BBC Urdu TV

عنوان : اشرفیہ کے فراڈ اور کرپشن کے طریقے۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : اشرفیہ کے فراڈ اور کرپشن کے طریقے۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

نہیں چھوڑیں گے تمہیں کسی بھی سمت، نہیں چھوڑیں گے تمہیں کسی بھی پل، یہ کوئی فوجی باڈر کا نعرہ نہیں، اور یہ کوئی افسانہ و ناول کی داستان نہیں یہ وہ بد قسمت پاکستان اور پاکستانیوں کی بد نصیبی و بد قسمتی اور حقیقت ھے جو عوام ابھی تک سمجھ نہیں رھے۔ یاد رھے کہ ھماری بقاء و سلامتی کا خطرہ اس ظالمانہ، قاتلانہ، دجالانہ، فسطانیتانہ، یہودانہ اور امریکانہ نظامِ جمہوریت اور جمہوری نظام کی وجہ سے ھے۔ اس غلیظ و خبیث مخالفِ اسلام اور نام نہاد جمہوریت سے چھٹکارا ہی اصل حیاتِ ریاست و حکومت اور عوام کی زندگی کی ضمانت ھے۔ میں اپنے معزز قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ ھمارے دوست اور محسن ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی نے مجھے بتایا کہ جب ترکیہ سے امپورٹ کرتے تھے تو کسٹم ڈیوٹی زیرو کرکے خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا۔ سیلز ٹیکس بھی زیرو کردیا جب امپورٹ مکمل ہوگئی اور ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک بن گیا تو قیمتیں بڑھادیں گئیں، اسکو کہتے ہیں انسٹیوشنلائزڈ کرپشن اب ذرا پکڑ کر دکھائیں، پہلے سولر پلیٹ کے فروغ کا منصوبہ تھا پھر کسی نے سمجھایا کہ اس طرح تو لوگ آزاد ہوجائیں گے، واپڈا، میٹر، بلوں سے جان چھوٹ جائیگی پھر دس ہزار میگا واٹ کا سولر پلانٹ کا منصوبہ بنا، دو دو ہزار میگا واٹ کے پانچ پلانٹ بانٹے گئے۔ رینٹل پاور پروجیکٹس کیطرح اب عام صارفین کو سولر بجلی واپڈا کے ذریعے ہی دی جائیگی اگرچہ شروع میں بل کچھ کم ہوگا مگر آہستہ آہستہ بڑھا کر حال رینٹل پاور جیسا بنادیا جائے گا اس وجہ سے عام صارفین کیلئے سولر پلیٹس کی خریداری اور تنصیب ناممکن بنادی جائیگی ایسے کرتے ہیں یہ کرپشن دکھاؤ پکڑ کے!! شریف خاندان، زرداری خاندان، سلیم سیف اللہ فیملی، خواجہ آصف سمیت سب کے کرائے کے بجلی گھر ہیں ظلم یہ ہوا کہ یہ پلانٹس پانی، ہوا سولر کو چھوڑ کر فرنس آئل اور کوئلے سے چلائے گئے اس کیلئے امپورٹس کا بل بڑھ گیا اسی وجہ سے سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ پیدا ہوا، دوسرا ظلم یہ کہ حکومت سے جو معاہدے کئے وہ استعمال پر نہیں بلکہ کیپسٹی کے تحت کئے گئے یعنی اگر گرمیوں میں ہماری ضرورت تیئس ہزار میگاواٹ ہے تو کمپنیوں نے کہا کہ ہم تو چالیس ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کی کیپسٹی رکھتے ہیں اس طرح حکومت سے کیپسٹی پیدوار کی پے منٹ لی جاتی ہے جبکہ استعمال اس سے کہیں کم ہوتا ہے اور استعمال سے زیادہ کی بجلی کمپنیاں بناتی بھی نہیں مگر قیمت وصول کی جارہی ہے۔ سردیوں میں یہی استعمال تیرہ ہزار تک آجاتا ہے مگر قیمت وہی چالیس ہزار کی لی جاتی ہے! یوں سمجھیں آپ پنڈی سے لاہور والی بس پر بیٹھیں اور گوجر خان اتر جائیں مگر گاڑی والا آپ سے لاہور کا کرایہ وصول کررہا ہے۔ یہ ظلم آج تک جاری ہے اب اس میں مسئلہ یہ آگیا کہ فرانس آئل کوئلہ وغیرہ منگوانے کیلئے ملک میں ڈالر نہیں اور جنکے پاس ڈالر ہیں وہ ملک میں لانا نہیں چاہتے، اسلیئے موجودہ حکمران جنکے اپنے رینٹل پاور پروجیکٹس ہیں، انھوں نے سوچا کہ اب تو رینٹل پاور سے بجلی پیدا کرنا ممکن نہیں رہا اور کچھ عرصہ میں بالکل بھی ممکن نہیں رہیگا اس لئے متبادل کے طور پر قوم کو سولر کی زنجیر میں باندھ رہے ہیں۔ اس کیلئے بھی ماڈل وہی رینٹل پاور پروجیکٹس والا رکھا گیا ہے یعنی مبینہ طور پر دو دو ہزار میگا واٹ کے پلانٹس قریبی لوگوں کے نام پر بانٹ دیئے گئے ہیں جن سے مجموعی طور پر دس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور یہ بجلی واپڈا کے سسٹم کے ذریعے ہی قوم کو دی جائے گی، اسکے برعکس اگر سولر پلیٹس بنانے کے کارخانے لگاتے اور سستی پلیٹس لوگوں کو فراہم کرتے تو چند سالوں میں انقلاب آجاتا مگر اس طرح انکی نسلوں کا کاروبار نہ چلتا یہ ہیں انکے فراڈ اور کرپشن کے طریقے مگر ہم سیاسی وابستگیوں کے باعث انکی چوریوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں حالانکہ یہ قوم کا مجموعی مفاد ہے اور مجموعی نفع نقصان کی بات ہے۔ خدارا اس سولر سسٹم کی میگا چوری کو بے نقاب کریں، اللہ کی طرف سے مفت ملنے والی بجلی قوم کو لاکھوں میں کیوں بیچی جارہی ہے، کمیشن کا دور چلا گیا اب کرپشن کو باقاعدہ ایک ہنر بنادیا گیا جیسے رینٹل پاور بنائے اور قوم کو آج تک مہنگی بجلی بیچ رہے، اب سولر سسٹم پر بھی یہی منصوبہ بندی ہے یہ حکومت میں رہیں نا رہیں انکی نسلوں کا کاروبار چلتا رہیگا۔ ایک دن آئے گا یہ سولر سسٹم بھی قوم کیلئے وبال جان بنا دینگے۔ میاں نوازشریف، میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو اور آصف علی ذرداری خاص طور سے سولر سسٹم میں اپنا کاروبار شامل کرکے قومی خذانے پر خاموش قانونی جرائم کی پاداش میں زمین آسمان ایک کرتے جارھے ھیں۔ ایک جانب شور شرابہ اور ریاکاریوں کے ہنر تو دوسری جانب بندر بانٹ کی روایت قائم و دائم کی ھوئی ھیں۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ۔۔۔۔!!

Exit mobile version