ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:سیکیورٹی اداروں پر سوالیہ نشان
اتوار چھ جون دوپہر کے وقت سندھ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے قدیمی دیہات پر قبضے کیخلاف آج بحریہ ٹائون کراچی کیخلاف احتجاج کی کال پر سندھ بھر سے لا تعداد کارکنان بحریہ ٹاؤن پہنچ گئے۔ قوم پرست جماعت کے رہنما قادر مکسی کی قیادت میں جام شورو سے گاڑیوں کا قافلہ کراچی بحریہ ٹاؤن کی جانب رواں دواں ھوا۔ ڈیڑھ گھنٹے سفر کے دورانیہ کے باوجود سندھ پولیس سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں شدید ناکام رہی۔ اس بابت سندھ حکومت کی خاموشی کئی سوالوں کو جنم لے رہی ھے جبکہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری کو عمل میں نہیں لایا گیا۔ بحریہ ٹاؤن سیکیورٹیز کے مطابق قافلے میں شریک شرپندوں کے ہاتھوں قوم پرست تنظیم کے جھنڈے اور لاٹھیاں برجھیاں و دیگر سامان موجود تھے جس سے انھوں نے آتشی مادے سے بڑے پیمانے پر آگ لگائی۔ انتظامیہ کا کہنا ھے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی آڑ میں رہائشیوں کی املاک کا جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کیا جبکہ بحریہ ٹاؤن آفس کو تہس نہس کردیا۔ مشتعل افراد نے پول اور سڑکوں پہ لگی رکاوٹیں تھوڑ دیں۔بحریہ ٹاؤن کراچی کے رہائشیوں نے بتایا کہ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج میں پاکستان دشمن جماعت بھی شامل تھیں جو پاکستان اور پنجاب مخالف نعرے بازی کررہے تھے۔ بحریہ انتظامیہ کے مطابق توڑ پھوڑ میں سزوکی شو روم جلادیا گیا۔ ایک کار اور بائیک کو بھی آگ لگا دی سڑک پر بھی ٹائر نزرآتش کیئے۔بحریہ ٹاؤن کراچی کے مین گیٹ پر تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ عمران چھوٹانی نے وڈیو شیئر کرتے ھوئے شوشل میڈیا میں لکھا کہ یہ منظر اب سے کچھ دیر پہلے حیدرآباد ٹول پلازہ کے ہیں بہتر ہے کہ کراچی سفر نہ کریں ایم نائن موٹروے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کا کہنا ھے کہ جئے سندھ کارکنان نے بحریہ ٹاون پر جھنڈے لگانا شروع کردئیے یہ اتنے بہادر اس لئے ھیں کہ ان کے سرپرستوں نے یقین دلایا ھوگا کہ آرام سے کچھ۔بھی کرو رینجرز یا ٹھاکر کچھ نھی کھے گا۔ اس واقعہ پر اياز لطيف پليجو سربراھ قومی عوامی تحريک نے کہا ھے کہ سندھ کی لاکھوں ايکڑ زمين لينڈ مافياز کو دیدی گئی ہے. بڑے رھائشی منصوبوں سے سندھی اور اردو بولنے والے مہاجر اقلیت ميں تبدیل کرديئے جائیں گے۔ آج احتجاج کے دوران تشدد کی سخت مذمت کرتے ہيں. بحریہ ٹاؤن نے سندھ کے سينکڑوں ديہاتوں کو مسمار کيا ہے۔ سندھ کا عوام امن پسند ہے، تشدد ميں يقين نہيں رکھتا۔ آج بحريہ کے پرتشدد واقعات ميں شر پسند ملوث ہيں، سياسی کارکنان نہيں۔ سندھ کے وسائل فروخت کئے جارہے ہيں. يہ زمينيں سندھ کے عوام کی ہيں۔ پوليس پتہ لگائے کہ پرامن عوامی احتجاج کے دوران تشدد کس نے شروع کيا؟ سپریم کورٹ احکامات کے باوجود بحريہ ٹاؤن کراچی سے وصول کيا گيا پيسا متاثرين کو نہيں ملا۔ متاثر ديہاتيوں سے چھينی گئی زمينيں انہيں واپس کی جائيں۔ معزز قارئین!! بحریہ ٹاؤن کراچی کے رہائشیوں کا کہنا ھے کہ اگر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے ان کا مطالبہ تھا تو ھم رہائشیوں کی املاک کیوں جلائی گئیں اس نقصان کی ذمہداری کون لے گا یقیناً سندھ حکومت اس واقعہ پر خود کو بری ذمہ قرار دی گی اور تمام ذمہ داری بحریہ ٹاؤن کراچی پر عائد کردیگی۔ زیادہ سے زیادہ سندھ حکومت روایتی افسوس اور مزمت کردیگی لیکن ھم رہائشی کیونکر ایسے حالات سے نبردآزما ھوتے رہیں گے جس ملک میں اور جس ریاست میں انتہا پسند خودسر دہشتگرد سہولتکار آزاد طاقتور بن جائیں وہاں ہر دوسرا اپنی ریاست بنالیتا ھے ہم نے لاکھوں نہیں کڑوروں میں یہ جائیداد خریدی ہیں کسی سے چھینی نہیں اور قانونی تمام تقاضے بھی پورے کیئے تمام ٹیکس بھی ادا کیئے پھر ہم جیسے سول لائز شہری ذہنی مالی اذیت و نقصان سے کب تک متاثر ھوتے رہیں گے کیا آئین میں ایک پرامن شہری کی تحافظ حکومت اور ریاست کی ذمہداری نہیں۔ شہریوں کا کہنا ھے کہ ہمیں انصاف کون دیگا ہمارا نقصان کون دیگا اگر اس عمل پر خاموشی اختیار کی گئی تو پاکستان کبھی بھی ترقی نہیں کرسکے گا یہ قوم پرست جماعتیں آزادانہ طور پر دہشتگردی پھیلاتے رہیں گے ہم آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف فوجداری کیس عائد کیئے جائیں اگر انکے جائز مطالبے تھے تو یہ عدالت کے ذریعے انصاف طلب کرتے یہ عمل کھلی دہشتگردی ھے جو یقیناً آئین کے خلاف ھے۔ آرمی چیف کہتے ہیں کہ وہ آئین کیساتھ کھڑے ہیں تو ہم درخواست کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کھڑےھوجائیں کیونکہ اس ملک میں سیاستدانوں سے نہ کبھی انصاف ملا ھے نہ مل سکے گا اسی لیئے ھم بحریہ ٹاؤن کے شہری آپ دونوں آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
