ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:ملک تو پہلے والوں نے خراب کیا۔۔۔!!
تحریک انصاف کے موجودہ وزیر، مشیر پہلے والے کون تھے؟ ھوا بازی کے وزیر، *سرور خان* ہیں سنہ انیس سو پچاسی اور سنہ انیس سو اٹھاسی اور سنہ انیس سو نوے میں یہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے ممبر صوبائی اسمبلی ( ایم پی اے ) منتخب ہوئے۔ سنہ انیس سو ستانوے میں پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور ہار گئے۔ سنہ دو ہزار چار میں شوکت عزیز کی کابینہ میں محنت و افرادی قوت کے وزیر تھے۔ اب کہتے ہیں کہ ہمارا تو کوئی قصور نہیں ملک تو پہلے والوں نے تباہ کیا تھا! *خسرو بختیار* اکنامک افیئرز کے وفاقی وزیر ہیں۔ سنہ انیس سو ستانوے میں پاکستان مسلم لیگ نواز ( پی ایم ایل این ) میں تھے۔ سنہ دو ہزار دو میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) بنے۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں امور خارجہ کے وزیر مملکت تھے۔ سنہ دو ہزار تیرہ میں پھر پاکستان مسلم لیگ نواز ( پی ایم ایل این ) میں شامل ہوگئے! سنہ دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی أئی ) میں گھس گئے اب ان کا بھی یہی خیال ہو کہ ملک تو پہلے والوں نے اس حال تک پہنچایا۔ *صاحبزادہ محبوب سلطان* بھی وفاقی وزیر ہیں۔ سنہ دو ہزار دو اور سنہ دو ہزار آٹھ کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ پر لڑا۔ سنہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نواز ( پی ایم ایل این ) کے امیدوار تھے سنہ دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف ( پی ٹی أئی ) ان کی منزل مراد بن گئی اور ان کی خدمات کے صلے میں انہیں وفاقی وزارت عطا فرما دی گئی! ان کا بھی یہی خیال ہوگا کہ سارا ستیاناس تو پہلے والوں نے کر رکھا تھا۔ *فواد چودھری* جو سائنس ایند ٹیکنالوجی کی وزارت میں دیگر ممالک سے سٹلائیٹ کا ڈیٹا خرید کر ( مگر اپنا سیٹلائٹ نہیں بناتے ) اس کی مدد سے عیدوں پر چاند چڑھاتے رہتے ہیں۔ مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ میں تھے پھر پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) پر بہار آئی تو اس کی شاخ پر جا بیٹھے۔ اب وہ تحریک انصاف ( پی ٹی أئی ) کے سدا بہار ملک الشعراء ہیں۔ ذرا پوچھ کر دیکھئے وہ آپ کو بتائیں گے کہ ساری خرابیاں پہلے والوں نے پیدا کی تھیں! *نورالحق قادری* وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ہیں۔ زدرادی دور میں نورالحق قادری زکواۃ و عشر کے وفاقی وزیر تھے۔ اتنے نظریاتی واقع ہوئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) نے انہیں بغیر کسی محکمہ کے وزیر بھی بنائے رکھا اور وہ بد مزہ نہ ہوئے۔
ان کو بھی یقیناً شرح صدر ہوگا کہ خرابی تو ساری پہلی والوں نے پیدا کی تھی!! *محمد میاں سومرو* الیکشن والے سال پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کا حصہ بنے۔ اس وقت وفاقی وزیر ہیں۔وہ چیئرمین سینٹ قائم مقام وزیر اعظم اور صدر بھی رہ چکے ہیں اور مشرف دورمیں گورنر سندھ بھی۔ اس لیئے وہ زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں کہ ملک تو پہلے والوں نے تباہ کیا تھا، موجودہ حکومت کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ *عمر ایوب* وفاقی وزیر ہیں۔ سنہ دو ہزار دو کا الیکشن ق لیگ کےٹکٹ سے لڑا۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر مملکت رہے۔ سنہ دو ہزار بارہ میں ن لیگ میں چلے گئے۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) میں شامل ہوگئے۔ ایک صدر مملکت کے پوتے اور وزیر خارجہ کے صاحبزادے ہونے کے ناطے وہ بھی بتاسکتے ہیں کہ ملک پہلے والوں نےخراب کیا ہمارا کیا قصور ہے!! *سید فخر امام* وفاقی وزیر ہیں۔سابق اسپیکر و قائد حزب اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔ انکی اہلیہ نواز شریف دور میں وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔ یہ بھی آپ کو بتا سکتے ہیں کہ ملک تو پہلے والوں نے خراب کیا ہمیں تو اقتدار میں آئے ابھی دو سال ہی گزرے ہیں ہم ستر سال کا گند ڈھائی سالوں میں کیسے صاف کر سکتے ہیں؟ *طارق بشیر چیمہ* بھی وفاقی وزیر ہیں۔سیاسی سفر میں البتہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) میں رہے، ق لیگ میں رہے بہاولپور کے ناظم رہے۔ ایم پی اے رہے پنجاب کے وزیر خوراک و زراعت رہے۔ سنہ دو ہزار سولہ میں ق لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اب وہ بھی شائد کہتے ہوں گے کہ ہمیں تو ڈھائی سال ہوئے ہیں آئے ہوئے ملک تو پہلے والوں نے لوٹا! *شیخ رشید* سنہ انیس سو پچاسی میں ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) سنہ انیس سو اٹھاسی میں ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) سنہ انیس سو نوے سے سنہ انیس سو تیرانولے اور سنہ انیس سو ستانوے کے انتخابات میں کامیابی ھونے کے بعد نواز شریف کے دور میں مشیر اطلاعات و نشریات پھر وزیر صنعت و حرفت اضافی چارج سیاحت و ثقافت۔ سنہ دو ہزار دو میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم ( پی ایم ایل کیو ) میں وزیر اطلاعات پھر وزیر ریلوے۔ سنہ دو ہزار تیرہ میں ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) موجودہ وزیر ریلوے اور اب وزیر داخلہ ھیں۔ ان سے تو پوچھنےکی بھی ضرورت نہیں کہ تباہی میں کس کا ہاتھ ہے۔ *اعظم سواتی* بھی وفاقی وزیر ریلوے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں بھی وہ وفاقی وزیر تھے۔ باقی کی ساری داستان سے آپ واقف ہی ہوں گے۔ زبیدہ جلال، فروغ نسیم، فہمیدہ مرزا ، عبدالحفیظ جیسوں کی تو بات ہی کیا، ابھی تو مشیران اور وزرائے مملکت کی فہرست بھی باقی ہے!!لیکن پھر بھی یہ بات تسلیم اور سر آنکھوں پر کہ پہلے والوں نے ملک لوٹ کھایا اور ان کا پھیلایا گند ڈھائی سالوں میں صاف نہیں ہوسکتا لیکن عالیجاہ یہ تو بتادیجئے وہ پہلے والے کون تھے؟ اور یہ جو کابینہ میں ہیں، یہ کیا بعد والے ہیں؟ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے لیکن اب قصور وار کون؟ ۔۔۔ معزز قارئین!! ان تمام تفصیلات کے بعد یقیناً آپ اس بات پر اتفاق کرنے پر مجبور ھوجائیں گے کہ ریاست پاکستان کے نظام کو اور آئین کو جس قدر سیاستدانوں اور مورثی سیاست یعنی انکی اولادوں نے تار تار کردیا ھے کہیں بھی نظام نظر نہیں آتا۔محترمہ فاطمہ جناح کے بعد کثیر سیاسی اشرفیہ سمیت گنتی کے چند ایک آمروں کا کردار مسخ اور غداری پر رھا ھے۔ اب پاکستان ناگزیر ھوچکا ھے کہ نظام کی تبدیل اور نفاذ نظام مصطفیٰ لازم ھو۔ پاکستان اور پاک افواج پر الله کا بڑا فضل و کرم ھے اور تاقیامت رہیگا ہماری فوج کو الله نے نہ صرف جرأتمندی و شجاعت بخشی ھے بلکہ ایمانی روحانی کی دولت اور بلند مقام پر رکھا ھے اسی خطے پاکستان سے آج نہیں تو کل غزوہ ہند کی ابتداء ھوگی۔
کالمکار: جاوید صدیقی
