ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: الیکشن کمیشن ۔۔۔۔ سول انتظامیہ و سول سیکیورٹی ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
الیکشن سیکیورٹی کے سلسلے میں افواج پاکستان نے معذرت کرلی۔ جی ایچ کیو راولپنڈی کی جانب سے صوبوں میں عام اور ضمنی انتخابات سنہ دو ہزار تیئس کے موقع پر پاک افواج نے واضع الیکشن کمیشن کو کردیا ھے کہ وہ پاک افواج، رینجرز اور ایف سی کے جوان و افسران کی خدمات دینے سے معذرت کرلی ھے اور وزارت دفاع نے بھی ہری جھنڈی دکھادی۔ اردو کے ضرب المثل اور محاورے دیر آید درست آید کے مطابق پاک افواج کا بہترین اقدام ھے۔ پاک افواج ھو یا پیرا ملٹری فورسس ریاست کے تحفظات اور ملک دشمنوں کو کیفر کردار تک ہہنچانے میں مصروف عمل رہتی ھے۔ کہیں بھی کسی بھی مہذب ممالک میں افواج کو باپ کی لونڈی بناکر ذاتی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھا جاتا اور نہ ہی حکومت اور الیکشن کمیشن سیکیورٹی کیلئے اہم ترین نازل ترین امور سے ہٹاکر اپنی خدمات لیتے ھیں۔ انتخابات ھوں یا دیگر معاملات حکومت کی مدد و رہنمائی کیلئے ایک جانب شہری حکومت تو دوسری جانب شہری انتظامیہ اور پولیس ہمہ وقت ساتھ کھڑی رہتی ھیں اور ان سب کی معاونت عدلیہ اپنا موثر کردار ادا کرتیں ھیں۔ پاکستان کو دو لخت کرنے والے سول ڈکٹیٹر نے اپنی حکومت کو بچانے کیلئے کیا کیا حرکتیں کی تاریخ میں سب رقم ھیں۔ ایلیٹ فورس جانباز فورس بلیک کوبرا اور ناجانے کیا کیا نام تھے جو پولیس کے کمانڈوز پر مشتمل تھے انہیں اس لیڈر کو بچانے اور اسکے تخت کو محفوظ بنانے کیلئے اس سول ڈکٹیٹر نے تشکیل دیا تھا جس نے نہتے عوامی مخالفین پر اندھا دھند گولیاں و لاٹھیاں برسائی، یہ سول ڈکٹیٹر کا سلسلہ تا حال جاری ھے جو اس نے اس جمہوریت کو دیا بحرکیف یہ بات واضع ھوجاتی ھے کہ آج تک فوج اور اسکے ذیلی اداروں کو حکومتوں نے اپنی ذات کیلئے ہمیشہ استعمال میں رکھا۔ کیا ھمارے پولیس جرائم انڈسٹریاں بنتی رھیں گی ؟؟ کیا ھماری پولیس افسران وزراء و مشراء کی غلامی کا طوغ پہنتے رھیں گے؟؟ کیا ھماری پولیس کبھی بھی پروفیشنل نہیں بن سکے گی؟؟ یاد رھے پروفیشنل ازم میں سچائی، ایمانداری، دیانتداری اور حقوق کی پاسداری اولین شرط ھوتی ھے ان چار عناصر کے بغیر ہرگز ہرگز پروفیشنل ازم ممکن نہیں۔ اگر یہ چار عناصر نہ ھوں تو دھوکہ اور جھوٹ پر مبنی غلط بیانی کہلاتی ھے۔ اس وقت پاکستان میں صرف ایک ادارہ ھے جو مکمل پروفیشنل ازم پر قائم ھے جسے ھمارے حکمران انہیں بھی اپنی غلاظت اور خباثت کا چھینٹا پھیکنا چاہتے ھیں مگر یہ شائد بھول گئے ھیں کہ یہ انکی سب سے بڑی غلطی اور بیوقوفی ھے کیونکہ الحمدللہ ھماری افواج دنیا کی بہترین پروفیشنل افواج ھے جو ان بے ایمانوں بدکرداروں اور سازشوں کے کسی بھی چال میں ہرگز نہیں پھنسیں گے۔ بحرحال یہ بات مکمل ثابت ھے کہ سنہ انیس سو ستر کے بعد سے تا حال تک جمہوری حکومتوں نے صرف اور صرف اپنی سیاسی جماعتوں اور اقتدار پر ہی مکمل توجہ رکھی یہی وجہ ھے کہ آج جمہوری ملک ھونے کے باوجود جمہوریت سے خالی ھے بلکہ جمہوری ٹھیکیداروں کے آمرانہ ظالمانہ طرز عمل سے قوم کا جینا محال ھوچکا ھے ملک دیوالیہ ھوچکا ھے بیروزگاری رہزنی ڈکیتی چوری لوٹ مار ذخیرہ اندوزی ملاوٹ ہوشربا مہنگائی جعل سازی منشیات و عصمت فروشی اور لاقانونیت جیسے خطرناک ترین مہلک اعمال پھیلتے رھے جس کی تمام تر حکمرانوں وزراء و مشیران نے ایک جانب تقویت دیں تو دوسری جانب پڑوان کیلئے قانون کی دھجیاں بکھیریں ریاست سے کھلم کھلا بغاوت اور سرکشی کرتے رھے اور انتخابات میں جعل سازیوں کے تمام حدیں پار کرتے چلے آئے ھیں۔ یہ جمہوری بندر کبھی ادھر تو کبھی ادھر اچھلتے رھے ھیں خود عیش و تعائش اور عوام بھوک و افلاس میں مبتلا رھی۔ ھماری سول انتظامیہ اور پولیس اس قبل نہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بہترین اور اچھی خدامات پیش کرسکیں اور ریاست پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے فوجی طرز پر اپنی خدمات پیش کرسکیں کیوں بار بار اور ہر بار الیکشن کمیشن آف پاکستان افواج پاکستان سے مدد اور خدمات طلب کرتی ھے اگر انہیں صوبائی حکومتوں و سول انتظامیہ اور سول سیکیورٹی یعنی پولیس پر اعتماد نہیں بھروسہ نہیں کارکردگی پر شک ھے تو پھر ان سول اداروں کی بندش اور خاتمہ ہی بہتر ھے کیونکہ عوامی ٹیکس سے ان اداروں کو سالانہ گرانٹس بشمول تنخواہ اور پینشن کڑوروں روپے خرچ کئے جاتے ھیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالت عظمیٰ سختی سے آنے والے ضمنی و عام انتخابات میں انہیں اداروں سے سختی کیساتھ بہترین خدمات لیں ناکامی کی صورت میں ان اداروں کو کلعدم قرار دیکر از سر نو تشکیل دیا جائے تاکہ سول نظام بہتر چل سکے وگرنہ ہمیشہ یہ سیاسی کھیل تماشا اور ڈرامہ جاری رہیگا جوکہ ریاست اور ملک و قوم کو مکمل تباہ کرنے کیلئے کافی ھے۔ دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں یہ دشمنوں سے دو ہاتھ آگے دشمنی کررھے ھیں اب ریاست خود اپنا راستہ بنائے تو بہتر ھے کیونکہ ریاست پر ستر سالوں سے ان نااہل حکمرانوں کی وجہ مزید بوجھ اٹھانا پڑیگا اگر پاکستان بچانا ھے تو، اللہ ہمیشہ پاکستان کو محفوظ ہاتھوں میں رکھے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!
