*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : ادویات ساز کمپنیز اور حکومتی پالیسیاں ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
کراچی پریس کلب میں چند ہفتہ قبل ملک بھر کی جملہ تجارتی انجمنیں، ایسوسی ایشنز، تنظیمیں، گروپس، گروہ کے بڑے بڑے عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس کانفرنس میں شریک ھوا اور پاکستان بھر کے مختلف تجارتی امور اور شعبہ جات کی گزارشات مسائل اور حکومت سے مطالبات کی آگاہی سے مسفید ھوا۔ یہاں میں اپنے کالم کو آج ادویات ساز کمپنی اور ادویات سے تعلق رکھنے والوں کے مسائل و دیگر مطالبات و مشاورت سے اپنے معزز قارئین کے علم میں لاؤنگا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ پکار ہے پاکستان کی، اسکے بے بس عوام کی، اسکی ابتر معاشی صورتحال کی۔ یہ پکار ہے اس صنعت کی جسے حکامِ بالا نظر انداز کرتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان کی دواساز کمپنیاں، دنیا بھر کی طرح، جدید تحقیق اور تکنیک کے ذریعے لاعلاج اور جان لیوا بیماریوں کا مقابلہ کرنے والی ادویات تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان کے نظام صحت میں امید کی کرن ہیں، مگر سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کے غیر منصفانہ ڈرگ ایکٹ کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس قانون میں کوئی تجدید نہ ہو سکی، اور اس کی غیر منصفانہ شقیں آج بھی صنعت پر بھاری بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ دنیا میں سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کے ڈرگ ایکٹ جیسا قانون کہیں اور نہیں ملتا، جبکہ پاکستان میں اسکا بلاجواز استعمال معمولی مینیوفیکچرنگ نقائص کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ محکمہ صحت کے افسران دوا کی تیاری، پیکنگ، یا مقدار میں معمولی کمی بیشی، جیسے سو ایم ایل کی سیرپ کی بوتل میں نوے ایم ایل ہونے پر اُسے جنرل مینیوفیکچرنگ نقص قرار دینے کے بجائے غیر معیاری دوائی کہہ کر دواساز کمپنی کیخلاف کرمنل کیس بنا دیتے ہیں۔ نتیجتاً، معزز دواساز کمپنی کے عہدیداروں کو ایسے مجرموں کیساتھ عدالت میں لا کھڑا کیا جاتا ہے جو چرس، ہیروئن، اور شراب جیسے گھناؤنے جرائم کے عادی یا جعلی ادویات کی فروخت جیسے کالے دھندے میں ملوث ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ سمیت دنیا بھر میں دواساز کمپنیوں کے کیسز ماہرین پر مشتمل میڈیکل یا کوالٹی کنٹرول بورڈ سنتے ہیں، جو ادویات کے اجزاء کا گہرا علم رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ دوا کی تیاری میں تبدیلیوں کی بڑی وجہ ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی کیوجہ سے اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز میں ذخیرہ شدہ ادویات پر درجہ حرارت کی تبدیلی کا منفی اثر پڑتا ہے۔ ان تمام مشکلات کو دیکھتے ہوئے، دواساز کمپنیاں ادویات کے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے ماہرین کی ٹیمیں تعینات کرتی ہیں، جو وقتاً فوقتاً دواؤں کی جانچ کرتی ہیں اور کسی بھی شکایت پر فوری طور پر دوائیں واپس لے لی جاتی ہیں۔ امریکہ میں سنہ انیس دو ہزار تیئس عیسوی میں چار ہزار سے زائد ادویات کو مینیوفیکچرنگ نقائص کی بنیاد پر واپس منگوایا گیا، جبکہ برطانیہ اور کینیڈا میں یہ تعداد بالترتیب تین سو تھی، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد صرف پچاس کے قریب تھی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی دواساز کمپنیاں عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ اسکے باوجود، حکومتی اور صوبائی سطح پر مینیوفیکچرنگ نقائص کو سنگین جرم قرار دیکر دواساز کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سالہا سال عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسکے نتیجے میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ادویات کی ترسیل میں خلل آتا ہے۔ اسی غیر منصفانہ ڈرگ ایکٹ کے قوانین کی وجہ سے کئی غیر ملکی دواساز کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی ہیں، اور مقامی کمپنیاں بھی کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر مقامی دواساز صنعت بند ہوگئی تو ملک میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہوگی، عوام کی صحت کو خطرات لاحق ہونگے، اسپتالوں میں علاج مشکل ہو جائیگا، صحت کے شعبے کو نقصان پہنچے گا، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، اور پاکستان کی معیشت مزید کمزور ہو جائے گی۔ سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہماری سالانہ ایکسپورٹ تقریباً تین سو پچاس ملین ڈالرز تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، جبکہ پڑوسی ملک کی ایکسپورٹ اٹھائیس ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔ حکومت پاکستان صرف ایک ارب ڈالر کے قرض کیلئے آئی ایم ایف کی ہر شرط مان کر عوام پر بوجھ ڈال دیتی ہے، جبکہ مقامی دواساز کمپنیاں پاکستانی معیشت میں چار ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالیں گی۔ دوسری جانب، حکامِ بالا جو سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کے غیر منصفانہ ڈرگ ایکٹ کی لگام تھامے بیٹھے ہیں، شائد یہ نہیں جانتے کہ مہنگائی کے اس دور میں جہاں ہر چیز کے نرخ آسمان کو چھورہی ہیں، مقامی دواساز کمپنیوں کی بدولت پاکستانیوں کو دنیا کی سستی ترین ادوایات میسر ہیں۔ دواساز کمپنیاں، ادوایات کی صنعت سے وابستہ ادارے، ٹریڈ باڈیز، چیمبرز، اور میڈیکل کمیونٹی کا مطالبہ ھے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کی جائے اور غیر معیاری، جعلی، اور چوری شدہ ادویات بنانے والوں کیخلاف سخت سے سخت تریند قانونی کارروائی کیجائے۔ موجودہ حکومت کی صحت کے شعبے اور دواساز صنعت کو فروغ دینے کی کوششوں کے پیش نظر، ادویات ساز کمپنیاں اور دیگر ادویات سے تعلق رکھنے والے حکومت سے درخواست کررہے ہیں کہ پالیسی بورڈ کو پابند کیا جائے کہ وہ انکی سفارشات پر فوری عمل درآمد کرے، تاکہ دواساز صنعت میں نئی جان ڈالی جاسکے۔ یہ اقدام عوام کی صحت اور ملک کی معیشت کیلئے ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!
*”ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے فوائد:”*
صنعت کی ترقی: پاکستان میں مقامی دواساز صنعت پروان چڑھے گی اور غیر ملکی دواساز کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری لائیں گی، جس سے صحت کے نظام میں بہتری آئیگی اور روزگار کینئے مواقع پیدا ہوں گے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!
*”اعتماد کی بحالی:”*
مقامی دواساز صنعت کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اعتماد بحال ہوگا، جس سے سالانہ ایکسپورٹ تین سو ملین سے بڑھ کر چند سالوں میں متوقع طور پر ساڑھے تین ارب ڈالر تک پہنچے گی۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! *”جدید ٹیکنالوجی:”*
دواساز کمپنیاں صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائیں گی، جس سے ادویات کی تیاری مزید بہتر ہوگی۔۔۔۔۔معزز قارئین!!
*”قیمتوں میں کمی:”*
مقامی پیداوار میں اضافے سے ادویات کی قیمتیں کم ہوں گی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!
*”بہتر طبی سہولیات:”*
غیر ملکی اور مقامی کمپنیاں طبی سہولیات میں بہتری لا کر عوام کی جانیں بچا سکیں گی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!
*”مستحکم معیشت:”*
موثر حکومتی پالیسی سازی سے دواساز صنعت کو فروغ ملے گا، جس سے معیشت مستحکم ہوگی۔ پاکستان کو صحت مند اور خوشحال بنانے کیلئے اڑتالیس سال پرانے سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ اسکے بغیر صحت کے شعبے اور پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن نہیں۔
