BBC Urdu TV

عنوان: بلآخر فاطمہ بھٹو چپ نہ رہ سکی ۔۔۔!!

ٹائٹل : بیدار ھونے تک

عنوان: بلآخر فاطمہ بھٹو چپ نہ رہ سکی ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

برطانیہ میں سیاسی پناہ لینی والی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور روح رواں ذوالفقار علی بھٹو سے شدید محبت اور والہانہ عشق رکھنے والے پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بھی موجود ھیں۔ یہ جیالے دکھی بھی ھیں کہ انکے سیاسی رہنما کی اولادوں کیساتھ جو بہمانہ سلوک اور قتل کیا گیا وہ دکھ نہ ختم ھونے والا ھے آج پیپیلز پارٹی صرف بھٹو کے نام سے زندہ ھے لیکن اس کے وارثوں کو ختم تو کردیا لیکن اللہ کی رضا سے بھٹو کے پوتے اور پوتیاں ابھی زندہ ھیں البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کی کمان نواسے اور نواسیوں نے لے رکھی ھیں حقیقی جیالے آج بھی مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی اولادوں کو ہی پیپلز پارٹی کی سربراہ اور وارث سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں۔ برطانیہ سے بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ چند سطور میں اپنی بات ختم کروں گی ۔۔۔۔ شہباز اور اس کے داماد علی مفرور کو برطانوی عدالت نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے لیگل کاسٹ/جرمانہ کی مد میں تیئس نومبر سنہ دو ہزار بائیس شام ساڑھے چار بجے تک ادا کرنے کو کہا ہے۔۔۔۔ڈیلی میل نے اپنے اسی صفحات کے ڈیفنس ریپلائی میں صفحہ نمبر سات اور آٹھ پر ان تمام اکاونٹس اور منی ٹرانزیکشنز کی پوری تفصیل دی تھی جس کے تحت دونوں سسر اور داماد نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے آیا غیر ملکی پیسا اپنے ذاتی اکاونٹس میں برطانیہ کے اندر منگوا لیا۔۔۔۔۔ عدالت کافی دنوں سے دونوں کو کہہ رہی تھی کہ ڈیلی میل کے ان الزامات کا جواب دیں مگر عدالت کو ہر دفعہ کہا جاتا کہ میں وزیر اعظم پاکستان ہوں اور فیصلہ اسٹے کردیا جائے ورنہ پاکستان میں میرے اوپر مقدمات پر اثر پڑسکتا ہے۔۔۔۔برطانوی عدالت نے اسٹے درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عدالت میں وزیراعظم بھی ایک عام سائل کی طرح ہوتا ہے۔ مزید التوا نہیں دیا جائیگا اور تیرہ دسمبر کو قطعی آخری تاریخ چور ٹبر کو اپنے دفاع کیلئے دی اور ساتھ جرمانہ/ لیگل کاسٹ بھی دینے کا حکم جاری کیا۔ میرا یہ پیغام پاکستان کی کنگرو کورٹس میں بیٹھے کنگرو بکاؤ ججوں کیلئے ہے۔ انھوں نے سارے ثبوت ہونے کے باوجود کیسے پاکستان کے غریبوں کا کھربوں لوٹنے والوں کو بری کیا اور انھیں یہاں برطانیہ آکر وہی پیسہ اپنے مکروہ کاروباروں میں لگانے کی اجازت دی؟ یا کرسیاں چھوڑ کر نیک ججوں کو آنے دو۔ مشترکہ پراپرٹی ڈیلرز شپ کے دفاتر کھول کر ان زرداریوں پٹواریوں کے نیوٹرل گمنام دلال بن جاؤ۔ وہ قوم کیسے خود داری اور غیرت کے دعوے کرسکتی ہے جہاں ملک کے سب سے حساس عہدے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ لندن میں بیٹھا چور بھگوڑا اور اسکی بیٹی بھگوڑی کررہی ہو؟ شرم سے تم مر کیوں نہیں جاتے۔ ماؤں کے بطن سے ہم نے دھرتی کے سپوت مانگے تھے، ڈاکووں کے پہریدار نہیں۔ اگر قوم متحد ہوتی تو انقلاب لاچکی ہوتی مگر سست اور بد عقل لوگوں کو پھر خدا ایسے ہی کرپٹ جج، محافظ اور بادشاہ دیا کرتا ہے۔ ہم سب چور ہیں، بچے سے بوڑھے تک ہر گھر چور ہے، ہر آفیسر سے نان آفیسر تک، ریڑھی والے سے مزدور تک، سب چور ہیں۔ ورنہ چوروں کو چوکوں میں لٹکا نہ چکے ہوتے ہم۔ غیرت کھاؤ ان مغرب کی قوموں سے جنھوں نے غیرت کھائی اور اپنے کرپٹ بادشاہوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ تب جا کر ان کے ہاں انصاف کے ترازو میں سب برابر ہوئے ہیں۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ یہاں یورپ میں قتل ہو، دہشت گردی ہو اور قاتلوں کیخلاف دو ہفتے بعد بھی ایف آئی آر تک نہ ہو۔ کس آزادی کے خواب دیکھ رہے ہو پاکستانیو؟ میرے پاس بچا ہی کیا ہے۔ سب تو خاندان مروا بیٹھی ہوں اور پھر کہا جاتا ہے فاطمہ بھٹو واپس آجاؤ۔ کس اندھے دیس میں واپس آؤں جہاں قاتل ملک کے حاکم بنے بیٹھے ہیں اور عوام انکے تلوے چاٹ رہے ہیں۔ کیا اس ملک میں واپس آوں جہاں عمران نے ٹی وی پر چند گھنٹوں میں پندرہ ارب سیلاب زدگان کیلئے اکٹھے کئے اور وہی عوام آج عمران کیساتھ اکٹھے ہو کر اس پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر تک نہیں کٹوا سکی۔ مجھے کوئی ایک تھانہ کچہری بتاؤ جہاں تم چالیس پچاس بندہ جمع ہو کر اس ظلم کا حساب لینے گئے ہو؟ بس چند لوگ جا کر سیلفیاں بنوا کر ٹوٹل پورا کردیتے ہیں۔ کیا ایسے ملک آجاؤں ایک اکلوتے بھائی کو مروانے کیلئے؟ میں تم لوگوں کو چوڑیوں کے تحفے تو دے سکتی ہوں۔ مزید جانیں نہیں دے سکتی۔ کوفیوں کے شہر میں میرا پورا خاندان قتل ہو چکا ہے۔۔!!

Exit mobile version