BBC Urdu TV

عنوان:نوکری سے ہی مرتبہ پایا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:نوکری سے ہی مرتبہ پایا ۔۔۔۔!!

دنیا میں نوکری اور غلامی انسان کو پست ہی رکھتی ہے اور ہر دم یہی خواہش رہتی ہے کہ ہم بھی کسی ملکیت کے مالک بنیں یا حاکم ہوں لیکن اسی دنیا میں ایک ایسی نوکری اور غلامی ہے جس کو پانے کیلئے جان کو قربان کرنے کیلئے بے چین رہتے ہیں وہ ایسی غلامی اور نوکری ہے جو نہ دولت سے خریدی جاسکتی اور نہ ہی اختیار و طاقت سے اس غلامی اور نوکری کیلئے ایک مسلمان پوری زندگی یہی خواہش رکھتا ہے کہ رب العزت رب الکائنات اگر راضی ہو بندہ خدا سے تو اسے غلامی و نوکری اپنے محبوب کی عطا کردے ۔۔۔۔۔ معزز قارئین !! آج کا کالم عصر حاضر میں مادیت پرستی کی انتہا اور دجالی فتنہ گری کے سبب لکھ رہا ہوں امید ہے اس عظیم المرتبت شخصیت کے اعلیٰ ترین غلامی اور نوکری سے کچھ سیکھ سکیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے رب العزت اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا غلام نوکروں کا نوکر بننے کا شرف عطا فرمادے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیا اور آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔ عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کردیں تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اس کو اپنے گھر لے گئے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے چٹائی پر بٹھالیا اور کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کرلیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں تو وہ شخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں؟؟؟ میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا تو فرمانے لگے تُو عثمان غنیؓ کے پاس جا۔ وہ شخص کہنے لگا مجھے تو بہت سارے رقم چاہئے تو آپ نے فرمایا تیری سوچ جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے عثمانِ غنیؓ کی سخاوت شروع ہوتی ھے تُو جا انکے پاس۔وہ شخص کہنے لگا آپکا نام لوں کہ مجھے امیرالمومنین نے بھیجا ہے تو فرمایا۔ اسکی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔ صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہوں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام اور نوکر ہوں۔ وہ شخض کہنے لگا کہ وہ دلیل،حوالہ مانگیں گے فرمایا عثمانؓ سخاوت کرتے وقت دلیل یا حوالے نہیں مانگتے۔ عثمانؓ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیش نہیں کرتا اور سخاوت کرتے وقت ٹٹولنا عثمانؓ کی عادت نہیں۔ وہ شخص کہتا ہے کہ میں چلا گیا پوچھتا پوچھتا دروازے پر دستخط دی۔حضرت عثمان غنیؓ کے اندر سے بولنے کی آواز آرہی تھی "اپنے بچوں کو ڈانٹ رہےتھے کہ یار تم لوگ دودھ کے اندر شہد ملاکر پیتے ہو۔ خرچا تھوڑا کم کرو اتنا خرچا بڑھا دیا ہے دودھ میٹھا شہد بھی مٹھا ایک چیز استعمال کرلو تم کوئی بیمار تھوڑی ہو” شخص کہتا ہے میں نے کہا حضرت ابوبکرؓ تو بڑی باتیں بتارہے تھے یہاں تو دودھ اور شہد پر لڑائی ہورہی ہے اور مجھے تو کئی ہزار دینار چاہئیں کیا یہ دینگے۔ شخص کہتا ہےکہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ وہ باہر آئے اور میں نے کہا اسلام علیکم!! انہوں نے سلام کا جواب دیا اور وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں اور مخاطب ہوکر کہنے لگے معاف کرنا بچوں کو ذرا ایک بات سمجھانی تھی آنے میں ذرا دیر ہوگئی۔انکا پہلا جملہ انکے بڑے پن کا مظاہرہ کررہا تھا پھر دروازہ کھولا اور مجھے انہوں نے گھر بٹھایا اور میرے لئے جو پہلی چیز پیش کی گئی وہ دودھ میں شہد ڈال کردیا گیا اور پھر کھجور کا حلوہ پیش کیا۔
شخص کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا عجیب شخص ہے گھر والوں کیساتھ جھگڑا کررہے تھے ایک چیز استعمال کیا کرو میرے لیئے تین تین چیزیں آگئی ہیں لیکن ابھی میرا تصور جما نہیں تھا میں نے دل میں خیال کیا اتنا تگڑا نہیں جتنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ کھلانے پلانے کے بعد پوچھنے لگے کیسے آئے ہو۔ میں نے کہا کہ” میں مسلمان ہوں اور ملکِ شام کے گاؤں کا رہنے والا ہوں اور کچھ کاروباری مشکلات آئی تو مقروض ہوگیا ہوں اور میرے اوپر قرضہ ہے اور مجھے کچھ رقم کی حاجت ہے” کہنے لگا تو میں نے کچھ رقم کہا تو انہوں نے ایک آواز دی تو ایک غلام اونٹ پر سامان لدا ہوا لیکر حاضر ہوا۔ شخص کہتا ہے کہ مجھے تین ہزار اشرفیاں چاہئیے تھیں۔ ابھی میں نے بتایا نہیں تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ "اس اونٹ پر تیرے لیئے تیرے گھر والوں کیلئے میں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور چھ ہزار اشرفیاں رکھوا دی ہیں اور تو پیدل آیا تھا اب اونٹ لے کر جانا” شخص کہنے لگا میں نے فوراً سے کہا حضور یہ اونٹ انہیں واپس کرنے کون آئے گا۔ حضرت عثمانؓ فرمانے لگے واپس کرنے کیلئے دیا ہی نہیں یہ تحفہ ہے تو لے جا۔
شخص کہتا ہے کہ میں کہاں سے چلا تھا ڈھونڈتا ہوا اور پھر مدینے میں آیا اور جب مدینے میں آیا تو اللہ نے مجھے جھولی بھر کے عطا فرمایا کہتا ہے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے کہا حضور آپ نے تو مجھے میری ضرورت سے کہیں بڑھ کر نواز دیا ہے معاف کیجئے گا میں سوچ رہا تھا دودھ شہد پر تو گھر میں لڑائی ہو رہی ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے جو پیسے عثمان کو دیئے ہیں وہ اس لئے نہیں دیئے کہ عثمان کی اولادیں عیش مستی کرتی پھریں میرے مالک نے مجھے نوازا ہے تاکہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوکروں کی نوکری کروں۔ شخص کہتا ہے میں دروازے تک گیا تو میں نے کہا شکریہ! کہتا ہے ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بھیجا ہے کہ آپ فرمانے لگے کہ شکریہ ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ادا کرنا جس نے تجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔ شخص کہتا ہے کہ میں نے کہا حضور آپ کو تو میں نے بتایا ہی نہیں کے مجھے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مسکرا کر فرمانے لگے چھوڑو آپکا کام ہوگیا اس تفصیلات میں نہ پڑو سبحان اللہ یہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار ﷺ کا عالم کیا ہوگا۔ ہم امتِ محمدی ﷺ نے احکاماتِ خداندی احکاماتِ نبوی ﷺ اور نقشِ اہلِ بیت و صحابہ اجمعین کو فراموش کرکے ترقی سکون اور امن کفار و مشرکین اور قادیانیوں کی گند غلاظت میں ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں حاصل نتیجہ صفر اور خباثت کی صورت میں مل رہا ھے۔ امتِ محمدیہ کی اس دورِ دجالی میں ایمان کی حفاظت اور امن و سکون کی شرط ہی اطباعِ رسول ﷺ میں ھے۔ عصرِ حاضر میں جس قدر فتنہ دجالی اور قادیانی فتنہ سر اٹھارہا ہے اس سے بچاؤ صرف اور صرف اسلامی شعائر و تہذیب میں ڈھل جانے میں ہی بقاء ہے ۔۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version