ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:عنوان کراچی کی کہانی میری زبانی ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
یوں تو کراچی کو پاکستان کا دل کہا جاتا ھے یہی وجہ ھے کہ اس شہر میں پاکستان بھر سے چھوٹے بڑے علاقوں شہروں قصبیوں گاؤں دیہاتوں دیہہ ریگستانی و پہاڑی جنگلاتی و زمینی ہر جانب کے رھنے والوں کا کوئی نہ کوئی فرد رشتہ دار یا خاندان لازم کراچی میں آباد رہتا ھے یہی نہیں بلکہ تارکین وطن افغانستان ایران بھارت بنگلہ دیش برما وغیرہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود ھے۔ کراچی دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستان میں واحد شہر ھے جہاں بیشمار چھوٹے بڑے فلاحی ادارے فی سبیل اللہ خدمات پیش کررھے ہیں۔ کراچی کے مقامی لوگ سب سے زیادہ ٹیکس زکواة خیرات صدقہ بھی ادا کرتے ھیں۔ یہاں کے مقامی باشندے پڑھے لکھے باشعور دیندار ہیں آج میں اپنے معزز قارئین کو ان کے طریقہ کار کو بتاتا ھوں۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں ایک کلرک ہوں۔ میری تنخواہ پچیس ہزار روپے ہے۔ میں ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے محلے کے قصاب سے چھ سو روپے کا آدھا کلو چھوٹا گوشت لے کر اپنے کسی عزیز رشتے دار کے گھر بھیج دیتا ہوں۔ یہ گوشت ہماری طرف سے صدقہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔ میرا ایک چھوٹا سا کریانہ اسٹور ہے۔ میں روزانہ پچاس روپے کاروبار سے نکال کر گولک میں ڈال دیتا ہوں۔ میں ہر ماہ پندرہ سو روپے اپنے محلے کی ڈسپینسری میں دے آتا ہوں۔ وہاں معائنہ فیس پچاس روپے کے عوض مریضوں کو ادویات دی جاتی ہے۔ میری طرف سے ایک مہینے میں تیس مریضوں کا علاج ہوجاتا ہے۔۔۔۔ میں اپنے کاروبار سے روزانہ سو روپے الگ کرکے اپنی بیوی کے پاس جمع کرواتا ہوں۔ مہینے کے بعد ہم تین ہزار روپے کا راشن بیگ ایک غریب گھرانے کو بھجوا دیتے ہیں۔۔۔۔ میں محکمہ تعلیم سے وابستہ سبجیکٹ اسپشلسٹ ہوں۔ میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی تنخواہ میں سے پانچ ہزار روپے الگ کرتا ہوں۔ ہم ہر سال ماہ رمضان میں اپنے شہر کے یتیم خانے میں قیام پذیر بچوں کو عید کے نئے کپڑے لے کر دیتے ہیں۔ ہمارے بجٹ سے ساٹھ پینسٹھ بچوں کیلئے تین دن کے دیدہ زیب کپڑوں کا انتظام آسانی سے ہوجاتا ہے۔۔۔۔میری کپڑے کی دکان ہے۔ میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی آمدنی میں سے دس ہزار روپے الگ کرتا ہوں۔ یہ سال کے ایک لاکھ بیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ میں ہر سال ایک یتیم بچی کی شادی و رخصتی کا بندوبست کرتا ہوں۔۔۔۔ میں ڈاکٹر ہوں۔ میرا معمول ہے کہ میں اپنی آمدنی میں سے کینسنر سوسائیٹی کے ذریعے روزانہ ایک غریب مریض کیلئے کیمو تھراپی کا انجیکشن ڈونیٹ کرتا ہوں۔۔۔۔ ہم دونوں میاں بیوی سرکاری اسکول میں پڑھاتے ہیں۔ ہم ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے ایک معقول حصہ الگ کرتے ہیں اور ہر ماہ کے پہلے سنڈے کو اپنے محلے کے دینی مدرسے میں پڑھنے والے ہاسٹلائز بچوں کو مدرسے میں جا کر کھانا پیش کرتے ہیں۔۔۔۔ میری پوش علاقے میں ایک بیکری ہے۔ میں نے اپنے علاقے کے دونوں گرلز اینڈ بوائز اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو کہہ رکھا ہے کہ یتیم طلبا و طالبات کی یونیفارم اور جوتے میرے ذمہ ہیں یہ کام کئی سال سے جاری ہے۔ الحمد للہ اس مقصد کے لئے دو سو روپے روزانہ الگ کر دیتا ہوں۔۔۔۔میرا ایک ریسٹورینٹ ہے۔ میں روزانہ پچاس لوگوں کو اپنے ریسٹورینٹ سے رات کا معیاری کھانا پارسل کی صورت میں دیتا ہوں۔ تاکہ وہ غریب لوگ گھر جا کر اپنی فیملی کے ساتھ سیر ہو کر کھائیں۔۔۔۔ میں انجنیئر ہوں۔ میں ایک نجی کمپنی میں جاب کرتا ہوں۔ میری بیوی بھی ایک بڑے تعلیمی ادارے میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتی ہے۔ ہم دونوں اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص رقم الگ کرتے ہیں۔ ہم معذور افراد کیلئے قائم ایک ادارے کو ہر ماہ ایک وہیل چیئر عطیہ کرتے ہیں جو کسی مستحق معذور کو دے دی جاتی ہے۔۔۔معزز قارئین!! میں سوچتا ھوں کہ یہ سندھ بھر کے وڈیرے جاگیردار اسی طرح دیگر صوبوں کے مالدار خوشحال بناء تشہیر کیئے بڑے پیمانے پر اپنے اپنے علاقوں میں فلاحی امور شروع کردیں تو پاکستان میں کوئی ایک غریب مسکین مجبور کمزور نظر نہیں آئیگا کیونکہ کہیں مہنگی تعلیم ماردیتی ھے تو کہیں مہنگا علاج اور کہیں مہنگی اجناس جینا محال کررھی ھے تو کہیں مہنگا آشیانہ اور کہیں مہنگی ٹرانسپورٹ۔۔۔۔۔ یقیناً نیکی کے کام اسی وقت ممکن ھوسکتے ھیں جب صدق دل سے اللہ جل جلالہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق۔ آئیں آج سے ہم سب ہر پاکستانی ہر علاقہ مقام شہر گاؤں دیہات کا مکین اور خاص طور پر منتخب ممبران وزراء و مشیران صاحب دولت بھی عزم کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے دیئے ہوئے رزق سے مستحق لوگوں کا حصہ نکالیں گے۔۔۔!!
