*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ایس ایم قریشی سے خصوصی ملاقات، جو انجمن ھیں اپنی ذات میں ۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
سنہ انیس سے نوے میں ابلاغ عامہ سے جڑا اور سنہ دو ہزار ایک میں الیکٹرونک میڈیا کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے چینل اےآروائی سے وابسطہ ہوگیا ، اےآروائی سے سنہ دو ہزار انیس تک تعلق جڑا رھا پھر فری لانس جرنلسٹ کے طور پر تا حال پرنٹ میڈیا سے جڑ کر اپنی صحافتی ذمہداری نبھا رھا ھوں۔ صحافتی دنیا کے ان کئی سالوں میں بہت کچھ دیکھنے، سمجھنے، سیکھنے اور مشاہدہ و تجربہ کرنے کا موقع میسر آیا۔ یہ حقیقت ھے کہ چھوئی موئی پودے کی طرح صحافت سیکڑ گئی ھے یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ صحافت کو سیکڑ دیا گیا ھے اس میں کئی رموز، وجوہات، اسباب اور عناصر شامل ھیں۔ خیر اس بحت میں جانا نہیں چاہتا یہ ایک طویل بحث اور مضمون ھے معزز قارئین گزشتہ دنوں ھم نے اپنے سینئر صحافی دوست محمد صغیر قریشی المعروف ایم ایس قریشی سے ملاقات کی، آج کا کالم انہی کے نام پیش خدمت ھے۔ ہمارے دوست اور قلیق صحافتی دنیا کے نامور کئی اشاعتی پییرز کے مدیر اعلیٰ بھی رھے اور کئی جرائد و اخبارات کی ڈیکریشن بھی تاحال انکے پاس موجود ھیں۔ آپ سنہ انیس سو ساٹھ، ستر، اسی، نوے اور دو ہزار عیسوی کی دھائی میں پرنٹ میڈیا میں بہت متحرک رپورٹر اور مدیر و مدیر اعلیٰ بھی رھے ہیں، آپ نے رپورٹنگ سے مدیر اعلیٰ تک کا سفر بہت محنت، مشقت، سخت گیر حالات کے باوجود، لگن، جستجو اور مہارت و قابلیت، ذہانت اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مہربانی، کرم و فضل اور نوازشوں کی بدولت حاصل کیا۔ معزز قارئین!! سینئر صحافی ایس ایم قریشی مجھ سے مخاطب ھوکر کہتے ھیں، بیدار ھونے تک کالم جوکہ میرے کالم کا ٹائٹل ھے، بہت خوبصورت اور جاندار انتخاب ھے۔ ایم ایس قریشی کے متعلق میں کہتا ہوں کہ جو کام بڑے بڑے جاگیردار، سرمایہ دار، نام نہاد سیاستدان حتیٰ کہ حکومتیں نہ کر سکیں وہ کام ہمارے ملک کے ایک عام سے عامل صحافی، دشت سیاست کے راہ رو، وطن عزیز سے بیروزگاری کے خاتمے کی جدو جہد قومی سطح پر اجاگر کرنے کے باضابط منصوبہ بندی کے تحت، یونائیٹڈ جاب لیس پیپلز ویلفیئر ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے نام سے بیروزگاری کے سدباب کیلئے اداریہ قائم کیا، اسکے ساتھ جابس، یونائیٹڈ اینڈ سروس ٹرسٹ بھی رجسٹرڈ کروایا۔ مفاد عامہ کے لا تعداد، سماجی فلاحی ادارے، انجمنںیں، اسکول، کالجز، مساجد، مدارس کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیا۔ لیبر یونینیں بنوائیں، صارفین ویلفیئر کونسل، نیشنل ویلفیئر کونسل، ایڈوکیٹ ابرار خان بلوچ کے ساتھ تحریک روغ شعائر اسلامی، تنظیم دفاع پاکستان میں کام کیا، ایچ بی ایف سی سودی نظام کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور لا تعداد سماجی سیاسی و فلاحی اداروں کے سرپرست و روح رواں آج بھی ہیں، اپ پاکستان کی وہ واحد شخصیت ہیں کہ ضلع وسطی میں، نارتھ کراچی میں عوام کی سہولت کیلئے نادرہ سے باضابط شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے اپنے ذاتی نام پر شناختی کارڈ آفس کی منظوری لی اور بعد ازاں وہ آفس نارتھ کراچی ٹاؤن آفس بلڈنگ میں منتقل کروا کر سرجانی، نیو کراچی، نارتھ کراچی اور ملحقہ آبادیوں کیلئے شناختی کارڈ کا حصول ممکن بنایا یہی نہیں بلکہ اورنگی ٹاؤن کے ہزاروں گھرانوں میں آپکے دستخطوں کے تصدیق شدہ شناختی کارڈ ہیں اور یہ منہ دیکھے کی بات نہیں یہ ریکارڈ پہ موجود ھے، ایس ایم قریشی کی گزشتہ چار دہائیوں سے اخبارات و رسائل میں سماجی، سیاسی، معاشرتی و فلاح بہبود سے متعلق جدوجہد اور کاوشیں تواتر سے شائع ہوتی رہی ہیں اور مجھے یہ کہنے میں قطعاً کوئی عار نہیں کہ ماشا اللہ، بلا مبالغہ آپکی شخصیت فی زمانہ قحط الرجال میں چھپے رستم کی زندہ مثال ہے جو کام بڑے بڑے جاگیردار، سرمایہ دار، نام نہاد سیاست دان حتیٰ کہ حکومتیں نہیں سوچ سکیں وہ اپ نے بڑی سادگی سے سر انجام دے دیئے، اور یہ سب تاریخ کا حصہ ہے، دنیا کچھ بھی کہے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپکے براہ راست شہید جنرل ضیاء الحق سے بہت اچھے تعلقات تھے، جنرل صاحب نے آپ سے اجتماعی فلاح و بہبود کے بہت کام لئے، پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا کام آپ سے یہ لیا کہ آپ نے ان سے، پولیس ریفارمز کرائے، پولیس کے گریڈ ون سے
گرینڈ پانچویں کی گذارشات، آپ ہی نے مولانا تنویر الحق تھانوی کے توسط سے منظور کروائیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات جماعت اسلامی کے ایک وزیر صحت، اطہر صدیقی سے ہزاروں غریب مریضوں کا سرکاری خرچ پر علاج معالجہ بہم پہنچایا، سابق وزیراعظم پاکستان مرحوم محمد خان جونیجو سے نئی روشنی پروگرام میں بلا تفریق، لوگوں کو سینکڑوں ملازمین دلوائیں، صرف کراچی میں تین سو ساٹھ سے زیادہ بلا رشوت و خرچہ ایچ ایس ٹی، ٹیچروں کے اپائٹمنٹ کروانے، جی ایم سید صاحب کی بھی آپکو خصوصی شفقت حاصل رہی، پیر پگاڑا صاحب سے بھی آپکا قلبی تعلق رہا، بلکہ انیس سو ستر اکہتر عیسوی کے عام انتخابات بمقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی ۔۔۔ مسلم لیگ میں آپ تعلقہ میہڑ ضلع دادو ڈویژن لاڑکانہ سے الیکشن مہم میں آپ بڑے پیر سائیں کیساتھ رہے، آپکی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ھے۔ خاندانی مسلم لیگی ھونے کے ناطے بھی ایک وسیع و مقتدر سیاسی حلقہ آپکو میس رہا، شہید غلام حیدر وائن وزیر اعلیٰ پنجاب، مرحوم فدا محمد خان، صدر پاکستان مسلم لیگ، مرحوم اقبال احمد خان سیکریٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ، شہید حکیم سعید سابق گورنر سندھ، مرحوم جام امیر علی خان، جام صادق وزیر اعلیٰ سندھ، سید عبداللہ شاہ صاحب مرحوم وزیراعلیٰ سندھ اور خاص طور پر شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ۔۔۔ بینظیر بھٹو صاحبہ کی آپ پر خصوصی عنایات رہیں انہوں نے بھی آپکی گذارشات پر نارتھ کراچی میں متعدد اسکول و کالج منظور کئے، کھیل کے میدانوں کی ترقی اور تعمیر کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز دئیے، کئی کھیل کے میدان قبضہ مافیا سے واگزار کرانے، میہڑ اور اسکے ساتھ پورے سندھ میں ٹیکنیکل کالجز تعمیر کروانے کا اعزاز بھی آپکو ہی حاصل ھوا اور یہ تمام کارنامے انجام دینے کے باجود آپ پر کہیں کسی بھی قسم کے ذاتی مفاد یا کرپشن کا کوئی حوالہ نہیں ھے اس تمام تر تمہیدِ کے پس پشت یہ سوال بڑی شد و مد سے حیران کررہا ہے کہ مفاد عامہ کی جستجو کا متلاشی بجائے وقت حاضر اور ہر دور میں ممکنہ طور عنان حکومت پر متمکن رہنے والی جماعتوں کا حصہ بننے اور بنے رہنے کے حتمی مواقع حاصل ھونے کے باوجود کسی غیر معروف و نومولود سیاسی جماعت کا حصہ بننے کی وجوہات سمجھ نہیں آرہی؟ آپکا حلقہ احباب اور عوام الناس اسکی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی بد نصیب، نسل درنسل، منتقل یزیر موروثیت زدہ، جمہوریت کے لبادے میں، گزشتہ پون صدی سے ملفوف مکروہ طرز حکمرانی نے قوم کو معاشی و معاشرتی بدحالی، انتشار، عدم استحکام، عصبیت کو فروغ، اپنے ہی اداروں کے خلاف نفرتیں، کدورتیں، دشمنی، یہ سب کیا ھے ؟ اور سب سے بڑھ کر شیطان کی آنت سے طویل مہنگائی، بیروزگاری، مملوک الحالی، کبھی ادا نہ ہوسکنے والے ھولناک حد تک سود در سود، نسل در نسل بیرونی قرضہ جات کی بھرمار، عوام فاقہ کی شکار، سیاستدان اور قیادت مال و دولت کی فراوانی سے دنیا کے امیر ترین لوگوں سے مقابلہ کی دوڑ میں نمبر ون آنے کی جستجو میں سر گرداں ؟ حرض و ہوس و مال و دولت کے پجاری، ملک و قوم پر گزشتہ نصف صدی سے مسلّط یہ حکمران کسی طور مخلص، محب الوطن اور مظلوم عوام کے ہمدرد اور وفادار کہلانے کے مستحق نہیں ہوسکتے اور یہی وہ تلخ ترین سچائی ھے کہ میرے جیسا کوئی بھی ذی شعور اور موت کے بعد آخرت میں یوم حساب پر یقین رکھنے والا مسلمان کسی بھی ایسی سیاسی پارٹی کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا جنکے دور اقتدار میں عوام کی اکثریت فاقہ کش کی باعث مہنگائی، غربت اور بھوک و افلاس کی دلدل میں تسلسل کے ساتھ جکڑے جارہے ھوں۔۔ میں کیا کوئی بھی مخلص اور ایماندار صحافی اور ماشا اللہ آپ جاوید صدیقی خود بھی تو اسی نصب العین کے داعی اور مبلغ ہیں۔ مزید گفتگو کرتے ہوئے جب ان سے سوال کیا کہ سیاسی مصلحتوں اور آپکی ایک طویل العصری زندگی کے سفر میں آپ نے بہت کچھ سیکھا ہے اور پاکستان کی سیاسی خواہ معاشی، معاشرتی اور سماجی تاریخ میں آپ ایک ایسے نادر و نایاب زندہ کردار ہیں کہ فی زمانہ آپکی مثال ملنا مشکل ہے، لہٰذا قطع نظر کسی تکل کے ہمیں کھل کر بتائیں کہ وہ ایسا کیا راز ہے کہ آپ نے عام لوگ اتحاد میں شمولیت اختیار کی ھے؟ کچھ تو ھے جس کی رازداری ھے ؟ میرے محترم جو کچھ بھی ھے وقت آنے پر سامنے آجائیگا۔۔ مختصر یہ ھے کہ عام لوگ اتحاد پاکستان کے بانی جسٹس وجیہہ الدین صدیقی اور انکے تمام رفقاء انتہائی قابل احترام، مخلص، محب الوطن اور نابغہ روزگار شخصیات کی ایک ایسی منور کہکشاؤں کی انجمن ھے جو انشاء اللہ، مستقبل قریب میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کیلئے مرتب کردہ منشور و پروگرام پر عمل درآمد شروع ھونے پر بہت کم وقت میں ملک و قوم کی تاریخ بدل دیگا۔۔۔ تھوڑا سا صبر کریں اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کیلئے دعا کریں۔۔۔ ایس ایم قریشی نے میرے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جی ایم سید، علیہ رحمہ، کے ذہن میں سندھو دیش کا کوئی خاکہ نہیں تھا ۔۔ جی ایم سید رحمتہ اللہ علیہ جیسے مخلص اور دین اسلام سے نظریاتی طور پر وابستہ و صوفی ازم سے والہانہ عقیدت رکھنے والے برّصغیر کی سیاست میں بھونچال بیدا کرنے والے منفرد و یکتائے روزگار سیاستدان ہیں جنھوں نے تن تنہا سندھ کی ہزار ہا سالہ ہندو ازم کی جنم بھومی ہندوؤں کے اکثریتی صوبے، تاج برطانیہ کی زیر تسلط برٹش آنڈین لیجسلیٹو اسمبلی، سندھ، موہن جو دڑو کے قلب میں قرارداد پاکستان منظور کروا کر برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک بیمثال انقلابی کارنامہ انجام دیا ھے جو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صورت میں انشاءاللہ قیامت تک زندہ و تابندہ رہےگا۔۔ جی ایم سید رحمتہ علیہ کی مخالفت کرنے والوں کو عصبیت پسندی کی عینک اتار کر کسی کی بھی شخصیت کا تجزیہ سیاق و سباق اور تاریخی حقائق کی روشنی میں کرنا چائیے ۔۔ میرے اس مختصر سی تبصرے پر اگر کسی کو اختلاف ہے تو میں جواب دہی کیلئے حاضر ھوں۔۔۔ پاکستان ژندہ باد، سائیں جی ایم سید کی مسلمانان ہند کے لئے دور رس نتائج کی حامل استعمال کی گئی سیاسی بصیرت کو سلام ۔۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔۔یہ ایک مختصر ملاقات و انٹرویو تھا جسے میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش اس لئے کرنا چاہتا تھا کہ سینئر ترین صحافی رپورٹر ایڈیٹر اور مدیر اعلیٰ نہ صرف ہمارا بلکہ اس ملک و ریاست کا اثاثہ ہیں انکی سچائی اور بے باقی کے سبب انہیں تاحال حکومتی انعامات سے محروم رکھا گیا ھے جو اس ریاست اور حکومت پر نشانیہ سوال پیدا کرتی ھے۔۔۔۔!!
