ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اصل حیات ہی بعد موت ھے ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
ھم انسان خود کو جب ترقی کی منازل پر پہنچنے اور دنیا کی دولت سمیٹنے میں مصروف ھوتے ھیں تو لمحہ بھر احساس بھی نہیں رہتا کہ مستقبل میں ھم ایسے حالات سے بھی دوچار ھوسکتے ھیں جہاں ھماری دانشوری، علقمندی، ذہانت، چالاکی، دولت، رعب، دبدبا، تعلقات اور اختیارات سب کے سب لاچار، بے بس اور انتہائی کمزور ھوجاتے ھیں۔ مختصراً پاکستان کے سیاستدانوں و حکمرانوں کی جانب جب گزشتہ دس سے بیس سال ماضی کی جانب منہ موڑتا ھوں تو آج کے پی ڈی ایم کے بڑے بڑے رہنما قانون و قید اور سزا سے بچنے کیلئے مصنوعی بیماری کی چادروں میں چھپ گئے کچھ حقیقتاً موذی بیماریوں میں لاحق ھونے کے سبب خالق حقیقی سے جا ملے بحرکیف یہ اشرفیہ امراء ایلیٹ کتنی ہی چالاکی مکاری دھوکہ دہی کرلے آخر منوں مٹی سوائے اپنے کرتوت کچھ نہیں لے جاسکیں گے۔ میرے والد کہتے تھے کہ پاکستان بننے سے قبل ہندوستان کے مسلمان ہوں یا عرب کے ان میں خاندان کو بڑی اہمیت حاصل رہی ھے۔ تاریخ اسلام ہمیں بتاتی ھے کہ خاندانی لوگوں نے ہی ریاستوں ممالک کو ایک خوشحال فلاحی معاشرہ بنائے رکھا لیکن تحریک پاکستان کی قربانیوں کے بعد اس خطہ میں غیر خاندانی لوگوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ھوئے خود کو خاندانی کہلوانے لگے یہی وجہ ھے کہ اب پاکستانی قوم جن رہبروں سربراہوں حکمرانوں اور مقتدر قوتوں سے نبرد آزما ھے اور رہتی چلی آرھی ھے وہ آپ سب اچھی طرح جانتے ھیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان میں نظامِ ریاست چلانے کیلئے انہیں چنا جاتا ھے جن کا ماضی حال داغدار اور سیاہ ہوتا ھے یہی سبب ھے کہ جب جب جمہوری حکومتیں بنیں ان ادوار میں عوام الناس پر ظلم و بربریت، ناانصافی، اقربہ پروری، لاقانونیت، بہرہ روی، عریانیت، فحاشی، چوری ڈکیتی لوٹ مار قتل و غارت نفرت عصبیت لسانیت تعصب مسلکیت اور مافیاؤں کی سرپرستیاں لینڈ مافیا کی پشت پناہی کرتے رھے اور اب بھی مستقبل تاریک ہی ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں ان اشرفیہ ایلیٹ طبقوں اور مقتدر قوتوں کو بآور کرانا چاہتا ہوں کہ تم مسلمان ھو بھی کہہ نہی تم میں کیونکر خدا کا خوف اٹھ گیا، رسولِ خدا ﷺ کی محبت مٹ گئی کیوں تم آخرت کو بھلا بیٹھے ھو تمہیں یاد دلانے کیلئے کچھ حقائق سامنے پیش کرتا ھوں شائد تم سنبھل جاؤ آمین۔۔۔ تو سنو تم سب کے سب ۔۔۔ عالمگیر ترین، پاکستان کا بہت بڑا بزنس مین، شمیم اینڈ کمپنی کا مالک، ملتان سلطان کرکٹ ٹیم کا اونر، اندازأ چار سو ارب روپے کی دولت، عمر تیرسٹھ سال، ایک سال قبل تک مکمل صحتمند، لیکن پھر اچانک وقت امتحان آن پہنچا، آنکھوں کی بینائی جاتی رھی۔ جلد کی ایسی بیماری وارد ھوئی، کہ چہرہ بگڑ گیا اور ایک انتہائی خوبصورت اور مضبوط انسان اندر سے بالکل ٹوٹ پھوٹ گیا، اس قدر دولت بھی کسی کام نہ آئی اور اپنی زندگی کا اپنے ہاتھوں خاتمہ کرلیا۔ اب بات کرتا ھوں اسٹیوجاب کی جو ارب پتی، چھپن سال کی عمر میں کینسر سے چل بسا، وہ لکھتا ھے ایک وقت آتا ھے جب دولت انسان کیلئے بے معنی ھوجاتی ھے۔ آپ ہر کام کیلئے اسٹاف رکھ سکتے ھیں لیکن آپ اپنی بیماری جھیلنے کیلئے کسی کو ملازم نہیں رکھ سکتے یہ آپ کو خود ہی جھیلنی پڑتی ھے۔ اس وقت بیوی، بچے، دوست، احباب، رشتہ دار، ساری جائیدادیں، بنک بیلنس بے وقعت ہوجاتے ھیں اور انسان بالکل تہی دامن ھوجاتا ھے۔ یہ ھے اس دنیا کی اصل حقیقت، جس کیلئے اپنی ساری زندگی کو ہم حرص و ہوس کی نظر کردیتے ھیں۔ جائز، ناجائز، حلال حرام کی پرواہ نہیں کرتے، سب رشتے ناطوں کو پاش پاش کردیتے ہیں اپنے انجام کو بھول جاتے ہیں، جو زیادہ دور نہیں جہاں صرف ہمارے اعمال ہی کام آتے ہیں جو ہماری ترجیحات میں موجود ہی نہیں۔ آج بھٹو نہیں لیکن انکی باقیات کا کردار بھٹو کو گالی دینے پر عوام رکتے نہیں، نواز شریف اور انکے تمام خاندان کو جن جن غلیظ الفاظ سے عوام پکارتے ھیں کیا یہ عزت ھے انکی، مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے صاحبزادگان پھر ایم کیو ایم ان سب کو عوام کس نگاہ سے دیکھتے ھیں اور اگر پی ٹی آئی کی بات کی جائے تو وہ نوزائیدگی میں ہی بغیر پیمپر ھوگئی پھر نجانے کس بات پر کس عمل پر اکڑے پھرتے ھیں۔ ان کا کے گناہ کبیرہ میں بلند و بالا مقام پر ہماری میڈیا انڈسٹری کے چیدے چیدے لوگ بھی نہ صرف شامل بلکہ شرمناک کردار میں ملوث رھے۔ یقین جانئے جو علمائے کرام عالم دین مجتہدین شیخ الحدیث مفتی اعظم اور کامل پیر عظام و مشائخ نے ابتک اپنی خدمات علمی و قلمی جہاد سے معاشرے کو حالات کو اور ریاست کو سنبھالا ھوا ھے یہ وہ لوگ ھیں جو متقی پرہیزگار دیندار ایماندار اور سچے ہیں یہ محترم شخصیات ذاتی مفادات منافقت اور موقع پرستی سے نابلد ھیں نفع و نقصان کی پرواہ کئے بغیر حق و سچ پر قائم رہتے ھیں کیونکہ یہ جانتے ھیں کہ اصل حیات ہی بعد موت ھے۔
