BBC Urdu TV

عنوان:پرائیویٹ اسکول ٹیچر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:پرائیویٹ اسکول ٹیچر ۔۔۔!!

زمانہ قدیم میں غلام بناکر جس قدر ذہنی جسمانی اذیتیں دی جاتی تھیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں وہ انسانیت پر بدنما داغ ہیں جو تاقیامت نہیں مٹ سکتا ھے ان اذیتیوں میں واضع کرتا چلوں کہ انہیں اجرت خوراک اور بنیادی ضروریات زندگی سے بھی کم تر یا یوں سمجھ لیجئے محروم رکھا جاتا تھا کیا آپ نے اپنے عزیز پاکستان پر غور کیا ھے کہ یہاں کے ناقص فرسوہ بے بیہودہ ظالمانہ جابرانہ انسانیت سوز نظام کے سبب ھمارے نجی ادارے وہی زمانہ قدیم کے جاہلانہ قاتلانہ عمل پر کاربند ہیں ریاست اور ریاستی انکے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے مغلوب ھے کیا ھم ایسے نظام ریاست پر لعنت بھیج سکتے ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال سمیت دیگر تحریک پاکستان نے سوچا تھا بالکل برعکس انگریزوں کے تابع آج ھمارا نظام ریاست ھے۔۔۔۔معزز قارئین!! آج میں نے نجی تعلیمی اداروں کی ظالمانہ جابرانہ آزادانہ ظلم و ستم پر قلم اٹھایا ہے ممکن ہے نجی اسکول کالج و یونیورسٹیوں کے مالکان کو گراں گزرے لیکن شائد میری تحریروں کو آپ قارئین سمجھ سکیں۔ معزز قارئین!! سرکاری اساتذہ کیلئے خصوصی پوسٹ، وہ اساتذہ جو بھاری بھر کم تنخواہیں لے کر بھی ناخوش ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول ٹیچرز کی معمولی تنخواہ اور ان سے لینے والے کام ملاحظہ کریں۔اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں، آپکو چند پرائیوٹ اسکولز کے علاوہ زیادہ تر میں یہی ماحول نظر آئے گا۔ سب سے مشکل ملازمت ایک پرائیویٹ ٹیچر کی ہے، مجھے بات کرنی ہے ایک پرائیویٹ ٹیچر کی زندگی کی۔ پرائیویٹ اساتذہ کی نوکری کے اوقات کار۔اسمبلی کے وقت سے ہی پرائیویٹ ٹیچر کی جسمانی اور ذہنی بربادی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ خود وقت سے پندرہ منٹ پہلے پہنچو تاکہ قوم کے معماروں کا استقبال کرنے کیلئے پہلے سے موجود ہو ۔ایک منٹ تاخیر ہوئی تو حاضری رجسٹر پر دائرہ لگ جائے گا اور ایسے تین دائروں کا مطلب ایک مکمل غیر حاضری۔ مطلب ایک دن کی پوری تنخواہ کاٹ لینے کا صیہونی جواز۔
طلباء کو صبح سویرے کلاسوں سے باہر نکالو پھر لائن میں انکے ساتھ کلاسوں میں جاؤ۔ بریک ٹائم میں بھی سائے یعنی چوکیدار کی طرح ساتھ رہو۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ چوکیدار ہی تو ہو تم۔ چھٹی کے وقت بھی کلاسوں سے انخلاء سے لے کر گیٹ سے باہر جانے تک ذمہداری ایک پرائیویٹ ٹیچر کی ہے۔ یہ سب بھی تو وہ ہے جو پڑھانے یعنی جس کی تنخواہ دی جاتی ہے کےعلاوہ ہے۔ گویا بلامعاوضہ ہے۔پرائیویٹ استاد کی مظلومیت کی اصل داستان تو کلاس روم میں شروع ہوتی ہے۔ ایک طویل عرصہ معلمی کے دوران میں تو ایسے بچے یعنی طلبہ ڈھونڈتا ہی رہا۔ جو فرشتے ہوتے ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں۔
گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ شائد ہی کوئی ایسا تھا۔ وگرنہ ان انگریزی میڈیم اسکولوں میں تو پائے جانے والے بچے ماشاءاللہ اپنی ذہنی استعداد، صلاحیتوں اور “ہنر“ میں اساتذہ سے کئی ہاتھ آگے تھے۔ فیشن کی باتیں ہوں یا فلموں اور ڈراموں کے مشہور کرداروں کے قصے۔ عریاں ویڈیوز کے مناظر ہوں یا فحش اداکاراؤں پر تبصرے۔ خدا کی قسم! ان “فرشتوں” کی معلومات، جس مزاح اور چھیڑ چھاڑ کو کبھی کوئی استاد نہ پہنچ سکا۔ معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اوراعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نونہال اساتذہ کے لب و لہجے، ملبوسات، شکل و صورت چال ڈھال کی نقالی اور تضحیک میں بڑے ہی تاک تھے۔ بڑ ے گھروں سے تعلق ہونے کا تکبر، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر بات کا جواب دینا، اپنے والدین کے بڑے عہدوں اور اسکول انتظامیہ سے تعلقات کا رعب جمانا، اپنے ہم عصروں میں چالاک اور پر اعتماد مشہور ہونے کیلئے کلاس میں بد نظمی کو منظم انداز میں فروغ دینا، گروپوں کی صورت میں کلاس روم کا ماحول تہس نہس کرنے کی تگ و دو کرنا اور دوسروں کو اس کیلئے متحرک رہنے کی ترغیب دینا، آوازیں نکالنا، فحش گوئی کرکے دوسروں کو محظوظ کرنا، دھڑلے سے موبائل فون لے کر آنا، جھٹ سے اپنے نا پسندیدہ استاد کے خلاف سبق یا زبان سمجھ نہ آنے کی جھوٹ موٹ درخواست لکھ دینا، ماں باپ کو بلا کر لانے کی دھمکیاں دینا اور پھر اپنی ہی کسی بدسلوکی پر استاد کے رد عمل کی شکایت کردینا، استاد کو اسکول سے نکلوا دینا اور پھر ہم جماعتوں کے ہاتھوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہنا کہ “دیکھا ؟ بڑا ٹیچر بنا پھرتا تھا، کیسے چھٹی کروائی ماما پاپا سے کہہ کر”۔ مجھے سمجھائے کون سے فرشتے، کیسی معصومیت ؟۔ اس پر مستزاد یہ کہ اساتذہ کی نگرانی پر مامور انتظامیہ جس میں کوارڈینیٹر، وائس پرنسپل یا پرنسل نے استاد کی کلاس میں آمد اور روانگی، پڑھانے کے طریقے یا گزارے گئے وقت کی نگرانی بھی دو تین طلباء ہی کو سونپ رکھی ہوتی ہے جو حقائق سے قطع نظر کچھ بھی کھلواڑ کرتے رہیں ایک معلم کے ساتھ۔ میرے پاس انتطامیہ یعنی کوآرڈینیٹر، وائس پرنسپل یا پرنسل کے بارے میں بتانے کیلئے بھی بہت کچھ ہے۔ ان لوگوں کی کئی مثالیں ہیں۔ پاکستان میں انکی ایک مثال ان کووں والی بھی ہے۔ جو ہنس کی چال چل رہے ہوتے ہیں۔ اور ان عربوں والی بھی ہے جو بظاہر بولنے اور دکھنے میں بڑے نرم مزاج اورنفیس لیکن اپنے برتاؤ میں اتنے ہی جابر، سفاک اور ہلاکو خان ہیں۔ ان کی مثال کیلئے میں “لنڈے کے انگریز” بھی استعمال کرنا چاہوں گا۔ جو اپنا ظاہر، لباس، زبان اور اسٹائل تو انگریزوں والا رکھتے ہیں لیکن اندر سے وہی پنجاب کے پولیس والے، یا چودھری، سندھ کے وڈیرے یا جاگیردار یا قبائلی سردار۔ ان کا سروکار صرف اپنی نوکری، اپنی کرسی کے بچاؤ، اور ادارے کیلئے پیسے تک ہے۔ جو ظاہر ہے آئے گا تو نوکری بھی لگی رہے گی اور تنخواہ بھی ملتی رہے گی۔ ان کی نگاہوں اور زبانوں کی سارا مٹھاس طلباءاور ان کے والدین کیلئے ہے اور ان کا ہر ہتھکنڈہ اور ہتھیار اساتذہ کے خلاف ہے۔ ان کا تکیہ کلام شائد یہی ہے کہ طلباء پیسے دیتے ہیں اور اساتذہ پیسے لیتے ہیں۔ تو ہمیں فائدہ پیسے دینے والوں سے ہے نہ کہ لینے والوں سے۔ یہ میں مبالغہ آرائی نہیں کررہا اس کی مثال بھی حاضر ہے۔ان کی ہر نوید اور مسکراہٹ طالب علموں کیلئے ہوتی ہے اور ہر بری خبر اور تیور اساتذہ کیلئے۔ یہ طلباء کے سب برے رویوں، ان کی اوچھی حرکات و سکنات، ان کی ایک ایک غیر اخلاقی عادت سے باخبر رہ کر بھی انجان بنے رہتے ہیں جبکہ اساتذہ کی سب اچھائیاں، ساری محنت، ان کا سارا کمال ان کیلئے بے معنی ہے۔ان تک شکایت لے کر آنے والا کوئی استاد ہو تو انکا جواب ہوتا ہے کہ اسی لئے آپ کو رکھا گیا ہے۔ یہی سب کچھ تو کرنا ہے آپ کو۔ بس ہاتھ اور زبان دونوں کے استعمال سے اجتناب کریں یعنی غیر مسلح ہو کر ہر بدسلوکی، بد نظمی اور بدتمیزی سہتے آئیں اور اگر شکایت کسی طالب علم سے آئے تو وارننگ لیٹر ٹرمینیشن لیٹر وضاحتی لیٹر اور پتہ نہیں کون کون سا میزائل اساتذہ پر گرانے کیلئے ان کے پاس ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔ ان کی حتیٰ الامکان کوشش ہوتی ہے کہ والدین یا ڈائریکٹر لیول تک کوئی بھی بات جس سے ہماری نوکری کو خطرہ ہو پہنچنے ہی نہ پائے اس سے پہلے ٹیچر بھلے اس طرح بدل لو جیسے کچن میں ایک کپ ٹوٹا اور اس کی جگہ دوسرا رکھ دیا۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اساتذہ کو نکال کر یہ اپنا سسٹم کیسے چلاتے ہیں تو یہ بھی جان رکھئے کہ ان کی دراز میں ملازمت کے خواہشمند پڑھے لکھے نوجوانوں کی سی ویز کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور اکثر متبادل ٹیچر کا بندوبست پہلے والے کو برخاستگی کا لیٹر تھمانے سے بھی پہلے ہوجاتا ہے۔خود غرضی اور منافقت کا ان سے بڑا کوئی مظہر نہیں ہوسکتا۔ تعلیم کو اپنے بلند ترین معیار تک لے جانے کیلئے حیوانوں کی طرح استاد کو کام کے بوجھ تلے لاد دو تاکہ اس کی کمر کا کڑاکا ہی کیوں نہ نکل جائے، ان کی مشن اسٹیٹمنٹ ہے۔گھر میں شام کو گھنٹوں بیٹھ کر پورے ہفتے اور پھر یومیہ اسباق کی تیاری ،اسباق کی سرگرمیوں کی تیاری ، ذرائع کا انتظام ایک پرائیویٹ ٹیچر کے اس وقت پر بھی ڈاکہ ڈال رہا ہے جو اس کے اہل خانہ کیلئے تھا۔ شادی غمی میں شرکت، دوستوں کے ساتھ گھومنے، خریداری کیلئے تھا۔ کوئی اور نوکری اس کا تقاضا نہیں کرتی۔ یہ کم بختی ایک پرائیویٹ ٹیچر ہی کا مقدر ہے۔ ایک پرائیویٹ ٹیچر کیلئے چھٹی کا دن عید کی طرح ہوتا ہے قاور چھٹی کی شام قصاب کی دوکان پر ذبح ہونے کیلئے تیار کھڑے ایک بچھڑے کی طرح ہوتی ہے۔ معزز قارئین!! اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد نجی اسکول کا محاسبہ احتساب اور درست سمت کو دیکھنا اور اس پر سختی سے چلانا اب ہر صوبے کی ذمہداری بن چکی ھے مگر اٹھارہ ویں ترمیم کی ہی اسی لیئے تھی کہ خوب لوٹ مار بدمعاشی ظلم و بربریت اور ریاست پر طمانچہ مارا جائے کیونکہ اس سیاہ غلیث قانون کو تحریک پاکستان بھی ختم نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ نام نہاد مدینہ ثانی کہنے والے خود خبیث اول ثابت ہورہے ہیں انکی کمزوری ثابت کررہی ہے کہ یہ نہ وطن سے مخلص ہیں نہ ریاست سے تمام کے تمام سیاسی جماعتیں سب ایک حمام میں ننگی ہیں ان سب پر کڑوروں لعنت ھو کیونکہ یہ ملک دشمن اور عوام دشمن ہیں اس قوم اور وطن کو اس نظام سے جان چھڑاؤ وگرنہ ملک کی سلامتی خطرے میں رہیگی لٹیرے ہمیشہ لٹیرے ہی رہتے ہیں کتے کی دم سو سال بھی لوہے کی نالی سے نکالو ٹیڑھی کی ٹیڑھی رہتی ھے۔
سب سے زیادہ وہ تعلیمی وزراء و مشیر اور سیکرٹری خبیث لعنتی بے غیرت ہیں جو نجی اسکولوں کے مالکان کو کھلی چھٹی دیئے ھوئے ہیں کیا کبھی ڈائریکٹر اسکولز کالجز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ٹیم کمیٹیوں نے اس بابت اقدامات اٹھائے کیا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیئے یقیناً سب کا جواب نفی میں آئیگا سپریم کورٹ دو کوڑی کی ہوکر رہ گئی ھے ان کے احکامات کو سندھ حکومت تمسخر میں اڑا دیتی ھے یہی وجہ ھے کہ دو سال سے زائد عرصہ بیت گیا ھے گروپ انشورنس ریٹائرمنٹ کے بعد سے نہیں دیا جارھا ھے بلاول اور وزیراعلیٰ کا کہنا ھے کہ سندھ میں صرف ہمارا حکم چلے گا دو کان ہیں ایک سے سنیں گے دوسرے سے نکال دینگے اب عدالت عظمیٰ نے بھی چپ سادھ لی ھے کیونکہ سندھ کے والی انہیں جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں سندھ حکومت کے مطابق اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد فوج بھی زرا برابر مداخلت نہیں کرسکتی گویا اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد سندھ پی پی پی حکومت کے قبضے میں ھے وہ جو چاہیں کریں اور ابتک یہی دیکھنے میں آرہا ھے۔الله اس ملک و قوم کا حامی و ناظر رہے آمین ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version