BBC Urdu TV

*عنوان: ایپسٹین فائلز ۔۔ حقائق پر مبنی انکشافات*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: ایپسٹین فائلز ۔۔ حقائق پر مبنی انکشافات*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

بیشک دین محمدی ﷺ اور نظام خلافت جو آپ ﷺ اور اصحاب کرام کے زمانے میں تھی دنیا سکون امن و امان خوشحالی و ترقی کی جانب تیزی سے رواں دواں تھی اس نظام شریعہ کے تحت انسانیت اپنے عروج پر فائز تھی عدل و انصاف ہر ایک کی دسترس اور دہلیز پر تھا۔ گناہ اور جرم سوچتے ہوئے بھی ڈر و خوف اور کپکپی طاری ہوجاتی تھی آج مسلم دنیا بشمول پاکستان کو اس نظام کی اشد ضرورت ھے۔ معزز قارئین "کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ جیفری ایپسٹین ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ کا پردہ چاک ہوتا جارھا ھے جو ابتک مکمل دنیا کے سامنے عیاں نہیں ھوا ھے اور کوشش جاری ھے کہ کسی طرح اس معاملہ کو دبا دیا جائے یا مکمل عیاں ھونے نہ دیا جائے کیونکہ اس راز میں اسرائیل امریکہ برطانیہ بھارت سمیت کئی حکمران اور انکی خفیہ ایجنسی کی کارفرمائیاں بےنقاب ہوجائیں گی اور طاقت و کنٹرول کا پوری دنیا کا نظام تبدیل ہوسکتا ھے۔ جو مسلم دنیا کو فائدہ پہنچا سکتا ھے۔ معزز قارئین انٹرنیٹ پر "ایپسٹین فائلز” کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا "جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس نے پیسہ، طاقت اور بلیک میلنگ کے ذریعے اپنا ایک الگ جہان آباد کر رکھا تھا۔ ایپسٹین کے پاس بحرِ اوقیانوس میں ایک نجی جزیرہ تھا جس کا نام "لٹل سینٹ جیمز” تھا۔ مقامی لوگ اسے "گناہوں کا جزیرہ” یا "بچوں کے استحصال کا جزیرہ” کہنے لگے تھے۔ یہاں ایک عالیشان محل، نیلے گنبد والی ایک عجیب و غریب عبادت گاہ نما عمارت اور کئی خفیہ تہہ خانے بنے ہوئے تھے۔ اسی جزیرے پر ایپسٹین اپنے نجی طیارے "لولیتا ایکسپریس” کے ذریعے دنیا بھر سے بااثر لوگوں کو لاتا تھا۔
​ایپسٹین اکیلا نہیں تھا، اس کی سب سے بڑی دستِ راست غزلین میکسویل تھی، جو خود ایک بااثر خاندان سے تھی۔ ان کا طریقہ واردات کچھ یوں تھا کہ وہ غریب گھرانوں کی یا ماڈلنگ کی شوقین کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بناتے تھے۔ انہیں "مساج” یا "تعلیمی وظائف” کے نام پر بلایا جاتا پھر ان لڑکیوں کو دھمکایا جاتا یا انہیں پیسے دے کر دیگر لڑکیوں کو لانے پر مجبور کیا جاتا۔ ان لڑکیوں کو ایپسٹین کے نجی جزیرے، نیویارک کے محل اور فلوریڈا کے گھروں میں طاقتور لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اس اسکینڈل میں سینکڑوں لڑکیوں کی زندگیاں برباد ہوئیں۔ کچھ مشہور نام جنہوں نے سامنے آ کر ہمت دکھائی ان میں ورجینیا جوفرے انہوں نے براہِ راست برطانوی شہزادے اینڈریو پر الزام لگایا اور بتایا کہ کیسے انہیں سترہ سال کی عمر میں ایپسٹین نے مجبور کیا۔ اینجلی ہیرسن جنہوں نے ایپسٹین کے محل کے اندرونی مناظر اور وہاں ہونے والے ظلم کی داستانیں بیان کیں۔ ماریا فارمر جنہوں نے سب سے پہلے ایف بی آئی کو اس نیٹ ورک کی اطلاع دینے کی کوشش کی تھی۔ ان لڑکیوں کے انٹرویوز میں ایک بات مشترک تھی: "ایپسٹین کے پاس ہر طاقتور شخص کی خفیہ ویڈیوز تھیں جنہیں وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا تھا۔” ایپسٹین لوگوں کی نفسیاتی کمزوریوں کو بھانپ کر انہیں اپنے قابو میں کرتا تھا اور پھر انہیں ایسے کاموں پر مجبور کرتا جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا تھا۔ جنوری سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی سے جو فائلز پبلک ہونا شروع ہوئیں، ان میں بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ، پرنس اینڈریو، اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے ناموں کا ذکر مختلف حوالوں سے آیا۔ جہاں تک برصغیر کے لیڈروں جیسے مودی یا عمران خان کا حالیہ وائرل ہونے والا ذکر ہے، تو یاد رہے کہ ابھی تک کسی بھی آفیشل عدالتی دستاویز میں ان کا نام بطور ملزم یا ملاقاتی ثابت نہیں ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی خبریں اکثر سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ ہوتی ہیں جن کا مقصد سنسنی پھیلانا ہوتا ہے۔ سنہ دو ہزار انیس عیسوی میں جب دوبارہ گرفتاری ہوئی تو ایپسٹین نے جیل میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی، لیکن اس کی موت آج بھی ایک معمہ ہے۔ بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ اسے خاموش کروا دیا گیا تاکہ بڑے نام بے نقاب نہ ہوں۔ اس کی ساتھی غزلین میکسویل اس وقت بیس سال کی قید کاٹ رہی ہے۔ ایپسٹین کا قصہ صرف ایک شخص کا قصہ نہیں بلکہ یہ اس گندے نظام کی جھلک ہے جہاں پیسہ اور طاقت معصومیت کا سودا کرتے ہیں یاد رھے کہ دنیا بھر میں اس وقت ستاون مسلم ممالک میں بھی مکمل شرعی نظام رائج نہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ کہیں بھی نظام خلافت نہیں۔ کہیں جمہوری تو کہیں بادشاہت کے نظام پر اسلامی ممالک ہیں اس بابت انکار نہیں کرسکتے اور شک کو رد بھی نہیں کرسکتے کہ حکمران ہوں یا سپہ سالارز ججز ہوں یا سیاستدان کوئی بھی اس گروہ کا حصہ یا ممبر نکل سکتا ھے لیکن دنیا اب جان چکی ھے کہ دین محمدی ﷺ یعنی اسلام واحد مذہب ھے جو امن و امان تحفظ عزت و احترام بھائی چارگی انسانیت درد احساس ایثار و قربانی تہذیب و ادب اتحاد و اتفاق یقین و محکم اور سچ سچ سچ حق کی ترجمانی اور حیات جاویدانی دیتا ھے دنیا جان چکی ھے کہ اسلام میں بعد موت ہی اصل زندگی ھے جو نہایت پاک و صاف شفاف اور بہترین ھے جسے جنت کہتے ہیں۔ دنیا یہ بھی جان چکی ھے کہ اسرائیل یہودی مذہب، امریکی و یورپی عیسائی مذہب اور بھارتی ہندو مذہب ایک دھوکہ فریب جھوٹ پر مبنی ھے جسے شیطان و ابلیس اور خاص کر دجال چلا رھا ھے۔ پندرہ سو سال قبل دین محمدی ﷺ کے آنے کے بعد خود اللہ واحد لاشریک نے تمام دین کو ملاوٹ اور سچ سے علیحدہ کہہ دیا تھا اور تمام بنی نوع انسانوں کو دین محمدی ﷺ میں داخل ہونے کا حکم فرمایا۔ پاکستان سمیت اسلامی ریاستوں کو شرعی نظام کو لاگو کرنا ناگزیر ھوگیا ھے اسی میں مسلم دنیا سمیت تمام دنیا کی ترقی خوشحالی امن و سکون پنہاں ہیں۔

Exit mobile version