ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:میرے وطن اور میرے مذہب کے محافظ تم ھو۔۔۔!!
دنیا میں جب سے جنگیں شروع ھوئی یں تب سے جنگ کا ایک دستہ ہمیشہ سے اہمیت قابلیت اور خاص درجہ و مقام پر رہتا چلا آیا ھے۔ اس دستے سے مخالف دشمنوں کی ایک جانب حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاتی رہیں تو دوسری جانب معلومات کا اکھٹا کرنا بھی مقصود ھوتا تھا جو آج تک جاری و ساری ھے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ پرانے وقتوں میں کس نام سے انہیں جانا پہچانا جاتا تھا لیکن میرا خیال ھے کہ عام فہم میں انھیں جنگ کے دستوں میں جاسوس کے نام سے یاد کیا جاتا ھے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! الحمدلله پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کے رفقائے کاروں میں خاص مقام پانے والے کرنل سید شاہد حمید کا نام بڑی قدر منزلت سے دیکھا جاتا ھے۔ سنہ انیس سو اکہتر سے قبل پاکستان دو یونٹ پر مشتمل تھا ایک یونٹ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش سے ھے دوسرا مغربی پاکستان جو اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتا ھے۔ اْس وقت کراچی مغربی پاکستان کا دارلخلافہ تھا جو سنہ انیس سو اکہتر تک رھا۔۔۔۔۔معزز قارئین!! سنہ انیس سو اڑتالیس میں کرنل سید شاہد حمید نے کراچی میں ایک چھوٹے سے دفتر سے انٹر سروسز انٹلیجنس
(آئی ایس آئی) کی بنیاد رکھی جس نے انیس سو پینسٹھ سمیت ہر جنگوں میں انتہائی معاون کردار ادا کیا۔۔۔ ناظرین وقت کے گزرنے کیساتھ ساتھ انتہائی کم وسائل کے باوجود آئی ایس آئی نے جس قدر اعلیٰ سطح پر پروفیشنل ازم کیساتھ ماہرانہ انداز اپناکر اپنےچیف کی رہنمائی میں آگے بڑھتے رہے کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے چیف آئی ایس آئی کی ماہرانہ صلاحیتوں کے معترف ھوئے بغیر نہ رہ سکے۔ آئی ایس آئی کے چیف کا منصب پاکستان کی سلامتی و بقاء کی ریڑھ کی ہڈی کے برابر ھے۔معزز قارئین!! جانتے بھی ہو میں کون ہوں؟ پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) ہوں میں دکھائی نہیں دیتا مگر میں ہوں۔ تمہاری گلی کی موڑ پر کبھی رکشہ ڈرائیور بن کر کھڑا تمہارے گھروں کی حفاظت پرمعمور توکبھی تمہاری نوجوان اولاد کی حفاظت کیلئے کرکٹ اور ہاکی کے گراونڈز کی باونڈری لائن کے باہرکھڑا تماشائی بن کر میں موجود ہوں تو کبھی کمپنی کاورکرز بن کر کسی مجذوب کا روپ دھارے تمہارے گھر والوں کی حفاظت کیلئے تمہارے شہر کے بازاروں میں تمہیں احساس نہیں ہوتا مگر عین موقع پر تم سے بھیک مانگ کر تمہاری جیب کٹ جانے سے بچا لیتا ہوں۔ شہر کے لاری اڈہ پر اخبار بیچتےہوئے تمہارے اردگرد سے باخبر رہتا ہوں مگر تم مجھ سے بے خبر ہو کر چلتے ہو کسی اسپتال میں نرسنگ اسٹاف کا ممبر بن کر تمہاری جانوں کی حفاظت کرتا ہوں تم دیکھتے ہو جب کبھی سگنل پر گاڑی رکتی ہے تو میں بس میں کوئی مرغ دال یا قلفی بیچنے والا بن کر چڑھ دوڑتا ہوں تم قلفی یا دال خریدتے ہو مگر میں’ میں تمہیں ایک باحفاظت سفر کی ضمانت دے جاتا ہوں۔ تمہیں پتا ہے جون جولائی کی تپتی اور لو دیتی دھوپ میں جب پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں میں امرود بیچنے والا بنکر یا پھر کباڑیا بنکر تمہاری گلیوں میں گشت کرتا ہوں تاکہ شہروں کا کباڑا نہ ہو۔ جانتے ہو جنوری کی یخ راتوں میں رات کی تاریکی میں سیٹی بجاتا تمہاری گلیوں سے گزرنے والا اکثر تمہارے محلے کاچوکیدار نہیں بلکہ تمہارے وطن کا چوکیدار ہوتا ہے۔ تم جانتے ہو مجھے اپنے وطن کے علاوہ عالم اسلام کی بھی فکر رہتی ہے۔کبھی میں ایک مجاہد بنکر وادی کشمیر کی بہنوں کے غموں کا مدوا کرنے پہنچ جاتا ہوں تو کبھی ایک ہندو یا سکھ بنکر انڈین وزیر اعظم کے پرسنل سیکیورٹی افسر کے فرائض سر انجام دیتا ہوں’ کبھی انہی کی پارلیمنٹ کا نمائندہ بن کر تمہارے جذبات کی نمائندگی کرتا ہوں۔ تم مجھے دیکھتے نہیں میں کبھی کسی صحافی کا روپ دھار کر اسرائیلی فوجیوں کی مخبریاں کرتا ہوں تو کبھی فلسطینی مجاہدین کوٹرینگ دیتا ہوں۔ میرا ہی کارنامہ ہوتا ہےکہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں الله اکبر الله اکبر کی صدا بلند کروا دیتا ہوں یہ میں ہی ہوں جو روس کو سہانے خواب دکھا کر پہلے افغانستان لاتا ہوں پھر امریکہ سے تعاون لےکر پوری دنیا کو روس کی جارحیت سے پناہ دیتا ہوں اور یہ میں ہی ہوں جو امریکہ کا دایاں بازو بنکر امریکہ کو ہی کاٹتا ہوں۔ یہ میری ہی چابکدستی ہے کہ امریکہ بارہ سال تک افغانستان میں ٹکریں مارتا ہے اورخوب سرمایہ تباہ کرتا ہے البتہ اْسامہ کا ڈرامہ ایبٹ آباد میں فلاپ کروادیتا ہوں یہ میرا ہی کارنامہ ہیکہ خدمت کے نام پر بی ایل اے کے منصوبے کا مقابلہ اور بلوچوں کو منالیتا ہوں تم نہیں جانتے کہ تمہارا حج میرے بغیر کتنا مشکل ہو جائے۔ میں حرم کی پہرہ داری پہ کھڑا ہوتا ہوں تاکہ تم اپنے لئے امن کی دعا کر سکو میں کسی نہ کسی کور میں برما تک پہنچ جاتا ہوں تاکہ انہیں لڑنا سکھا سکوں میری لڑائی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل سے بھی ہے اور ان کے پالتوؤں سے بھی ٹی ٹی پی، داعش، بی ایل اے جیسے بہت سے دہشتگردوں سے بھی مجھے ہر جگہ جانا ہوتا ہے۔ مجھے مسلم امہ کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے اور ملت کفر کی ہر سازش پر نظر بھی۔میں ملک کی ہرگلی سے لیکر کفر کے ہر ایوان تک موجود ہوں۔ میں ہر وقت مستعد ہوں مگر تم نے سوچا کہ میں اتنا کچھ کیوں کرتا ہوں کیونکہ مجھے فکر ہے۔میں نے عراق اور صومالیہ کا حال دیکھا ہے۔ میں نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرتے دیکھا ہے۔ میں نے شام اور مصر کا حال دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرے مدِمقابل سی آئی اے’بلیک واٹر’ را اور موساد جیسے مہنگے کرائے کے قاتل ہیں۔ جنکا مقصد ہی مجھے، میرے پاکستان کو ختم کرنا ہے۔ میں جیتا ہوں اتنے دشمنوں میں’ غیروں کی سازشوں میں’ اپنوں کی دغا بازیوں میں یہ سارے دشمن جب ملکر حملہ کرتے ہیں تو کبھی کبھار مجھے زخم لگ جاتے ہیں۔ میں وسائل تھوڑے ہونے کے باعث نہیں پہنچ سکتا اور وہ وسائل کی زیادتی کے باعث کبھی کبھار جیت جاتے ہیں۔ میں انکی اس جیت کو ہار میں تو نہیں بدل سکتا مگر اپنے رستے زخموں کےباوجود انپر ایسی ضرب لگا دیتا ہوں کہ ان کی جیت کی خوشی مانند پڑجائے۔ تمہیں میری زیادہ فتوحات میری طرح نظر نہیں آتی مگر میرے زخموں کو کریدنے تم ہمیشہ پہنچ جاتے ہو اتنے دشمنوں کے ہوتے ہوئے میں نے تمہیں برما، شام، فلسطین، کشمیر، صومالیہ ہیروشیما نہیں بننے دیا لیکن ان ملکوں کو بے سہارہ بھی نہیں چھوڑہ ہم سے جتنا بھی ہوسکا ہم نے ہر مسلمان ملک کی مدد کی ہیں۔ انکو لڑنا سیکھایا میں نے خود پہ زخم کھا کر تمہارے وجود جو آج پروقار بنایا ہے۔ آج تمہیں سی پیک دیا۔ عالمِ اسلام کا سردار بنایا۔ تمہیں ایٹمی طاقت بنایا کیونکہ میں تم سے ھوں اور تم مجھ سے ھو۔۔۔پاک افواج زندہ باد, ایس ایس جی زندہ باد, آئی ایس آئی زندہ باد, پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
