرحدی جھڑپوں کے بعد بھارت کیساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی چین کی حالیہ کوششوں کو بھی ظاہر کیا ھے، تاہم پردے کے پیچھے چین نے پاکستان کیجانب سے آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی خاموش حمایت کی اور اسلام آباد کیساتھ مضبوط عسکری تعاون کا اعادہ بھی کیا۔ اس ذو معنی مؤقف نے چین کو پاکستان کیساتھ اپنی "آہنی پوش” شراکت داری کو مزید تقویت دیتے ہوئے خود کو عوامی سطح پر ایک ذمہدار علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیا۔ خلیجی ممالک جنہیں روایتی طور پر بھارت کیساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اور بڑی تعداد میں انکے ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی وجہ سے بھارت کا دوست سمجھا جاتا ہے، انہوں نے بھی غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے اپنے جاری کردہ بیانات میں تناؤ کم اور معاملے کا پُرامن حل نکالنے پر زور دیا۔ یہ ردعمل بھارتی مؤقف کی پشت پناہی کے بارے میں کم بلکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے بارے میں زیادہ تھے۔ علاقائی استحکام میں سرمایہ کاری کرنے والا سعودی عرب، بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننے سے اجتناب کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کا قریبی اقتصادی شراکت دار متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت ہے جبکہ وہ سفارتی توازن کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ قطر جو ثالثی سفارتکاری کی وجہ سے مشہور ہے، وہ اپنی وسیع خارجہ پالیسی کیمطابق غیر جانبدارانہ مؤقف پر قائم رھا ھے۔ اب صورتحال بھارت کیلئے بین الاقوامی واضع ہوچکی ھے کہ بھارت اپنی ہی چال میں خود پھنس گیا اس صورتحال کو جاننے کے بعد بھارتی افواج میں صف ماتم بچھا ہوا ھے کہ نریندر مودی اپنے اقتدار کی خاطر پورے ملک کو داؤ پر لگا رھا ھے بھارت کی سمجھدار باشعور پڑھی لکھی عوام بی جے پی اور نریندر مودی کی چالوں کو سمجھ گئے ہیں اسی سبب وہ کھل کر انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی مخالفت میں سامنے آگئے ہیں، بی جے پی نے یہ سب ڈرامہ انتخابات میں جیتنے کیلئے رچایا تھا جو بری طرح فلاپ ہوچکا ھے، بھارت کو اب بچی کچی عزت کی خاطر پیچھے ہی ہٹنا غنیمت ہوگا جنگ کی غلطی سے ممکن ھے بھارت اپنے کئی علاقے کھو سکتا ھے اور بین الاقوامی حمایت نہ ہونے سے ناتلافی نقصان سے گزرنا ہوگا۔ پاک افواج کی ہمیشہ سے بہترین پالیسی اور حکمت عملی کے سبب دنیا بھر میں عزت و احترام اور اعلیٰ مقام حاصل کرتی رہی ھے، دعا ھے اللہ ہماری افواج کو تاقیامت دشمنوں پر حاوی رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔!!
