BBC Urdu TV

عنوان:مجاہدینِ اسلام’ مجاہدینِ پاکستان ۔۔۔ پاک آرمی

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:مجاہدینِ اسلام’ مجاہدینِ پاکستان ۔۔۔ پاک آرمی!!

رب الکائنات نے جہاں دنیا کو چلانے کیلئے بہترین حکمت عملی اور بہترین منشاء رکھی وہیں دنیا کو آباد کرنا اور یہاں اپنا نائب نافذ کرنا بھی الله کی بہترین حکمت تھی’ کعبہ کا وجود اور مرکزِ الہیٰ بھی الله کی بہترین منشاء ھے اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الانبیاء آخرالزماں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم بنانا بھی الله کی بہترین حکمت و منشاء ھے اور ارض و زمین پر بہترین ریاستِ مدینہ پھر ریاستِ پاکستان الله کی بہترین حکمت و منشاء کا ثمر ھے۔ فیصلے بظاہر دنیاوی ھوتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسرا فیصلہ کشفِ یعنی غیبی بھی ھوتا ھے جو الله کی جانب سے طے کیا جاتا ھے ان فیصلوں میں انتخابات و ذمہ داریاں بھی رب الکائنات کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی دوسری ریاست ھے اس ریاست کی حفاظت الله خود کررھا ھے یہ الگ بات ھےکہ وہ اپنے پسندیدہ بندوں پر اس ریاست کی حفاظت و سلامتی کیلئے منتخب کرتا ھے یہی وجہ ھے کہ پاک افواج مجاہدینِ اسلام اور مجاہدینِ پاکستان دوہری اہم ترین ذمہ داریوں کو با احسن انداز میں سر انجام دینے کی بھرپور صلاحیت ادا کرتی چلی آرھی ھے۔ اس خطے یعنی جنوبی ایشیاء میں کئی دھائیوں سے کفار و مشرکین اپنی ناپاک سازشوں سے خطے کا امن تہہ و بالا کرتے چلے آرھے ہیں انکے سہولتکار ہمارے چند ایک مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔معزز قارئین! کیا امریکہ افغانستان پر حملے کے مقاصد پورے کرنے میں کامیاب رہا؟ اور کیا واقعی افغانستان ٹھکانہ تھا اور پاکستان نشانہ؟ امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر یعنی عالمی چودھراہٹ کا بخار روس کی شکست کے ساتھ تیز ہوگیا تھا۔ اس کے چھ چیزوں کا تعین کیا گیا۔ جن کے حصول کی صورت میں نیو ورلڈ آرڈر کا قیام ممکن تھا۔ ان میں دنیا بھر کے توانائی تیل اور گیس کے ذخائر کا کنٹرول دنیا بھر کے اہم ترین گزرگاہوں کا کنٹرول کرنا چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو لگام ڈالنا۔ روس کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنا اسرائیل کی موجودہ ریاست کا دفاع اور گریٹر اسرائیل کا قیام۔اسلام کو بطور سیاسی یا معاشرتی نظام نافذ نہ ہونے دینا۔ ان کو ” گرینڈ اسٹریٹیجک آبجیکٹیوز ” کہا جاتا ہے۔ ان پر کام کرنے کیلئے امریکہ کو افغانستان بہترین ٹھکانہ نظر آیا۔افغانستان کسی بھی باقاعدہ فوج سے محروم، کمزور اور ٹوٹی پھوٹی ریاست تھی لہذا اس پر قبضہ کرنا آسان ہوگا۔ تیل و گیس کے بیشر ذخائر عرب یا وسطی ایشیائی ممالک میں ہیں جن کے افغانستان قریب ہے یہ چین اور روس کے پڑوس میں ہے تو دونوں ممالک کے خلاف یہاں سے آپریٹ کرنا ممکن ہوگا۔ دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ جو ساری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے یعنی گوادر اس کے قریب ہے۔ امریکہ کا اس علاقے میں سب سے مضبوط اتحادی انڈیا بھی پڑوس میں ہے اور طالبان ایک اسلامی نظام لانے کی کوشش کر رہے تھے جس کو تباہ کرنا ضروری تھا۔ افغانستان پر حملہ اور قبضہ ہوگیا لیکن مقاصد کےحصول کے راستے میں پاکستان حائل تھا ذرا اس کو سمجھیں!! تیل و گیس کے ذخائر کا کنٹرول دنیا کے ستر فیصد سے زائد تیل اور گیس کے ذخائر وسطی ایشیاء، عرب ممالک اور ایران وغیرہ میں ہیں۔ عرب ممالک میں سعودی عرب دنیا میں تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایران غالباً دنیا کا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ سعودی عرب میں ہمارے دینی مراکز ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ ایک نیوکلیر پاکستان کی موجودگی میں سعودی عرب کی طرف قدم بڑھانا ممکن نہیں۔ اسرائیل کو اس کا تجربہ عرب اسرائیل جنگوں میں ہوا تھا۔ عرب اتحاد کی کمانڈ آج بھی پاکستانی جنرل کے ہاتھ میں ہے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو پاکستان نے ایران کی نیوکلیر و میزائل ٹیکنالوجی میں مدد کی اور امریکہ نے جب ایران پر حملے کا اعلان کیا تھا تب پاکستان نے سب سے پہلے اس کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کی ہی بدولت ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہیں ہو پا رہی۔ وسطی ایشیاء سے افغانستان تک مجاہدین پر پاکستان کا اثر و رسوخ دنیا جانتی ہے۔ پاکستان کی موجودگی میں وہاں آرام سے قدم جمانا ممکن ہی نہیں۔ بیس سالہ افغان جنگ میں امریکہ کا یہ اندیشہ بالکل درست ثابت ہوگیا ہے لہٰذا تیل و گیس کے ذخائر کے کنٹرول کیلئے پاکستان کا وجود ختم کرنا ضروری ہے۔ گوادر جو دنیا کی ساری آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ پاکستان میں واقع ہے۔ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی اصل جان ہی گوادر ہے۔ روس کو بھی گرم پانیوں کیلئے گوادر کی ضرورت ہے یعنی امریکہ کے دو سب سے بڑے حریف اس پر کررہے ہیں۔ گوادر کے سامنے سے گزر کر انڈیا، اسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک بقیہ دنیا سے تجارت کرتے ہیں۔ گوادر پر کنٹرول کا مطلب بحر ہند کا کنٹرول ہے۔ اس کے علاوہ روس اور وسطی ایشیاء کے کوئی درجن بھر ممالک کیلئے پاکستان خشکی کا اہم ترین راستہ ہے۔ ان اہم ترین گزرگاہوں پر کنٹرول کیلئے بھی پاکستان کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا۔ چین کا دنیا میں سب سے بڑا دوست اور سہارا پاکستان ہے۔ روس بھی تیزی سے پاکستان کے قریب آرہا ہے۔ چین نے تو امریکہ کو باقاعدہ دھمکی دی تھی کہ پاکستان پر حملہ بیجنگ پر حملہ ہوگا اور چین اس کا جواب دے گا۔ چین انڈیا کے ساتھ اپنے تنازعات اور "ون بیلٹ ون روڈ” منصوبے کی وجہ سے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چین کو آنے والے دنوں میں توانائی کی شدید ضرور ہوگی جو پاکستان کے راستے ہی پوری ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہت ہی اہم ہے۔ امریکی تجزیہ کار وبسٹر تھارپلے نے دس سال پہلے انٹرویو دیا تھا کہ پاکستان میں افغانستان کی مدد سے پشتونوں کی الگ ہونے کی تحریک چلوائی جائے گی تاکہ پاکستان کو ایران اور چین کے درمیان "انرجی کوریڈور” بننے سے روکا جاسکے۔ یہ بات نوٹ کریں کہ اس وقت روس پاکستان سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں ہماری سابقہ جمہوری حکومتوں نے مسلسل سستی دکھائی اور صرف عسکری قیادت ہی معاملات کو آگے بڑھاتی رہی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف نےان معاملات کو آگے بڑھایا۔ موجودہ حکومت اور جنرل عاصم جاوید باجوہ کی پارٹنر شپ میں یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ پیوٹن پاکستان کا دورہ کرلیں۔ پاکستان روس اور چین کی نیٹو کے مقابلے پر دفاعی تنظیم "ایس سی او” میں شامل ہوچکا ہے۔ پاکستان تاریخ میں پہلی بار روس سے اسلحہ خریدنے کے معاہدے بھی کرلئے ہیں۔روس کو پاکستان گرم سمندر تک رسائی کی پیشکش کررہا ہے جو روس کی واحد کمزوری ہے۔ چین اور روس کو لگام ڈالنےکیلئے بھی پاکستان کا وجود ختم کرنا ضروری ہے۔اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ پاک آرمی نے عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل کو شدید زک پہنچائی تھی نیز عراق ایران جنگ خفیہ طور پر بزور طاقت رکوائی تھی۔ آج افغانستان میں امریکہ کے خلاف ہونے والی ساری مزاحمت کے پیچھے بھی پاکستان کا نام لیا جارہا ہے۔
امریکہ پاکستان کی اس اہلیت سے واقف ہے کہ پاکستان ظاہراً اور خفیہ طور پر کیا کچھ کرسکتا ہے اور کرتا رہتا ہے حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد پاکستان نے نہ صرف سفاری محاذ پر پہلی بار اسرائیل کو ذلیل کروایا بلکہ مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کی سرحد پر جنگی مشقیں بھی کیں۔ اسرائیل گریٹر اسرائیل تب ہی بنے گا جب وہ مدینہ منورہ تک کا علاقہ ہڑپ کرلے گا اور ایک نیوکلئیر پاکستان کی موجودگی میں مدینے تک جانا اسرائیل کیلئے ممکن نہیں لہذا اسرائیل کی سرحدیں وسیع کرنے کیلئے بھی پاکستان کو ختم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہی پیشن گوئی اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریان نے بھی کی تھی۔
اس وقت پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو ایک اسلامی سماجی، معاشرتی اور سیاسی نظام کا تجربہ کرسکتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق شہید نے اپنے دور میں اس پر کچھ کام کیا تھا۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے۔ جہاں آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمازی ہیں، سب سے زیادہ حاجی، سب سے زیادہ زکواۃ دی جاتی ہے اور جہاد وتبلیغ کا مرکز بھی مانا جاتا ہے۔ مجھ سمیت ھماری قوم افغان "اسٹوڈنٹس” کے نفاذِ اسلام والے ماڈل سے متفق نہیں۔ پاکستان ہی ایک حقیقی اسلامی معاشی اور سماجی نظام کا تجربہ کرسکتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں قائم کرلیا گیا تو دنیا کی نظروں کو خیرہ کرسکتا ہے۔ ایک بڑی دنیا کو اسلام کی جانب کھینچ سکتا ہے۔ اس ممکنہ خطرے کو روکنے کیلئے بھی پاکستان کا خاتمہ ضروری ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر قبضہ پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے کیا۔ براہ راست حملے میں درپیش خطرات کے مقابلے میں اس کو یہ آسان لگا تھا لیکن پاکستان نے امریکی قبضے کیساتھ ہی اپنی دفاعی صلاحیت کئی گنا بڑھا لی خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی میں جس کے بعد براہ راست پاکستان پر حملے کا آپشن ختم ہی ہوگیا۔ پاکستان کی دفاعی مشین پاک فوج اور جنگی سازوسامان بشمول نیوکلئیر ہتھیاروں کیخلاف امریکہ کے پاس صرف ایک ہی ہتھیار رہ گیا ہے وہ ھے دنیا بھر میں "پروپگینڈا” اس سلسلے میں بھارت کو شامل کرتے ھوئے اسے آگے کردیا اور اس بابت امریکی اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی خدمات لیں گئیں بھارتی میڈیا نے تو حد تجاویز کرنے کی کوئی حد نہ چھوڑی ان کے پروپیگنڈوں میں کہا جاتا ھے دفاعی بجٹ زیادہ ہے، فوج ظالم اور نکمی ہے، فوج آئین شکن ہے، سپاہی اچھے جرنیل برے ہیں وغیرہ وغیرہ امریکہ کی یہ خدمت کرپٹ سیاستدان، لادین سرخے اور اقتدار کے بھوکے "ملا” بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ جن مقاصد کے حصول کیلئے افغانستان آیا تھا انمیں بری طرح ناکام رہا ہے اور یہی حال بھارت کا بھی ھے۔ ھم کہہ سکتے ہیں امریکہ’ نیٹو اور بھارت نے جس قدر مشترکہ طور پر دین اسلام اور اسلامی دنیا کو تہس نہس کرنے کی کوشش کیں انمیں پاکستان اور افغانستان کو نقصان پہنچا نہیں سکے البتہ عرب ممالک کی ریاستوں کو نا قابل تلافی نقصان سے دو چار کیا۔ ان میں خاص کر عراق, شام, بیروت, اردن, مصر, لبنان, فلسطین شامل ہیں جبکہ مستقبل قریب عرب امارات اور سعودی عرب ان کفار و مشرکین کی مکاریوں کے سبب شدید ہلاکت کا شکار ھونے جارھے ہیں۔ بھارت اسرائیل اور امریکہ کی ایماء پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر بے انتہا انسانی حقوق کی جہاں خلاف ورزی سے باز نہیں آرھا وہیں اس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنی فوجی چھاؤنی بناڈالا ھے۔ پاکستان سمیت افغانستان میں را اور این ڈی ایس اس خطے کو بے امنی کی آگ کو پھیلانے میں لگے ھوئے ہیں۔ افسوس کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سہولتکاری کا عمل افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایف بھرپور کردار ادا کررہی ھے۔ اسرائیل امریکہ افغانستان اور بھارت ان چاروں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اور میڈیا انڈسٹریز پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے ایک جانب بھونڈے الزامات لگانے سے باز نہیں آتیں تو دوسری جانب انتہائی نچلی سطح پر گر کر ڈرامائی کھیل رچاتی ھیں مگر شکر ھے ہماری افواج ‘ آئی ایس آئی’ آئی بی’ مارغور کی بہترین پروفیشنل ازم اور مہارت کے سبب تمام سازشیں ناکامی و شکست سے دوچار ھوجاتی ہیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں بتادیا تھا کہ را اور این ڈی ایف کی پلاننگ تھی کہ افغانستانی سفیر کی بیٹی کو شامل کرتے ھوئے پاکستان کو بدنام کریں مگر ان کا بھونڈا منصوبہ بھی بری طرح ناکام ھوگیا۔ الله ہماری افواج کو مزید بام عروج اور طاقت نوازے آمین۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد’ پاکستان پائندہ!!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version