*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان : بھارتی حکام نے چھ سو برس قدیم مسجد شہید کردی*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
ایک جانب اسرائیلی حکومت مسلمانوں کی مساجد شہید کرنے سے باز نہیں آرھے تو دوسری جانب بھارتی ہندوتوا حکومت انہی کے نقش قدم پر مسلمانان ہند کی مساجد کو شہید کرکے اور عبادات میں رکاوٹ کھڑی کرکے فتح محسوس کرتے ھیں دوسری جانب یہی مسلمانوں کے دشمن مسلم ممالک میں روزگار اور کاروبار حاصل کرنے کیلئے ہر شرائط قبول کرتے ھیں یہاں تک کہ سعودی عرب ہو یا دیگر تمام عرب ممالک سب کو اپنی ماں بیچتے ھیں یعنی گائیں بھینسیں اور اپنے ملک میں ذبح کرنے پر ناحق مسلمانوں کا خون بہاتے ھیں، یہ ہندوتوا نہ اپنے مذہب سے مخلص ھیں اور نہ ہی اپنے دیس سے ان کا منبع نقطہ ایمان صرف اور صرف حصولِ دولت ھے۔ افسوس کا مقام ھے کہ بھارت کی اٹھانوے فیصد عدالتیں ہندوتوا کے زیر اثر ھیں یہی وجہ ھے کہ مذہبی فیصلے تمام غلط اور بے انصافی پر مشتمل ھوتے ھیں اور انتہا پسند جماعتوں تنظیموں کے حق میں کردیئے جاتے ھیں یہ تسلسل سے جاری ھے حالیہ دنوں میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہندوتوا حکام نے تقریباً چھ سو برس قدیم ایک مسجد شہید کردی ہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی "ڈی ڈی اے” کی طرف سے کئے گئے آپریشن میں تاریخی اخونجی مسجد، مدرسہ بحرالعلوم اور کئی قابلِ احترام شخصیات کی قبروں کو مسمار کردیا گیا۔ مسجد کے امام ذاکر حسین نے کہا کہ مسماری کی کارروائی منگل کو طلوعِ آفتاب سے پہلے خفیہ طور پر کی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ انہدام کو عوام کی نظروں سے چھپانے کیلئے ملبے کو بھی غائب کردیا گیا۔ امام نے کہا کہ ڈی ڈی اے کی ٹیم نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے وہاں موجود لوگوں کے فون ضبط کر لئے تاکہ انہدام کی کارروائی کو کوئی ریکارڈ نہ کرسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے مسجد میں موجود قرآن پاک کے نسخے میں محفوظ نہیں کرنے دیئے اور مدرسے میں زیرِ تعلیم بائیس طلباء کے سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی۔ مسجد اور مدرسے کے انہدام کا یہ واقعہ دلی کے علاقے سنجے وان میں پیش آیا۔ بھارت کی حکومت مذہبی انتہا پسندی کی مکمل تعاون کرتی ھے جس کے ثبوت واضع طور پر ہر کاروائی میں ملتے ھیں لیکن مسلم ممالک کے حکمران بے حسی بے شرمی اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ پیش نہیں کرتے صرف اگر سعودی عرب اور عرب امارات یعنی یو اے ای ان ہندوؤں کو نکال باہر کردیں اور ان سے تجارتی بائیکاٹ کرلیں تو بھارت کے پاؤں سے زمین کھسک جائیگی مگر افسوس صد افسوس ان ستاون مسلم ریاستوں پر کہہ جنہیں دیکھ کر ھم مسلمانوں کا سر شرم سے جھک جاتا ھے۔
