*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : اے مسلم حکمران اور مذہبی ٹھیکیدار! کچھ شرم کرلو ۔۔۔۔ !!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آج پندرہ ویں صدی کا سال سنہ ١٤٤٥ ھجری ھے یعنی پندرہ ویں صدی ہجری کے ٤٥ سال ھورہے ھیں اور 21 ویں ہجری کا 24 واں سال چل رھا ھے۔ آپ ﷺ نے ١٤ ویں صدی ہجری کے رونما ھونے والے واقعات کی پیشنگوئی کی جو ابتداء ہیں قرب قیامت ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اپنے کالم کی بنیاد، اساس اور کیفیت کی جانب بڑھنے سے قبل تاریخ کے اوراق کو کھولنا میرے لئے ناگزیر چکا ھے، معزز قارئین!! اگست سنہ 1099 عیسوی، رمضان کا مہینہ، جمعہ کا وقت تھا، بغداد کی مرکزی جامع مسجد میں مسلمانوں کے خلیفہ وقت، المستظہر باللہ جمعہ کے خطبہ کیلئے منبر پر آکر کھڑے ہوئے، عین اسی وقت اچانک سامنے کی صف میں بیٹھے ایک شخص نے اپنے تھیلے سے ایک روٹی نکال کر کھانا شروع کردی، رمضان کے پہلے جمعہ کا خطبہ، اسلامی دارالحکومت کی مرکزی مسجد اور دور عباسیہ میں عباسی خلیفہ کے سامنے ایک شخص کا یوں روٹی کھانا شروع کرنے پر، لوگ غصہ میں مارنے کو دوڑے، پوری مسجد کے لوگ بشمول خلیفہ بھی اس عجیب و غریب منظر کو دیکھنے لگے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ کوئی پاگل ہے یا بد تمیز؟ آخر ہے کون؟ لوگوں نے غصے سے پوچھا کہ یہ کیا حرکت کی تم نے؟ اس پر اس شخص نے گرج دار آواز میں اب بولنا شروع کیا! ” تم لوگ میرے رمضان میں یوں کھانا کھانے پر غصہ ہورہے ہو، تم سب کی غیرت اچانک جاگ گئی کہ کیسے ایک شخص نے مسجد میں کھانا کھا کر توہین کردی لیکن دو ہفتے پہلے بیت المقدس، مسجد اقصیٰ پر صلیبوں نے قبضہ کرلیا، مسجد میں قرآن مجید کی توہین کی گئی، مگر تم میں سے کسی کی غیرت نہ جاگی، یہاں بغداد میں کسی کے روزمرہ کے کام تک نہ رکے، حتیٰ کہ میں ایک ہفتے سے خلیفہ سے ملنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ان کے محافظوں اور آس پاس گھومتے چمچوں نے ملنے تک نہ دیا۔ تمہیں لگا کہ میں نے یہاں کوئی حرام کام کیا ہے جبکہ میں تو دمشق سے آیا ہوا ایک مسافر ہوں، جس پر روزہ رکھنا فرض ہی نہیں، لیکن اے خلیفتہ المسلمین!! تم پر تو بیت المقدس کی حفاظت فرض تھی، تم نے کیوں اسے صلیبیوں کے ہاتھ میں جانے دیا؟ تم یہاں خطبہ دے رہے ہو وہاں ہمارے بھائی در بدر پھر رہے ہیں ہماری بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں۔ میں دمشق کا قاضی اور امام الہراوی ہوں، میں تمہیں جھنجھوڑنے آیا ہوں کہ آنکھیں کھولو! اقصیٰ کو صلیبیوں سے آزاد کراؤ اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر عورتوں کی طرح گھر بیٹھ جاؤ۔” شیخ الہراوی دیر تک بولتے رہے، لوگ زار و قطار رونے لگے۔ خود خلیفہ نے روتے ہوئے معافی مانگی اور سلجوق حکمران سے مل کر اقصیٰ کی آزادی کیلئے جدوجہد کا وعدہ کیا۔ یہ شیخ زین الاسلام الہراوی رحمۃ اللہ علیہ تھے جو افغانستان کے صوبے ہرات میں پیدا ہوئے اور پھر دمشق جاکر دینی علوم میں وہ مہارت حاصل کی کہ قاضی یعنی چیف جسٹس مقرر ہوئے، آپ بڑے عالم اور بہترین خطیب بھی تھے۔ مسجد اقصیٰ پر دشمن نے قبضہ کیا تو آپ نے مدرسہ میں بیٹھ کر پڑھنے پڑھانے کے عمل کو موقوف کرکے امت اور امت کے حکمرانوں کے ضمیر کو جگانے کی مہم کا آغاز کیا۔ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا جو بالآخر کئی سال بعد سلطان صلاح الدین ايوبي کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح کی صورت میں نکلا لیکن آج کے علماء، مکتب و مدرسے میں درس و تدریس کے فرائض ادا کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم پر جہاد باللسان، جہاد بالقلم، جہاد بالمال اور جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت ساقط ہوگئی ھے۔ میں جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی خود کو سب سے پہلے قصور وار ٹہراتا ھوں اور پھر اپنے قلیق میڈیا کے اینکرز، صحافی، رپورٹرز، تجزیہ نگار، مبصر، کالمکار، شفٹ انچارج، نیوز پروڈیوسرز، نیوز کنٹرولرز، نیوز ڈائریکٹرز سمیت میڈیا مالکان کو بآور کرانا چاہتا ھوں اور بیدار کرنا چاہتا ھوں کہ 7 اکتوبر سنہ 2023 سے ابتک اپریل سنہ 2024 تک مسلم امہ کی میڈیا چند ایک کے علاوہ بلخصوص پاکستانی میڈیا نے مسلم دشمنی اور یہودی و نصاریٰ سے دوستی میں جس قدر بے شرمی بے حیائی اور بے غیرتی کا ثبوت دیا ھے تاریخ تو تاریخ اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول پاک ﷺ کی ذات اقدس کبھی بھی معاف نہیں کریگی یاد رکھو کہ اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کا فرمان ھے کہ تم جس سے رغبت و محبت کرتے ھو روز قیامت اسی گروہ سے اٹھائے جاؤگے۔۔۔ معزز قارئین!! چند ایک کے علاوہ بیشتر مسلم امہ کے حکمرانوں کا کردار انتہائی غلیظ، خبیث، کمین اور اسلام دشمنی پر رھا ھے وہ فلسطین کو تباہ و برباد اور ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کو شہید ھوتا ھوا دیکھ رھے ھیں اور کفار و مشرکین اور یہودیوں سے وفا نبھاتے چلے آرھے ھیں۔ امت مسلمہ کے چند ایک کے علاوہ بیشتر علماء، علماء سوء ھوگئے ہیں، پیر و فقیر اور مفتیان و شیخ الحدیث سمیت اسلامی تنظیمیں، جماعتیں اور گروہ سوائے شہدائے فلسطین پر چندہ بٹورنے اور دولت سمیٹنے کے کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رھے ھیں اور انکے ہاں جہادی عمل نظر نہیں آرہا ھے اگر جہادی عمل تیز ترین ھوتا تو امریکہ سمیت اسرائیل چند گھنٹوں تک جنگ نہیں کرسکتا تھا۔ رہی بات مسلم ممالک جن میں 57 اسلامی ممالک خاص طور پر ترکیہ، ایران، عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، اومان، مصر، شام، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیاء، آذربائی جان، برونائی اور افغانستان سے قطعی کوئی ایک جہادی گروپ یا لشکر فلسطین کی جانب نہیں بڑھا صرف کمزور بیان بازیاں جاری رہی اور جاری ہیں۔ یہی سبب ھے کہ اسرائیل مسلم امہ کو چیونٹیوں کی طرح مسل رھا ھے اور یہ انہیں چیونٹیوں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اسی وجہ سے اسرائیل لگاتار مسلم امہ پر تھوکے جارھا ھے اور عزوہ پر لامتناہی بمباری کرنے سے باز نہیں آرھا۔ اسرائیل اپنی خباثت کمینگی اور کنجر پن کی انتہا کو پہنچ گیا ھے وہ دنیا کا سب سے بڑا غنڈہ دہشتگرد ملک امریکہ کے تعاون سے فلسطین پر مکمل قبضہ کرکے دیگر اسلامی ریاستوں کو غلام بناکر اپنی حاکمیت اور پاور کے تلوؤں میں دبوچنے پر کام کررھا ھے اور ان بیغیرت 57 مسلم ممالک کو اسقدر ایمانی طاقت سے خالی اور کمزور کررھا ھے کہ وہ بآسانی مسجد اقصیٰ کو ڈھاکر ٹیمپل سلیمانی کی تعمیر جلد کرنا چاہتا ھے کیونکہ انکے آقا انکے مولا انکے سردار دجال کو نمودار ھونا ھے اسی سبب اس کیلئے یہ سب کچھ راہ ہموار کی جارہی ھیں۔ کب تم اے امت مسلمہ تم مسالک اور دیگر گروہ بندیوں میں تقسیم در تقسیم ھوکر کمزور بننا چاہتے ھو نکل آؤ ان مسلک کی زنجیروں سے نکل آؤ ان تفرقہ بندیوں سے نکل آؤ ان عصبیت و لسانیت کی نفرت سے تھام لو اللہ کی رسی اور بن جاؤ ” ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے، نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شجر” ۔۔۔۔ معزز قارئین!! امت مسلمہ کا یونہی خاموش احتجاج اسرائیل کی خباثت کمینگی پن اور بدترین ظلم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، آپ ﷺ نے حق کیلئے باطل سے غزواة لڑیں جس میں آپ ﷺ نے خود سپہ سالاری کا منصب سنبھالا، آپ کے غلاموں عاشقوں نے بھی کفار و مشرکین سے ہمیشہ جہاد کیا آپ ﷺ نے دین محمدی ﷺ اور اسلام کی حفاظت کیلئے پے در پے غزوات اور جنگوں کا سلسلہ جاری رکھا کیونکہ شیطان و ابلیس کے پیروکار بغیر جہاد کے نہ سمجھتے ھیں نہ سدھرتے ھیں اسی لئے جہاد میں شہید ھونے والے متقی و پرہیزگاروں سے ہزار درجہ بلند اور معتبر ھوتے ھیں یہ مقام خود اللہ سبحان تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے ذریعے امت مسلمہ کو بتایا ھے۔ اس وقت نہ چندے کی اشد ضرورت ھے نہ صدقہ خیرات کی، پوری زندگی چندہ عطیات صدقہ خیرات جمع کرتے رھے ھو اب جان نچھاور کا وقت ھے یہی امتحان ھے کہ تمہارا ایمان کس قدر ھے آیا کہ ایمان ھے بھی یا نہیں یا صرف دنیا سے محبت میں گھر گیا اگر ایسا ھے تو پھر یہ تمہارے لئے بہت بڑی ہلاکت کا باعث بنے گا اے امت مسلمہ اب بھی بیدار ھوجا اور اپنے ایمانی تقاضہ کو مکمل کرتے ھوئے ہر سو ہر طرح معصوم فلسطینیوں اور غزہ کے لوگوں کیلئے دو قدم آگے بڑھ کر اس جہاد عظیم میں ساتھ دیں بصورت تمہارا ھمارا اور میرا مقدر جہنم ٹہرے گا، اللہ اکبر۔۔۔۔!!
