ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اےآروائی نیوز کیلئے بڑی خوشخبری۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
اےآروائی نیوز کیلئے بڑی خوشخبری اور نوید ھوتی نظر آرھی ھے۔ اےآروائی سے موجودہ اور سابقہ وابستگی رکھنے والے مخلصیں سچوں کی دعا اثر دکھانے لگ گئی۔ میں نے کبھی بھی خود کو اےآروائی نیٹ ورک کا ملازم نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنا خاندان سمجھتا تھا ہوں اور رہونگا کیونکہ اےآروائی کے پائینرز میں میرا شمار ھوتا ھے۔ حالیہ دنوں میں بہت رنجیدہ اور افسردہ تھا اور دعا کرتا تھا کہ اے رب تو محمد و آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اےآروائی نیوز کی بندش کا خاتمہ کردے کیونکہ میڈیا انڈسٹری میں پہلی بار ایسا ھوگا کہ اےآروائی نیوز خصوصی الیکشن ٹرانسمیشن سے کہیں محروم نہ ھوجائے کیونکہ بندش سے ٹرانسمیشن ھونا نہ ھونا برابر ھے۔ آج شکر ادا کرتا ھوں کہ رب العزت کا کہ الیکشن کمیشن نے اندرونِ سندھ کے بیشتر شہروں کا پہلے ہی مؤخر کا اعلان کیا ھوا تھا اب کراچی میں بھی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کو مؤخر کرکے دو اکتوبر تک ملتوی کردیا۔ اےآروائی نیوز کے ہمدردوں سچوں مخلصوں کی دعا سے اللہ نے امید جگا دی ھے اور اسی رب سے دعا و امید رکھتے ہیں کہ بہت جلد اےآروائی کی نشریات دیکھنے کو ملیں گی۔ بیشمار سابقہ و حاضر سچے مخلص دیانتدار ایماندار حق پرست اور ایمان یافتہ ملازمین کی دلی خواہش ھے کہ اےآروائی چینل سے منافقین مفادپرست چاپلوس نااہل جاہل سازشی عناصروں کا بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ھونا چاہئے اور سلمان اقبال کو کہتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لے عماد بن یوسف جیسے سازشی منافق حق تلفی کرنے والے افسران کو نکال باہر کرے کیونکہ یہ اور اس جیسے دیگر چینل کی بدنامی رسوائی کا باعث بنتے ہیں آپ جانتے ہیں کہ عماد نے اپنی نااہلی کی بناء پر اےآروائی کے دیگر چینل بند کردوا دیئے تھے کیا آپ چاہتے ہیں بار بار تجربہ کرنا تو آپ کی مرضی ھے نا اہل افسر سے ایک جانب چینل کی ساگ پر اثر پڑتا ھے دوسری جانب ماتحت ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔میڈیا انڈسٹری میں ایک سے ایک پروفیشنل موجود ھے مگر نجانے آپ کو اس ان پروفیشنل عماد بن یوسف سے اتنا پیار کیوں آگیا یاد رھے ظالم اور نا اہل افسر کی موجودگی نحوست سے کم نہیں اور نحوست اسی پر عائد ھوتی ھے جس پر اللہ غیظ و غضب کرتا ھے۔ سلمان اقبال آپ ذرا خود کو پہچانیں کہ آپ کے دادا حاجی یعقوب گاندھی میمن انتہائی مذہبی عاشقِ رسول غلامانِ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ آپ غریب پرور اور دردِ دل رکھنے والے تھے۔ سلمان اقبال آپ اپنے باپ اور چچا کی جانب بھی دیکھ لیں وہ انسانیت کی خدمت سے سرشار ہیں مگر آپ نے اپنے چند ایک ایسے فرعون دجال مشیر رکھ لیئے جن کی صحبت سے آپ انتہائی بگڑ چکے ہیں یہی وجہ ھے کہ آپ سنگدل اور مادیت پرستی میں خاندانی تمام روایات کو فراموش کرچکے ہیں۔ بیشک پردہ پوشی کرنا سب سے اچھا معتبر عمل ھے مگر ظالم کے ظلم پر خاموش رہنا گناہ کبیرہ بھی ھے اسی لیئے میں آپ کو بیدار کرنے کیلئے کہہ رھا ھوں کہ دو سال قبل ڈاؤن سائزنگ پر آپ نے اپنے خبیث افسران کے کہنے پر معمولی معمولی تنخواہوں پر مامور سچے مخلص ایماندار ملازمین کا معاشی قتل کیا تھا اور پلٹ کر بھی نہ پوچھا یاد رکھئے یہ دولت یہیں رہ جائے گی بس منوں مٹی خالی ہاتھ دفن کیئے جائیں گے اس بابت میں آپ کے بزرگوں کو بھی شریک جرم سمجھتا ھوں یاد رکھیئے گا ان سب کا حساب آپ نے اور آپ کے بڑوں نے روزِ قیامت اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دینا ھے اور ان افسران سہولتکاروں کو بھی دینا ھے جو معاشی قتل کا حصہ بنے۔ اللہ اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک بندہ معاف نہ کرے۔۔۔۔۔!!
