ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:چیف جسٹس گلزار احمد متحرک لیکن نتیجہ بےسود۔۔۔!!
پاکستانی سر زمین میں مٹی کے ذروں سے لیکر آسمانی فضاؤں تک کرپشن لوٹ مار لاقانونیت اور بےانصافی کے گہرے بادل چھائے ھوئے ہیں۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ بھی ھو کہ اب آٹے میں نمک کے برابر ایماندار سچے مخلص اور محب الوطن بیوروکریٹس عدلیہ انتظامیہ گو کہ شعبہ ہائے زندگی میں موجود ہیں جو ثابت قدمی پر رہتے ہوئے ان سخت اور اذیت ترین ماحول میں رہتے ہوئے مافیائی طاقتوں کا مقابلہ اپنے الله کی مدد اور ایمانی دینی طاقت سے کررھے ہیں۔جسطرح ایماندار صحافی اپنے منصب ذمہ داری کو خوش اسلوبی اور انتہائی ایمانداری کیساتھ پیش کرتا ھے اور ہم ہی میں چند ایک ایسے صحافی بھی ہوتے ہیں جو مافیا کا حصہ بنکر دولت شہرت اور عہدے بھی سمیٹ لیتے ہیں بس مافیا کا حصہ بن جائیں اور اپنے ضمیر کوفروخت کردیں اگر یہ کہا جائےکہ عوام بھی کرپٹ مافیا کیساتھ معاونین کا کردار ادا کرتےرہے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کرپٹ مافیا کا ٹولہ سیاست نوکر شاہی اشرفیہ صنعت و تجارت عدلیہ حتیٰ کی مذہبی میں بھی اپنی کاروائیوں سے باز نہیں رہتا۔ اس مافیا نے نظام کو مکمل دبوچ لیا ھے۔۔ معزز قارئین!! گزشتہ روز چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران کراچی انتظامیہ اور شہر کے اداروں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کراچی شہر میں سپریم کورٹ میں تجاویزات ودیگر کیس سننے کیلئے جب تشریف لائے تو کراچی کو مزید اجڑا بکھرا اور برباد ہوتا ھوا دیکھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شہرِکراچی میں کیا ہورہا ہے، یہ کسی کو فکر نہیں، وقت آگیا ہے کہ شہری انتظامیہ اپنی آنکھیں کھولے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی کو مختیارکاروں پر بانٹ دیا گیا ہے کراچی تو ملک کا دارالحکومت رہا ہے کیا ہورہا ہے کراچی کیساتھ؟ کیونکہ پی ای سی ایچ ایس اور سندھی مسلم میں بھی مختارکار آپریٹ کررہے ہیں چیف جسٹس نے کہا ہر جگہ مختارکار ہیں تو گئی ساری زمین، کسی کو پرواہ نہیں شہر کی، کیا ہورہا ہے کوئی فکرمند نہیں، مختیارکارکون ہوتا ہے؟ یہ حکومتِ پاکستان کی لیز کردہ زمینیں ہیں وقت آگیا ہے آنکھیں کھولیں، یہ سب جعلی دستاویزات ہیں، ایس بی سی اے کی منظوری بھی جعلی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے استفسار کیا کہ ایس بی سی اے والے کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ فیروزآباد کامختیارکار کون ہے؟ اس طرح کے کتنے کاغذ نکالے ہیں اس نے؟ آپ اس شہر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کمشنر کراچی کی سرزنش کرتے ہوئےسپریم کورٹ نے کہا کہ آپکو کراچی کی تاریخ بھی نہیں معلوم، کیا تھا کراچی؟ وزیراعلیٰ سندھ کو بلائیں!! وہ بتائیں کہ فیروزآباد میں مختیارکار کیا کررہا ہے؟ دریں اثناء کراچی کی عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات کے دوران ہنگامی اخراج و ہیلپ لائن کی آئینی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے عدالتی حکم پر عملدر آمد رپورٹ طلب کرلی ھے۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت گیارہ مئی تک ملتوی کردی۔ عدالت نے عمارتوں کا نقشہ منظور کرنے سے پہلے فائر فائٹر سے مشاورت کی ہدایت جاری کردی ھے۔ درخواست گزار کے وکیل ندیم شیخ نے کہا عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات کے دوران ہنگامی اخراج کا راستہ نہیں ہوتا ھے۔ عدالت نے ایس بی سی اے کو پابند کیا کہ نقشہ منظور کرنے سے قبل سول ڈیفنس اور فائر فائٹرز سے مشاورت کی جائے یادرہیکہ اِس سے قبل سپریم کورٹ نے کراچی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو فارغ کرنے کی ہدایت کردی ھے۔ عدالت نے کہا کہ شارعِ فیصل نالے پر قائم ناسلہ ٹاور کو فوری منہدم کیا جائے۔معززقارئین!! جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس گلزار احمد نےحسب عادت احکامات تو جاری کردیئے مگر افسوس ان پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہی دیگا کیونکہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے آپ کو قانون سے مبرا سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مافیا سر پر چڑھ کر دوڑتی ھے یہ موقف بھی ہماری عوام کے ایک بڑے حلقے کا ھے مزید عوامی حلقوں کا کہنا ھے کہ چند ماہ قبل جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس گلزار احمد نے سابق وزیر ریلوے شیخ رشید کو کراچی سرکولر ریلوے کی بحالی کیلئے مہلت دی لیکن اس مہلت سے قبل ہی دبے پاؤں شیخ رشید دوسری وزارت میں چلے گئے تاکہ جواب سے بچ سکیں۔ اسی طرح چند ماہ قبل سابق میئر کراچی وسیم اختر کے ذمہ کام مکمل کرنے کی مہلت دی تو سابق میئر کراچی نے اس قدر سستی کا مظاہرہ کیا کہ انکے میئر شپ کا دورانیہ ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔۔ معززقارئین!! موجودہ نظام متحمل ہی نہیں کہ اس میں پاکستانی عوام کو ترقی خوشحالی امن و سکون بہم پہنچا جائے بحیثیت تاریخ کے مورخ اور کالمکار میں بہت اطمینان سوچ و افکار تحقیق و مشاہدوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ موجودہ نظام مکمل ناکام ھے اور اس ملک کی ترقی اور معاشی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے کیونکہ اس نظام کو کرپٹ مافیا نے اس قدر اپنے کنٹرول اور شکنجے میں لے رکھا ھے بناء مافیا کی رضامندی کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلے نظام کا ہی خاتمہ پاکستان کی سلامتی و بقاء کیلئے ناگزیر ھوچکا ھے۔ جب تک یہ نظام رہیگا نہ عدالتیں انصاف فراہم کرسکیں گی اور نہ ہی امن و سکون راحت نصیب ہوسکے گی اور حقیقت تو یہ ھے کہ یہ کرپٹ نظام ہماری سیکیورٹی کیلئے خطرے سے کم نہیں۔ قبل از پاکستان ھم غلام تھے انگلستان کے اور آج بھی ھم غلام ہیں کرپٹ نظام کے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
