BBC Urdu TV

عنوان:میں قادیانیوں کا کھلا دشمن آخر کیوں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:میں قادیانیوں کا کھلا دشمن آخر کیوں۔۔۔؟؟

دشمنی وہی اچھی ہوتی ھے جو الله اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کی جائے۔ میں جانتا ھوں کہ میرے دو شدید ترین دشمن ہیں ایک میرے جسم و جاں میں ہر وقت موجود رہتا ھے دوسرا وہ جو سامنے ہر وقت رہتا ھے دونوں دشمن انتہائی غبیث و ذلیل ترین ہیں اور کمینگی میں قطعی کوئی کسر نہیں چھوڑتے یہ دونوں مجھ سمیت حضرت انسان کے ازل سے تا قیامت بدترین دشمن رہیں گے جسم و جاں کے اندر والے دشمن کو نفس کہتے ہیں جبکہ باہر والے دشمن کو ابلیس شیطان کے نام سے جانتے ہیں مگر ان دونوں دشمن سے بھی بڑا اور بد سے بدترین ترین اور ترین خباثت و غلاظت کے انتہائی نیچے تک اگر کوئی ھے تو وہ قادیانی ہیں۔ قادیانی خبیث ذلیل وہ کمترین ناپاک انسان ہیں جنکا نہ کوئی مذہب نہ کوئی دین ھے یہ ملحد کافر ہیں اور یہ نہ اقلیت میں آتے ہیں اور نہ ہی کسی مذہب میں کیونکہ ان کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کے اخلاق سیاست مذہب دین اور ایمان کو تباہ و برباد کرنا ہی ان کا مشن ھے یہ مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے اپنی دوشیزاؤں اور دولت کا بے غیرتی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ھے ہر طبقات اور طریقہ کار سے بدکاری کو فروغ دینا ان کے مشن کا حصہ ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! قادیانی ایسے ہی کافر ملحد مرتد قرار نہیں دیئے گئے ہیں۔ جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو !! ملحد کافر مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔ متشرع سفید داڑهی قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درود شریف بهی پڑہتے۔ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها۔ اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور نورانی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ حوالے نوٹ کیئے۔ سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہر قادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا اب سوالات نورانی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔۔!! سوال: مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ جواب: وہ امتی نبی تهے۔ امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔ سوال: اس پر وحی آتی تهی؟ جواب: آتی تهی۔ سوال: (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟ جواب: بالکل نہیں۔ سوال: مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔ پکا کافر۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب: کافر تو ہیں لیکن چهوٹے کافر ہیں“جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔ سوال: آگے مرزا نے لکها ہے۔ پکا کافر؟ جواب: اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔سوال: آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟ جواب: دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔ سوال: ایک جگہ اس نے لکها ہیکہ جہنمی بهی ہیں؟ (یہاں نورانی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا) اسی موقع پر دوسرا سوال: کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر ؓ فاروق ؓ امتی نبی تهے جواب: نہیں تھے۔ اس جواب پر نورانی صاحب نے کہا پهر تو مرزا قادیانی کے مرنے کےبعد آپکا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔ تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جواب: وہ فنا فی الرسول تهے۔ یہ انکا اپنا کمال تها وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی) سوال: مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے اور (میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے مگر (ذزیتہ البغایا) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟ جواب: بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔ سوال: بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے *”وما کانت امک بغیا“* (سورہ مریم) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی“ جواب: قرآن میں بغیا ہے۔ بغایا نہیں۔ اس جواب پر نورانی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی (”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“) پھر جوش سےکہا میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کرکے دکها سکتے۔!! (اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں) تیرہ دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو بائیس اگست سنہ انیس سو چوہتر کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ جن میں مفتی محمود صاحب “مولانا شاہ احمد نورانی صاحب“ پروفیسر غفور احمد صاحب“چودہری ظہور الہی صاحب“ مسٹر غلام فاروق صاحب“ سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انکے کفر کو درج کردیا جائے لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔ کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔ گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ ہر روز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز“ کیسے لکھا جائے۔؟ مسلسل بحث مباحثہ کے بعد بائیس اگست سے پانچ ستمبر سنہ انیس سو چوہتر کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔ سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ ایک سو چھ میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔ حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ ایک سو چھ کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ ایک سرحد میں۔ ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ چھ اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔ عیسائی۔ ہندو پارسی۔ بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔
نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان چھ کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے تاکہ کوئی "شبہ” باقی نہ رہے۔ اس کیلئے بهٹو سمیت اس کی حکومت تیار نہ تهی۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔ نورانی صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔
پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔ نورانی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب) اس بحث مباحثہ کا پانچ ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی تھی چنانچہ چھ ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے نورانی صاحب سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔ حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ ایک سو چھ میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے جبکہ نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہیگا۔
بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔ عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ نورانی صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ ایک سو چھ میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔
پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔
نورانی صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔ وزیر قانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے) اور پهر سوچ کر بولے کہ نورانی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔ وزیر قانون کا خیال تها شاید نورانی صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن نورانی تو پهر نورانی صاحب تهے)
نورانی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ ابلیس۔ خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔ کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔ چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔ نورانی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔ صرف وضاحت کیلئے ہوتا ہے لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔ پھر تاریخی فیصلہ سامنے آیا۔ سات ستمبر سنہ انیس سو چوہتر ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب سنہ انیس سو تریپن اور سنہ انیس سو چوہتر کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دیکر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا۔ دستور کی دفعہ دو سو ساٹھ میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔ ”جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان نہ رکهتا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں اور دفعہ ایک سو چھ کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔ بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہونگیں جو عیسائی۔ ہندو سکھ۔ بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد (جو اپنے آپکو احمدی کہتے ہیں)یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (انکی) بلوچستان میں ایک۔ سرحد میں ایک۔ پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہونگیں، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہیکہ اس ترمیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا۔ اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ اس فیصلے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائیگا۔ میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہئے کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے اور پهر فرمایا کہ سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں (ملک کے) الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج وقت کا تقاضہ ھے کہ قادیانیوں کو آئین میں واجب القتل اور انکی املاک کو حکومت میں ضم کرکے دولت قومی خذانے کی ملکیت قرار دی جائے تحقیق و مشاہدے بتاتے ہیں کہ قادیانی دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور ریاستِ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے اور قادیانیوں نے سنہ انیس سو چوہتر کے بعد سے ہر خفیہ و ظاہری طور پر اسرائیل امریکہ برطانیہ اور بھارت کا سہولتکاری معاونین اور ایجنڈ کے طور پر متحرک رہے ان خبیث و غلیظ قادیانیوں کیلئے ذرات کے برابر بھی رحم کرنا دینِ اسلام اور ریاستِ پاکستان سے بے وفائی اور دھوکہ کے مترادف ھے کیونکہ شیطان و ابلیس کا معاملہ رب نے قیامت کے بعد رکھا ھے مگر جعلی جھوٹے کاذب نبوت کے دعویداروں کو جہنم وصل کرنے کا حکم دیا خلفہ راشدین میں کاذب نبیوں کے خلاف اعلان جنگ کرکے جہنم واصل کیا تو اسلام کے قلعہ میں انہیں کسی طور رعایت دینا کفر اور گناہ کبیرہ میں شامل ھونا ھے۔ الله اراکین حکومت اور با اختیار وزراء و مشیران کو عقل سلیم عطا فرمائے اور قادیانیوں کا سر کچلنے کی ایمانی طاقت عطا فرمائے۔ ہاں میں قادیانیوں کا کھلا دشمن ھے قادیانیوں اور ان پر نرم گوشہ رکھنے والوں پر لاکھوں لعنت بھجتا ھوں قادیانی کافر کافر کافر ملحد و مرتد ہیں۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version