ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:کراچی کے صحافی نے پیپلز پارٹی کی روح تازہ کردی ۔۔۔!!
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سمیت لوکل گورنمنٹ کراچی کے اداروں میں چھاچکی ھے اور آصف علی زرداری و بلاول بھٹو سمیت تمام پی پی پی کے وزرا و مشیران نے وفاقی حکومت کو چیلنج دیتے ھوئے بتایا ھے کہ وہ ان دو سالوں میں بگڑتی کراچی کی صورت حال کو نہ صرف درست کریں گے بلکہ نئے جدید خطوط پر استوار کرتے ھوئے کراچی کے باسیوں کے دل جیت لیں گے۔ اس ضمن میں کراچی میں بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی تعینات کیا گیا ھے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ایک سلجے سنجیدہ شخصیت کے مالک ھیں ان سے اچھے اور بہتر توقعات رکھی جاسکتی ہیں اسی طرح جس طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اپنے صوبے سے مخلصی دیانتداری اور نت نئے امور پر متحرک نظر آتے ہیں۔ بلاول بھٹو کی خواہش پر وزیراعلیٰ سندھ کا یہ عزم ھے کہ کراچی کے تمام رہائشی علاقوں میں بنیادی ضروریات بجلی گیس پانی اور سڑکیں عوامی ٹیکس کے بدل بہتر انداز میں دی جائیں یہاں واضع کرتا چلوں کہ کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے تمام نہیں ابھی صرف ایک ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کچھ گزارشات و مشورے دیئے ہیں ان میں سب سے بڑھ کر واٹربورڈ کے متعلق تحریر ھیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ ھوں یا کراچی کے ایڈمنسٹریٹر لاکھ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرلیں مگر وہ کامیاب اس وقت تک نہیں ھوسکتے جب تک کہ محکمے بدنیت خیانت لاپرواہی اور سستی کا خاتمہ یقینی بنائیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انکی رہائش ناگن چورنگی تا انڈہ موڑ کے مابین شادمان ٹاؤن نمبر 2 نارتھ ناظم آباد میں ھے مگر پانی کی سپلائی نارتھ کراچی سے دی جارہی ھے جبکہ نارتھ ناظم آباد سخی حسن پمپنگ اسٹیشن سے دی جانی چاہئے۔ یہ چالیس سال سے مسلہ درپیش آرھا ھے بس یوں سمجھئے رشوت کا لامتناہی راستہ جبکہ یہاں پانی کی سپلائی ڈیڑھ دو ماہ میں نصیب ھوتی ھے وہ بھی ایک آدھ گھنٹوں کے دورانیئے پر مشتمل اس دورانیئے میں فلیٹیز پانی سے محروم رہ جاتے ھیں۔ دوسرا یہ کہ ناگن پمپنگ اسٹیشن, سخی حسن پمپنگ اسٹیشن, کے ڈی اے پمپنگ اسٹیشن گوکہ شائد ہی کوئی پمپنگ اسٹیشن ھوگا جس کی سپلائی لائن بریک نہ ھوں۔ مانا کہ اسے کچھ شرپسند توڑتے ھوں ناجائز پانی کے حصول کیلئے تو کیا اس کی مرمت اور ایسے شرپسندوں کے خلاف قانونی چارہ گوئی نہیں کی جاسکتی آخر ان کی خاموشی کیوں۔ واٹر بورڈ کی غفلت سستی کے باعث جہاں لاکھوں نایاب پانی ضائع ھوتا وہیں سڑکیں بھی پانی کے سبب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھوجاتی ہیں یہی نہیں بلکہ سیوریج کا پانی بھی شامل ھوجاتا ھے اس زہریلی پانی سے بیشمار بیماریاں لاحق ھوجاتی ہیں۔ سینئر صحافی و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ سب سے پہلے کراچی بھر میں پانی کی لائنوں کو درست کیا جائے اور پھر رہائشی علاقوں میں ہفتہ میں دو بار لازم شیڈول کے مطابق پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے تیسرا یہ کہ پانی کی برآمد کیلئے میٹر نصب کیئے جائیں تاکہ گیس اور بجلی کی طرح باقائدہ استعمال کنندہ بل لازم ادا کرسکیں اس سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ھوگی جو باقائدگی سے یوٹیلٹی بل ادا کرتے ہیں اور وہ شہری جو ٹیکس پیئر اور فائلر ہیں انہیں بہتر سہولیات کیساتھ ساتھ رعایتی پکیج سے بھی نوازا جائے۔ سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ کے فور کس نے دیکھا کراچی کے شہری وقتِ حال کو دیکھ رہے ہیں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا وژن بھی یہی ھے کہ کراچی کے شہریوں کو کربلا اور کوفے کے ظلم میں نہ دیا جائے انہیں یذیدیت کے نظام سے چھٹکارہ دلایا جائے اور انہیں حسینیت کے سبیل سے نہال کردیا جائے کیونکہ سندھ شاہ کی دھرتی ھے سندھ قلندر کی دھرتی ھے سندھ صوفیوں ولیوں اور لطیف کی دھرتی ھے۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
عنوان:کراچی کے صحافی نے پیپلز پارٹی کی روح تازہ کردی
